اور اسی طرح ہم نے تیری طرف یہ کتاب نازل کی، پھروہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان (مشرکین) میں سے بھی کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر جو کافر ہیں۔
En
اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اُتاری ہے۔ تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں
اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف اپنی کتاب نازل فرمائی ہے، پس جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه اس پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان (مشرکین) میں سے بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَؔكَذٰلِكَاَنْزَلْنَاۤاِلَیْكَالْكِتٰب ﴾”اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اتاری کتاب“ یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ پر یہ کتاب کریم نازل کی جو ہر بڑی خبر کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے جو ہر خلق حسن اور ہر امر کامل کی طرف دعوت دیتی ہے، جو تمام کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے جن کے بارے میں گزشتہ انبیاء نے خبر دی ہے۔ ﴿فَالَّذِیْنَاٰتَیْنٰهُمُالْكِتٰبَ ﴾”پس جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے“ انھوں نے اسے اس طرح پہچان لیا ہے جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور ان کے ہاں کسی حسد نے مداخلت کی ہے نہ خواہشات نفس نے۔ ﴿یُؤْمِنُوْنَبِهٖ﴾”وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔“ کیونکہ انھیں اس کے برحق اور سچ ہونے کا یقین ہوگیا ہے، اس لیے کہ انھی کی کتابوں میں ایسی باتیں ہیں جو قرآن کے موافق ہیں اور بشارتیں ہیں اور ایسے امور ہیں جن کے ذریعے سے وہ حسن و قبح اور صدق و کذب میں امتیاز کرتے ہیں۔
﴿وَمِنْهٰۤؤُلَآءِ ﴾”اور ان لوگوں میں سے۔“ جو موجود ہیں ﴿مَنْیُّؤْمِنُبِهٖ﴾”ایسے بھی ہیں جو ایمان لاتے ہیں اس کے ساتھ۔“ یعنی جو اس پر رغبت اور خوف کی بنا پر نہیں بلکہ بصیرت کی بنا پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَمَایَجْحَدُبِاٰیٰتِنَاۤاِلَّاالْ٘كٰفِرُوْنَ ﴾”اور صرف کفار ہی ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں“ جن کی فطرت میں انکار حق اور عناد رچا بسا ہوا ہے۔ اس حصر کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنھوں نے اس کا انکار کیا یعنی ان میں سے کسی شخص کا مقصد متابعت حق نہیں۔ ورنہ جس شخص کا مقصد صحیح ہے تو وہ لازمی طور پر ایمان لاتا ہے کیونکہ یہ واضح دلائل پر مشتمل ہے اور ان دلائل کو ہر وہ شخص سمجھ سکتا ہے جو عقل سے بہرہ ور ہے، جو اسے توجہ سے سنتا ہے اور اس کی صداقت پر گواہ بھی ہے۔
اس عظیم کتاب کی صداقت پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ اسے وہ نبی امین لے کر آیا ہے جس کی صداقت اور امانت کا اس کی پوری قوم اعتراف کرتی ہے، جس کے پورے معمولات اور تمام احوال کو اس کی قوم اچھی طرح جانتی ہے وہ اپنے ہاتھ سے لکھ نہیں سکتا بلکہ وہ تو لکھا ہوا پڑھ نہیں سکتا۔ اس صورت حال میں ایک کتاب پیش کرنا سب سے بڑی اور قطعی دلیل ہے، جس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وكذلك أنزَلْنا إليك}: يا محمدُ، هذا {الكتاب} الكريم، المبيِّنَ كلَّ نبأ عظيم، الداعي إلى كلِّ خُلُق فاضل وأمرٍ كامل، المصدِّق للكتب السابقة، المخبر به الأنبياء الأقدمون، {فالذين آتَيْناهم الكتابَ}: فعرفوه حقَّ معرفتِهِ ولم يداخِلْهم حسدٌ وهوى، {يؤمنونَ به}: لأنَّهم تيقَّنوا صِدْقَه بما لديهم من الموافقات، وبما عندَهم من البِشارات، وبما تميَّزوا به من معرفة الحسن والقبيح والصدق والكذب. {ومِن هؤلاء}: الموجودين {مَن يؤمنُ به}: إيماناً عن بصيرةٍ لا عن رغبةٍ ولا رهبةٍ، {وما يجحدُ بآياتنا إلاَّ الكافرونَ}: الذين دأبهم الجحودُ للحقِّ والعنادُ له، وهذا حصرٌ لمن كفر به؛ أنَّه لا يكون من أحدٍ قصدُهُ متابعةُ الحقِّ، وإلاَّ؛ فكلُّ مَنْ له قصدٌ صحيحٌ؛ فإنَّه لا بدَّ أن يؤمنَ به؛ لما اشتمل عليه من البيناتِ لكلِّ مَنْ له عقلٌ أو ألقى السمع وهو شهيدٌ. ومما يدلُّ على صحتِهِ أنَّه جاء به هذا النبيُّ الأمين، الذي عَرَفَ قومُه صدقَه وأمانتَه ومدخلَه ومخرجَه وسائرَ أحواله، وهو لا يكتبُ بيده خطًّا، بل ولا يقرأ خطًّا مكتوباً، فإتيانُه به في هذه الحال من أظهر البينات القاطعة التي لا تقبلُ الارتياب أنَّه من عند الله العزيز الحميد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔