تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿بَلْ ﴾”بلکہ“ یہ قرآن کریم ﴿اٰیٰتٌۢبَیِّنٰتٌ ﴾”واضح آیات ہیں“ نہ کہ مخفی ﴿فِیْصُدُوْرِالَّذِیْنَاُوْتُواالْعِلْمَ﴾”ان لوگوں کے سینوں میں جو علم دیے گئے ہیں۔“ یہ لوگ تمام مخلوق کے سردار، ان کے زیادہ عقل و خرد رکھنے والے اور کامل لوگ ہیں۔ جب ان آیات بینات نے اس قسم کے اصحاب خرد کے سینوں کو منور کر رکھا ہے تو دوسروں پر تو بدرجہ اولیٰ حجت ہیں اور دوسرے لوگ انکار کر کے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور یہ انکار ظلم کے سوا کچھ نہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَایَجْحَدُبِاٰیٰتِنَاۤاِلَّاالظّٰلِمُوْنَ ﴾ یعنی ان آیات کا انکار ایک جاہل شخص ہی کر سکتا ہے جو علم کے بغیر بحث کرتا ہے اور اہل علم اور ان لوگوں کی اقتدا نہیں کرتا جو اس کی حقیقت کی معرفت رکھتے ہیں یا ان آیات کا انکار وہ لوگ کرتے ہیں جو حق کو جان کر اس سے عناد رکھتے ہیں اور اس کی صداقت کو پہچان کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: بل هذا القرآن {آياتٌ بيناتٌ}: لا خفيَّاتٌ {في صدور الذين أوتوا العلم}: وهم سادةُ الخلق وعقلاؤُهم، وأولو الألباب منهم والكُمَّل منهم، فإذا كان آياتٍ بيناتٍ في صدور أمثال هؤلاء؛ كانوا حجَّة على غيرهم، وإنكارُ غيرهم لا يضرُّ، ولا يكون ذلك إلاَّ ظلماً، ولهذا قال: {وما يجحدُ بآياتنا إلا الظَّالمونَ}: لأنَّه لا يجحَدُها إلاَّ جاهلٌ، تكلَّم بغير علم، ولم يقتدِ بأهل العلم، وهو متمكِّن من معرفته على حقيقته، وإمَّا متجاهلٌ عرف أنه حقٌّ فعانَدَه، وعرفَ صدقَه فخالَفه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔