ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 49

بَلۡ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
بلکہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر جو ظالم ہیں۔ En
بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے اُن کے سینوں میں (محفوظ) اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں
En
بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں، ہماری آیتوں کا منکر بجز ﻇالموں کے اور کوئی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) ➊ { بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ:} یعنی یہ قرآن پہلی کتابوں کو پڑھ کر تصنیف کی ہوئی کتاب نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے۔ جس میں دو نمایاں اوصاف ہیں، ایک یہ کہ یہ آیات بینات ہیں، یعنی ایسا واضح معجزہ ہیں جن کا جواب نہ کوئی لا سکا ہے نہ لا سکے گا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [البقرۃ: ۲۳] اور اگر تم اس کے بارے میں کسی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے تو اس کی مثل ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے حمایتی بلا لو، اگر تم سچے ہو۔ دوسرا وصف یہ کہ پہلی تمام کتابیں کسی نہ کسی چیز میں لکھی ہوئی تھیں اور انھیں صرف لکھ کر محفوظ کیا گیا تھا، جب کہ یہ قرآن اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہے۔ اگرچہ اسے لکھا بھی گیا ہے مگر یہ لکھے ہوئے کا محتاج نہیں اور یہ قرآن مجید کی خصوصیت ہے کہ اسے لانے والا اُمّی ہے، جو لکھے ہوئے سے پڑھتا ہی نہیں، بلکہ یہ کتاب اس کے سینے میں ہے اور یہ ہر دور میں امت مسلمہ کے لاکھوں حفاظ کے سینوں میں محفوظ ہوتی ہے، کوئی شخص اس کے کسی لفظ یا نقطے یا زیر زبر میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔ اگر دنیا سے اس کے تمام نسخے بھی غائب کر دیے جائیں، تو بھی اس کی حفاظت میں کوئی خلل نہیں آتا۔ جب کہ پہلی تمام کتابوں کا دارومدار لکھے ہوئے نسخوں پر تھا اور پیغمبر یا ایک آدھ شخص کے سوا ان کا کوئی حافظ ہونا ثابت نہیں۔ اس لیے ان میں کمی بیشی اور تحریف و تصحیف ممکن تھی اور واقع بھی ہوئی، جیسا کہ بائبل میں جمع شدہ نوشتے اس کی واضح دلیل ہیں:
نہ ہو ممتاز کیوں اسلام دنیا بھر کے دینوں میں
وہاں مذہب کتابوں میں یہاں قرآن سینوں میں
➋ {وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ:} یعنی اتنی واضح نشانیاں دیکھ کر اور ان کے حق ہونے کا علم رکھنے کے بعد ان کا انکار وہی کریں گے جو ظالم ہیں اور قرآن کو ماننے اور حق والے کو اس کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49-1یعنی قرآن مجید کے حافظوں کے سینوں میں ہے۔ یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ قرآن مجید لفظ بہ لفظ سینے میں محفوظ ہوجاتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ بلکہ وہ (قرآن) تو واضح آیات ہیں [81] جو ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے۔ اور ہماری آیات سے بے انصاف لوگوں کے سوا کوئی انکار نہیں کرتا۔
[81] قرآن کے علاوہ آپ کی ذات بھی کئی واضح معجزات کا مجموعہ تھی:۔
اس آیت کے دو مطلب ہیں اگر ھُوَ کی ضمیر کو قرآن کی طرف راجع قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ قرآن کی آیات بڑے واضح دلائل پر مشتمل ہیں۔ اور یہ آیات اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں۔ یعنی اہل علم نے ان آیات کو حفظ یا ازبر کر لیا ہے۔ اور یہ قرآن اسی طرح سینہ بہ سینہ اہل علم میں منتقل ہوتا جائے گا۔ اور یہ قرآن کی ایسی ناقابل تردید صفت ہے جو ابتدائے اسلام سے آج تک اور آئندہ بھی تاقیامت ہر شخص مشاہدہ کر سکتا ہے اور کرتا رہے گا۔ ہر دور میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد حافظ قرآن رہی ہے۔ اور یہی قرآن کی اعجازی حیثیت اور اس کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ قرآن کی حفاظت کا دوسرا ذریعہ کتابت قرآن ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظت قرآن کے پہلے ذریعہ حفظ پر ہی نسبتاً زیادہ توجہ مبذول فرمائی تھی۔ (اکثر مفسرین نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے) اب قرآن کے مقابلہ میں دوسری الہامی کتابوں کو دیکھئے ان کا شاذ و نادر ہی آپ کو کوئی حافظ نظر آئے گا جیسے حضرت عزیرؑ کے متعلق منقول ہے کہ وہ تورات کے حافظ تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ھو کی ضمیر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف راجع قرار دیا جائے اور یہ تفسیر اس لحاظ سے راجح ہے کہ ربط مضمون اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اہل علم اور اہل دانش و بینش کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے ثبوت میں ایک نہیں بلکہ بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ وہ اس طرح کہ دنیا میں جتنے بھی نامور شخص گزرے ہیں۔ ان کی شخصیت بنانے والے عوامل کا تاریخ سے پتہ لگایا جا سکتا ہے مگر یہاں یہ بات یکسر مفقود نظر آتی ہے۔ مثلاً تمام مخالفین اسلام یعنی قریش مکہ جانتے تھے کہ آپ لکھنا پڑھنا تک نہیں جانتے تھے۔ علم ادب عربی سے یا تاریخ امم سے واقف ہونا تو دور کی بات ہے۔ لیکن آپ نے جو کلام پیش کیا۔ بار بار کے چیلنج کے باوجود عرب بھر کے فصحاء اور بلغاء اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز رہ گئے تھے۔ اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ آپ فن حرب و ضرب سے قطعاً نابلد تھے۔ نہ ہی آپ کسی جرنیل کے یا فوجی کے حتیٰ کہ سپاہی کے گھر بھی پیدا نہ ہوئے تھے لیکن جب میدان جہاد میں فوجی لشکر کی قیادت آپ نے سنبھالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی جنگی تدابیر اختیار کیں کہ تمام جہانوں کے جرنیلوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ غرضیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو ایسے ہی حیران کن کمالات کا مجموعہ ہے۔ جن کے اسباب و عوامل تلاش کرنے پر دور تک کہیں نظر نہیں آتے۔ یہی وہ واضح نشانیاں ہیں جو آپ کی رسالت کا بین ثبوت ہیں۔ اور ان کا انکار کوئی کٹر متعصب ہی کر سکتا ہے۔ جبکہ اہل علم آپ کی ان خوبیوں کے دل و جان سے معترف ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب

پھر فرماتا ہے: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان میں مدت العمر تک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف وتالیف کر نہیں سکتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرأت ناقل ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ‌» ۱؎ [7-الأعراف:157]‏‏‏‏ یعنی ’ جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ ‘
لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کیا معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کر لئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضرورت کے وقت شاہان دنیا سے خط وکتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابوالولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ «ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدُاللہَ» یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ { «ثُمَّ اَخَذَ فَکَتَبَ» یعنی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لے کر لکھا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2698-2699]‏‏‏‏ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ «ثُمَّ اَمَرَ فَکُتِبَ» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق و مغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی رحمہ اللہ وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھ لینا آپ کا ایک معجزہ تھا۔
جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا }
اور ایک روایت میں ہے کہ { ک ف ر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا } ۱؎ [صحیح بخاری:7131]‏‏‏‏ یعنی اگرچہ ان پڑھ ہو، تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہو گی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بے اصل ہے۔

قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے۔ کس قدر تاکید کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھنا جانتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی طرح «وَلَا طَائِرٍيَطِيرُبِجَنَاحَيْهِ» ۱؎ [6-الأنعام:38]‏‏‏‏ میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شک کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کر لیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگاتے ہیں ’ اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح و شام پڑھی جاتی ہیں۔ ‘ ۱؎ [25-الفرقان:5]‏‏‏‏
باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اِسمہُ نے فرمایا: ’ انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ ‘ ۱؎ [25-الفرقان:6]‏‏‏‏
یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِفَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌» ۱؎ [54-القمر:17]‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے بالکل آسان بنا دیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے؟ ‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4981]‏‏‏‏
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اے نبی! میں تمہیں آزماؤں گا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلوں گا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865-63]‏‏‏‏
مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے: { اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:155/4:حسن]‏‏‏‏ اس لیے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ «اِنَّا جِیْلُھُمْ فِیْْ صُدُوْرِھِمْ» ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہو گی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔
قتادۃ اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری رحمہ اللہ کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور یہ ضحاک رحمہ اللہ نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گزرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے: ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آ جائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کر لیں۔ ‘ ۱؎ [10-يونس:96-97]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿بَلْ بلکہ یہ قرآن کریم ﴿اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ واضح آیات ہیں نہ کہ مخفی ﴿فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ان لوگوں کے سینوں میں جو علم دیے گئے ہیں۔ یہ لوگ تمام مخلوق کے سردار، ان کے زیادہ عقل و خرد رکھنے والے اور کامل لوگ ہیں۔ جب ان آیات بینات نے اس قسم کے اصحاب خرد کے سینوں کو منور کر رکھا ہے تو دوسروں پر تو بدرجہ اولیٰ حجت ہیں اور دوسرے لوگ انکار کر کے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور یہ انکار ظلم کے سوا کچھ نہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ یعنی ان آیات کا انکار ایک جاہل شخص ہی کر سکتا ہے جو علم کے بغیر بحث کرتا ہے اور اہل علم اور ان لوگوں کی اقتدا نہیں کرتا جو اس کی حقیقت کی معرفت رکھتے ہیں یا ان آیات کا انکار وہ لوگ کرتے ہیں جو حق کو جان کر اس سے عناد رکھتے ہیں اور اس کی صداقت کو پہچان کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: بل هذا القرآن {آياتٌ بيناتٌ}: لا خفيَّاتٌ {في صدور الذين أوتوا العلم}: وهم سادةُ الخلق وعقلاؤُهم، وأولو الألباب منهم والكُمَّل منهم، فإذا كان آياتٍ بيناتٍ في صدور أمثال هؤلاء؛ كانوا حجَّة على غيرهم، وإنكارُ غيرهم لا يضرُّ، ولا يكون ذلك إلاَّ ظلماً، ولهذا قال: {وما يجحدُ بآياتنا إلا الظَّالمونَ}: لأنَّه لا يجحَدُها إلاَّ جاهلٌ، تكلَّم بغير علم، ولم يقتدِ بأهل العلم، وهو متمكِّن من معرفته على حقيقته، وإمَّا متجاهلٌ عرف أنه حقٌّ فعانَدَه، وعرفَ صدقَه فخالَفه.