تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 48

وَ مَا کُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔ En
اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے
En
اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے اور نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک وشبہ میں پڑتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا یعنی آپ پڑھ نہیں سکتے تھے ﴿مِنْ قَبْلِهٖ٘ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے، اگر ایسا ہوتا۔ یعنی اگر آپ کا یہ حال ہوتا کہ آپ لکھ پڑھ سکتے ہوتے ﴿لَّارْتَابَ الْ٘مُبْطِلُوْنَ تو اہل باطل ضرور شک کرتے اور کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام چیزیں پچھلی کتابوں سے پڑھی ہیں یا وہاں سے نقل کی ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے قلب پر ایک جلیل القدر کتاب نازل فرمائی۔ اس جیسی کتاب لانے یا اس جیسی ایک سورت ہی بنا لانے کے لیے بڑے بڑے فصیح و بلیغ اور جھگڑالو دشمنوں کو مقابلے کی دعوت دی گئی مگر وہ بالکل عاجز آ گئے بلکہ اس کی فصاحت و بلاغت کو دیکھ کر انھوں نے اس کا مقابلہ کرنے کا خیال بھی دل سے نکال دیا کہ کسی بشر کا کلام اس کا مقابلہ کر سکتا ہے نہ اس کی برابری۔ اس لیے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {وما كنتَ تتلو}؛ أي: تقرأ {من قبلِهِ من كتاب ولا تَخُطُّه بيمينك إذاً}: لو كنت بهذه الحال {لارتابَ المبطِلونَ}: فقالوا تَعَلَّمَهُ من الكتبِ السابقة أو استنسخه منها، فأمَّا وقد نزل على قلبك كتاباً جليلاً تحدَّيْتَ به الفصحاءَ والبلغاءَ الأعداءَ الألدَّاءَ أنْ يأتوا بمثلِهِ أو بسورةٍ من مثله، فعَجَزوا غايةَ العجزِ، بل ولا حدَّثتهم أنفسهم بالمعارضة؛ لعلمهم ببلاغتِهِ وفصاحتِهِ، وأنَّ كلام أحدٍ من البشر لا يبلغ أن يكون مجارياً له أو على منواله، ولهذا قال: