تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 50

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۵۰﴾
اور انھوں نے کہا اس پر اس کے رب کی طرف سے کسی قسم کی نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں، کہہ دے نشانیاں تو سب اللہ ہی کے پاس ہیں اورمیں تو صرف ایک کھلم کھلا ڈرانے والاہوں۔ En
اور (کافر) کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
En
انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں (معجزات) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کتاب عظیم لے کر آئے تو ان ظالموں نے اعتراض کیا اور معینہ معجزات کے نزول کا مطالبہ کیا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَقَالُوْا لَ٘نْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبـُوْعًا (بنی اسراء یل:17؍90) اور انھوں نے کہا: ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو زمین کو پھاڑ کر ہمارے لیے پانی کا ایک چشمہ جاری نہ کر دے۔ معجزات و آیات کا تعین ان کے بس کی بات ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی تدابیر ہیں اور کسی کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ کہہ دیجیے! معجزات تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔ پس اگر وہ چاہے تو یہ آیات نازل کر دے اور نہ چاہے تو روک دے۔ ﴿وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ اور میں تو صرف کھلا خبردار کرنے والا ہوں اور اس سے زیادہ میرا کوئی مرتبہ نہیں۔
مقصد تو باطل سے حق کو واضح کرنا ہے۔ جب کسی بھی طریقے سے مقصد حاصل ہو گیا تو معین معجزات کا مطالبہ کرنا ظلم و جور، اللہ تعالیٰ اور حق کے ساتھ تکبر اور عناد ہے، بلکہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات و معجزات کو نازل کرنے پر قادر ہوتے اور ان کے دلوں میں یہ بات ہوتی کہ وہ ان معجزات کے بغیر حق کو نہیں مانیں گے، تو یہ حقیقی ایمان نہیں بلکہ ایک ایسی چیز ہے جو ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہے اس لیے وہ ایمان لے آئے۔ وہ اس لیے ایمان نہیں لائے کہ وہ حق ہے بلکہ اس لیے ایمان لائے ہیں کہ ان کا معجزے کا مطالبہ پورا ہو گیا۔ فرض کیا اگر ایسا ہی ہو تو معجزات نازل کرنے کا کون سا فائدہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: واعترض هؤلاء الظالمون المكذِّبون للرسول ولما جاء به، واقترحوا عليه نزول آياتٍ عيَّنوها؛ كقولهم: {وقالوا لن نؤمنَ لك حتى تَفْجُرَ لنا من الأرضِ يَنبوعاً ... } الآيات، فتعيين الآياتِ ليس عندَهم ولا عندَ الرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنَّ في ذلك تدبيراً مع اللَّه، وأنَّه لو كان كذا، وينبغي أن يكون كذا، وليس لأحدٍ من الأمر شيءٌ، ولهذا قال: {قلْ إنَّما الآياتُ عند الله}: إنْ شاء أنْزَلَها أو منعها، {وإنَّما أنا نذيرٌ مبينٌ}: وليس لي مرتبة فوق هذه المرتبة. وإذا كان القصدُ بيانَ الحقِّ من الباطل؛ فإذا حصل المقصود بأيِّ طريق كان؛ كان اقتراحُ الآيات المعيَّنات على ذلك ظلماً وجوراً وتكبُّراً على الله وعلى الحق، بل لو قُدِّرَ أن تنزِلَ تلك الآياتُ ويكونَ في قلوبهم أنَّهم لا يؤمنون بالحقِّ إلاَّ بها؛ كان ذلك ليس بإيمان، وإنما ذلك شيء وافقَ أهواءهم، فآمنوا لا لأنَّه حقٌّ، بل لتلك الآيات؛ فأيُّ فائدة حصلت في إنزالها على التقدير الفرضيِّ؟