تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 5

مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۵﴾
جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو تو بے شک اللہ کا مقرر وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
جو شخص خدا کی ملاقات کی اُمید رکھتا ہو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
En
جسے اللہ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقیناً آنے واﻻ ہے، وه سب کچھ سننے واﻻ، سب کچھ جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے اپنے رب کے ساتھ محبت کرنے والے! اس کے قرب اور اس کی ملاقات کا اشتیاق رکھنے والے! اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر بھاگ دوڑ کرنے والے! اپنے محبوب کی ملاقات کے وقت کے قریب آنے پر خوش ہو جا کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہوتا ہے۔ اپنے محبوب کی ملاقات کے لیے زادراہ لے کر، امید کو اپنا ساتھی بنا کر اور محبوب کے وصل کی آرزو کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہو جا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يعني: يا أيُّها المحبُّ لربِّه، المشتاق لقربه ولقائه، المسارع في مرضاته! أبشِرْ بقرب لقاء الحبيب؛ فإنَّه آتٍ، وكل ما هو آتٍ قريب ، فتزوَّد للقائِهِ، وسِرْ نحوَه مستصحباً الرجاء مؤمِّلاً الوصول إليه.