تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 40

اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ اَجۡرًا فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ﴿ؕ۴۰﴾
یا تو ان سے کوئی اجرت مانگتا ہے؟ پس وہ تاوان سے بوجھل کیے جانے والے ہیں ۔ En
(اے پیغمبر) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے
En
کیا تو ان سے کوئی اجرت طلب کرتا ہے کہ یہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ تَسْـَٔؔلُهُمْ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجْرًا تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم تسألُهُم}: يا أيُّها الرسولُ، {أجراً}: على تبليغ الرسالة، {فهم من مَغْرَمٍ مُثْقَلونَ}: ليس الأمر كذلك، بل أنت الحريص على تعليمهم تبرُّعاً من غير شيء، بل تبذلُ لهم الأموالَ الجزيلة على قَبول رسالتك والاستجابة لأمرِك ودعوتك ، وتعطي المؤلَّفة قلوبهم؛ ليتمكَّن العلم والإيمان من قلوبهم.