تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 4

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّسۡبِقُوۡنَا ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۴﴾
یا ان لوگوں نے جو برے کام کرتے ہیں، یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔ En
کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے۔ جو خیال یہ کرتے ہیں برا ہے
En
کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وه ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں گے، یہ لوگ کیسی بری تجویزیں کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی کیا ان لوگوں نے، جن کے ارادوں پر جرائم کا ارتکاب اور برے افعال غالب ہیں، یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کے اعمال کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں عنقریب غافل ہو جائے گا یا وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل بھاگیں گے۔ اسی لیے وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور ان کے لیے ان گناہوں پر عمل کرنا بہت آسان اور سہل ہے؟ ﴿سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ یعنی ان کا فیصلہ بہت برا ہے، یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے انکار کو متضمن ہے نیز ان کے اس دعوے کو متضمن ہے کہ ان میں اتنی طاقت اور قدرت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکیں حالانکہ وہ سب سے کمزور اور سب سے عاجز مخلوق ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أحسبَ الذين همُّهم فعلُ السيئات وارتكابُ الجنايات أنَّ أعمالهم ستُهْمَلُ وأنَّ الله سيغفل عنهم أو يفوتونه؛ فلذلك أقدموا عليها وسَهُلَ عليهم عملها؟! {ساء ما يحكمونَ}؛ أي: ساء حكمهم؛ فإنَّه حكمٌ جائرٌ لتضمُّنه إنكار قدرة الله وحكمتِهِ، وأنَّ لديهم قدرةً يمتنعون بها من عقاب الله، وهم أضعفُ شيء وأعجزه.