ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 5

مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۵﴾
جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو تو بے شک اللہ کا مقرر وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
جو شخص خدا کی ملاقات کی اُمید رکھتا ہو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
En
جسے اللہ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقیناً آنے واﻻ ہے، وه سب کچھ سننے واﻻ، سب کچھ جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) {مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ …:} اس آیت میں ایمان والوں کے لیے خوش خبری ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے وہ اس چند روزہ آزمائش پر صبر کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کرے، تو اس کی امید ضرور پوری ہو گی، کیونکہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ بندے کی دعا کو اور اس کے عمل کو بلکہ کائنات کی ہر آواز اور ہر کام کو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ قرآن مجید میں دو قسم کے لوگ بیان ہوئے ہیں، ایک وہ جو قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتے ہیں، ان کا اس آیت میں ذکر ہے اور سورۂ کہف کی آخری آیت میں بھی، فرمایا: «{ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا ‏‏‏‏ [الکہف: ۱۱۰] پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔ دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید اور اس کا شوق رکھنے والے کو خوش خبری ہو کہ اس کی امید ضرور پوری ہو گی اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو وقت مقرر کر رکھا ہے وہ ضرور آنے والا ہے۔ اس لیے اسے چاہیے کہ اس وقت سے پہلے ملنے والی مہلت سے فائدہ اٹھا کر اخلاص کے ساتھ اپنے رب کو راضی کرنے والے صالح اعمال کر لے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ أَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللّٰهِ كَرِهَ اللّٰهُ لِقَاءَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ لَيْسَ ذَاكَ وَلٰكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللّٰهِ وَكَرَامَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ وَأَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللّٰهِ وَ عُقُوْبَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ كَرِهَ لِقَاءَ اللّٰهِ وَ كَرِهَ اللّٰهُ لِقَاءَهُ] [بخاري، الرقاق، باب من أحب لقاء اللہ أحب اللہ لقاءہ: ۶۵۰۷] جو شخص اللہ کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات ناپسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات ناپسند کرتا ہے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنھا یا آپ کی کسی اور بیوی نے کہا: ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات نہیں، بلکہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی اور اس کے باعزت ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اسے اس سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی جو اس کے آگے آنے والی ہے اور جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اسے اس سے زیادہ ناپسندیدہ چیز کوئی نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہے تو وہ اللہ کی ملاقات ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات ناپسند کرتا ہے۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی دعا نماز میں پڑھی، جس میں اللہ تعالیٰ سے کئی چیزیں مانگی گئی ہیں، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: [وَ أَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلٰی وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِكَ فِيْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ] [نسائي، السھو، نوع آخر: ۱۳۰۶](اے اللہ!) اور میں تجھ سے تیرے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، کسی تکلیف کے بغیر جو نقصان پہنچانے والی ہے اور کسی فتنے کے بغیر جو گمراہ کرنے والا ہے۔
لوگوں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی نہ امید رکھتا ہے نہ شوق، ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَ (7) اُولٰٓىِٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [یونس: ۷، ۸] بے شک وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ لوگ جو ہمار ی آیات سے غافل ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5-1یعنی جسے آخرت پر یقین ہے اور وہ اجر وثواب کی امید پر اعمال صالحہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی امیدیں بر لائے گا اور اسے اس کے عملوں کی مکمل جزاء عطا فرمائے گا، کیونکہ قیامت یقینا برپا ہو کر رہے گی اور اللہ کی عدالت ضرور قائم ہوگی۔ -5-2وہ بندوں کی باتوں اور دعاؤں کا سننے والا اور ان کے پیچھے اور ظاہر سب عملوں کو جاننے والا ہے اسکے مطابق وہ جزا اور سزا بھی یقینا دے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ جو شخص اللہ تعالیٰ [5] سے ملنے کی توقع رکھتا ہے تو اللہ کا مقرر کردہ وقت آنے ہی والا ہے اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
[5] اور جو لوگ دین اسلام کی سربلندی کے لئے ہر طرح کے مصائب و مشکلات بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں اس توقع پر کہ موت کے بعد یقیناً انھیں ان باتوں کا اجر ملنے والا ہے تو انھیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان کی موت کا وقت آنے ہی والا ہے۔ دنیا کی زندگی بس چند روزہ زندگی ہے۔ اس کے بعد یقیناً ان کی اللہ سے ملاقات ہو گی اور انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ کیونکہ ان کے تمام اعمال و اقوال اللہ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نیکیوں کی کوشش ٭٭

جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے۔ اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا نام ہی نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا رہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہرحال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ ان کی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے۔ ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔
’ وہ ظلم سے پاک ہے، نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [4-النساء:40]‏‏‏‏
ایمانداروں کی سنت کے مطابق نیکیاں قبول فرماتا ہے۔ ان کے گناہوں سے درگزر کر لیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ عطا فرماتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے اپنے رب کے ساتھ محبت کرنے والے! اس کے قرب اور اس کی ملاقات کا اشتیاق رکھنے والے! اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر بھاگ دوڑ کرنے والے! اپنے محبوب کی ملاقات کے وقت کے قریب آنے پر خوش ہو جا کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہوتا ہے۔ اپنے محبوب کی ملاقات کے لیے زادراہ لے کر، امید کو اپنا ساتھی بنا کر اور محبوب کے وصل کی آرزو کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہو جا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يعني: يا أيُّها المحبُّ لربِّه، المشتاق لقربه ولقائه، المسارع في مرضاته! أبشِرْ بقرب لقاء الحبيب؛ فإنَّه آتٍ، وكل ما هو آتٍ قريب ، فتزوَّد للقائِهِ، وسِرْ نحوَه مستصحباً الرجاء مؤمِّلاً الوصول إليه.