ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 5

مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۵﴾
جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو تو بے شک اللہ کا مقرر وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
جو شخص خدا کی ملاقات کی اُمید رکھتا ہو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
En
جسے اللہ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقیناً آنے واﻻ ہے، وه سب کچھ سننے واﻻ، سب کچھ جاننے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ جو شخص اللہ تعالیٰ [5] سے ملنے کی توقع رکھتا ہے تو اللہ کا مقرر کردہ وقت آنے ہی والا ہے اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
[5] اور جو لوگ دین اسلام کی سربلندی کے لئے ہر طرح کے مصائب و مشکلات بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں اس توقع پر کہ موت کے بعد یقیناً انھیں ان باتوں کا اجر ملنے والا ہے تو انھیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان کی موت کا وقت آنے ہی والا ہے۔ دنیا کی زندگی بس چند روزہ زندگی ہے۔ اس کے بعد یقیناً ان کی اللہ سے ملاقات ہو گی اور انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ کیونکہ ان کے تمام اعمال و اقوال اللہ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔