تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 42

اَمۡ یُرِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ؕ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہُمُ الۡمَکِیۡدُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾
یا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ تو جن لوگوں نے کفر کیا وہی چال میں آنے والے ہیں۔ En
کیا یہ کوئی داؤں کرنا چاہتے ہیں تو کافر تو خود داؤں میں آنے والے ہیں
En
کیا یہ لوگ کوئی فریب کرنا چاہتے ہیں؟ تو یقین کرلیں کہ فریب خورده کافر ہی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ یُرِیْدُوْنَ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَیْدًا کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {أم يريدون}: بقدحِهِم فيك وفيما جئتَ به {كيداً}: يُبْطلونَ به دينَك، ويفسدون به أمرَك. {فالذين كفروا هُمُ المَكيدونَ}؛ أي: كيدُهم في نحورهم، ومضرَّته عائدةٌ إليهم، وقد فعل الله ذلك، ولله الحمد، فلم يُبْقِ الكفارُ من مقدورهم من المكر شيئاً إلاَّ فعلوه، فنصر الله نبيَّه عليهم، وأظهر دينَه ، وخَذَلَهُم وانتصر منهم.