تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان کے رب کے ہاں ان کی سب سے بڑی تکریم یہ ہو گی کہ وہ ایک دوسرے کا اکرام کریں گے۔ بے شک وہ ﴿سُرُرٍ ﴾”تختوں“ پر ہونگے۔ یہ بلند بیٹھنے کی جگہیں ہوں گی جو خوبصورت اور منقش کپڑوں سے آراستہ کی گئی ہوں گی، اہل ایمان راحت، اطمینان اور فرحت کے ساتھ وہاں تکیے لگا کر بیٹھیں گے ﴿مُّتَقٰبِلِیْ٘نَ ﴾”ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔“ ان کے دل ہر قسم کی کدورت سے پاک ہوں گے، ان کی آپس کی محبت پاک ہو گی اور وہ اس اجتماع پر آپس میں خوش ہوں گے کیونکہ چہروں کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا، دلوں کے ایک دوسرے کے سامنے ہونے اور ایک دوسرے کا ادب کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیریں گے نہ پہلوتہی کریں گے بلکہ وہاں کامل ادب اور سرور ہو گا جس پر چہروں کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا دلالت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن كرامتهم عند ربِّهم وإكرام بعضهم بعضاً أنَّهم على {سُرُرٍ}: وهي المجالس المرتفعةُ المزينة بأنواع الأكسيةِ الفاخرةِ المزخرفة المجملة؛ فهم مُتَّكئونَ عليها على وجهِ الراحةِ والطُّمأنينة والفرح، {متقابلينَ}: فيما بينَهم، قد صَفَتْ قلوبُهم ومحبتُهم فيما بينَهم، ونَعِموا باجتماع بعضهم مع بعض؛ فإنَّ مقابلة وجوههم تدلُّ على تقابل قلوبهم وتأدُّب بعضهم مع بعض، فلم يستدبِرْه أو يجعَلْه إلى جانبه، بل من كمال السرور والأدب ما دلَّ عليه ذلك التقابل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔