تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 46

وَ لَا تُجَادِلُوۡۤا اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ٭ۖ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ وَ قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ اِلٰـہُنَا وَ اِلٰـہُکُمۡ وَاحِدٌ وَّ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۴۶﴾
اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، مگر وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا اور کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور تمھاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا معبود اور تمھارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ En
اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو۔ ہاں جو اُن میں سے بےانصافی کریں (اُن کے ساتھ اسی طرح مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں
En
اور اہل کتاب کے ساتھ بحﺚ ومباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمده ہو مگر ان کے ساتھ جو ان میں ﻇالم ہیں اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جو ہم پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی، ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ہم سب اسی کے حکم برادر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ اہل کتاب سے ایسی بحث کرنے سے روکتا ہے جو بصیرت کی بنیاد پر اور کسی مسلمہ قاعدے کے مطابق نہ ہو، نیز اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ جب بھی اہل کتاب سے بحث کریں تو احسن انداز، حسن اخلاق اور نرم کلامی سے ان کے ساتھ بحث کریں اور دعوت اسلام بہترین طریقے سے پیش کریں اور باطل کو قریب ترین ذریعے سے رد کریں۔ اس بحث کا مقصد محض جھگڑنا اور مدمقابل پر غلبہ حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد تبیین حق اور مخلوق کی ہدایت ہو۔
اہل کتاب میں سے ایسے آدمی کے سوا جس نے اپنے اس ارادے اور حالت کا اظہار کرکے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اس کے بحث کرنے کا مقصد وضاحت حق نہیں بلکہ وہ تو صرف غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسے شخص کے ساتھ بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس سے بحث کرنے کا مقصد ضائع ہو جائے گا۔
﴿وَقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَاُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَاِلٰهُنَا وَاِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمھارا معبود ایک ہی ہے۔ یعنی اہل کتاب کے ساتھ تمھاری بحث اور مناظرے کی بنیاد اس کتاب پر ہونی چاہیے جو تم پر نازل ہوئی ہے اور جو ان پر نازل ہوئی ہے نیز تمھارے رسول اور ان کے رسول پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے پر ایمان اس بحث و مناظرے کی اساس ہو۔ ان کے ساتھ اس طریقے سے بحث کریں جس سے کتب الٰہیہ اور انبیاء و مرسلین میں جرح و قدح لازم نہ آتی ہو جیسا کہ مناظرہ و بحث کے وقت جہلاء کا وتیرہ ہے۔ جہلاء اپنے مدمقابل کی حق اور باطل، ہر بات میں جرح و قدح کرتے ہیں۔ یہ طریقۂ بحث ظلم، واجب کو نظرانداز کرنا اور آداب مناظرہ کی حدود سے تجاوز ہے کیونکہ واجب یہ ہے کہ مخالف کے باطل نظریات کو رد کیا جائے اور اس کی حق باتوں کو قبول کیا جائے۔ اپنے موقف کو حق ثابت کرنے کے لیے مخالف کی حق بات کو کبھی رد نہ کیا جائے خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، نیز اہل کتاب کے ساتھ اس نہج پر مناظرہ کرنے سے ان پر قرآن اور قرآن کے لانے والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار لازم آتا ہے۔ کیونکہ جب وہ ان اصول دینیہ پر بحث کرے گا جن پر تمام انبیاء ورسل اور کتب الٰہیہ متفق ہیں، مناظرہ کرنے والے دونوں گروہوں کے نزدیک وہ مسلمہ اور اس کے حقائق ثابت شدہ ہیں نیز تمام کتب سابقہ اور انبیاء و مرسلین قرآن اور نبی مصطفی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید کرتے ہیں… یہ کتب الٰہیہ ان حقائق کو واضح کرتی ہیں، ان پر دلالت کرتی ہیں اور ان ہی کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں… تو اس پر تمام کتابوں اور تمام رسولوں کی تصدیق لازم آئے گی اور یہ اسلام کے خصائص میں سے ہے۔
یہ کہنا کہ ہم فلاں کتاب کی بجائے فلاں کتاب کی دلیل کو تسلیم کرتے ہیں، یہی حق ہے جس پر کتب سابقہ دلالت کرتی ہیں تو یہ ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ ان کا یہ قول کتب الٰہیہ کی تکذیب ہے کیونکہ اگر وہ قرآن کی دلیل کی تکذیب کرتا ہے، جو کہ گزشتہ کتب سماویہ کی تصدیق کرتا ہے، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ ان تمام کتب سماویہ کی تکذیب کرتا ہے جن پر ایمان لانے کا وہ دعویدار ہے، نیز ہر وہ طریقہ جس سے کسی بھی نبی کی نبوت ثابت ہوتی ہے تو اسی طریقے سے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت بہتر طور پر ثابت ہوتی ہے۔ ہر وہ شبہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں جرح وقدح کا باعث ہے اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ دیگر انبیاء کی نبوت میں جرح و قدح کا موجب بن سکتا ہے۔ اگر دیگر انبیاء کی نبوت میں اس شبہ کا بطلان ثابت کیا جا سکتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں اس قسم کے شبہات کا بطلان بدرجہ اولیٰ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ ﴿وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے، اسے معبود بناتا ہے، اس کی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لاتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کرتا ہے تو وہ سعادت مند ہے اور جو کوئی اس راستے سے انحراف کرتا ہے وہ بدبخت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ينهى تعالى عن مجادلة أهل الكتاب إذا كانتْ عن غير بصيرةٍ من المجادِلِ أو بغير قاعدة مَرْضِيَّة، وأنْ لا يجادِلوا إلاَّ بالتي هي أحسن؛ بحسن خُلُق ولطفٍ ولينِ كلام ودعوةٍ إلى الحقِّ وتحسينه، وردِّ عن الباطل وتهجينه بأقرب طريقٍ موصل لذلك، وأنْ لا يكون القصدُ منها مجرَّدَ المجادلةِ والمغالبةِ وحبِّ العلو، بل يكونُ القصدُ بيانَ الحقِّ وهداية الخلق، {إلاَّ}: مَنْ ظَلَمَ من أهل الكتاب؛ بأن ظَهَرَ من قصده وحاله أنه لا إرادةَ له في الحقِّ، وإنَّما يجادِلُ على وجه المشاغبة والمغالبة؛ فهذا لا فائدة في جداله؛ لأنَّ المقصود منها ضائع، {وقولوا آمنَّا بالذي أُنزِلَ إلَيْنا وأُنزِلَ إليكُم وإلهُنا وإلهُكم واحِدٌ}؛ أي: ولتكن مجادلتُكم لأهل الكتاب مبنيَّةً على الإيمان بما أنزل إليكم وأنزل إليهم، وعلى الإيمان برسولكم ورسولهم، وعلى أنَّ الإله واحدٌ، ولا تكنْ مناظرتُكم إيَّاهم على وجهٍ يحصُلُ به القدحُ في شيءٍ من الكتب الإلهيَّة أو بأحد من الرسل كما يفعلُه الجهلةُ عند مناظرة الخصوم يقدحُ بجميع ما معهم من حقٍّ وباطلٍ؛ فهذا ظلمٌ وخروجٌ عن الواجب وآداب النظر؛ فإنَّ الواجب أن يُرَدَّ ما مع الخصم من الباطل، ويُقْبَلَ ما معه من الحقِّ، ولا يُرَدُّ الحقُّ لأجل قولِهِ، ولو كان كافراً.

وأيضاً؛ فإنَّ بناء مناظرة أهل الكتاب على هذا الطريق فيه إلزامٌ لهم بالإقرار بالقرآن وبالرسول الذي جاء به؛ فإنَّه إذا تكلَّم في الأصول الدينيَّة والتي اتَّفقت عليها الأنبياءُ والكُتُب وتقرَّرت عند المتناظرين وثبتت حقائقها عندهما وكانت الكتبُ السابقةُ والمرسَلون مع القرآن ومحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - قد بيَّنتها، ودلَّت عليها وأخبرت بها؛ فإنَّه يلزمُ التصديقُ بالكتب كلِّها والرسل كلِّهم، وهذا من خصائص الإسلام، فأمَّا أنْ يُقالَ: نؤمن بما دلَّ عليه الكتابُ الفلانيُّ دون الكتاب الفلانيِّ، وهو الحقُّ الذي صَدَّقَ ما قبله؛ فهذا ظلمٌ وهوى ، وهو يرجِع إلى قوله بالتكذيب؛ لأنَّه إذا كذَّب القرآن الدالَّ عليها المصدق لما بين يديه من التوراة؛ فإنَّه مكذِّب لما زعم أنه به مؤمن. وأيضاً؛ فإنَّ كلَّ طريق تثبت بها نبوَّة أي نبيٍّ كان؛ فإنَّ مثلها وأعظم منها دالَّة على نبوَّة محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، وكلُّ شبهة يُقدح بها في نبوَّة محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنَّ مثلَها أو أعظم منها يمكن توجيهها إلى نبوَّة غيرِهِ؛ فإذا ثبت بطلانُها في غيرِهِ؛ فثبُوت بطلانِها في حقِّه - صلى الله عليه وسلم - أظهرُ وأظهرُ. وقوله: {ونحنُ له مسلمونَ}؛ أي: منقادون مستسلمون لأمرِهِ، ومَنْ آمنَ به واتَّخذه إلهاً وآمنَ بجميع كتبِهِ ورسلِهِ وانقاد لله واتَّبع رسلَه؛ فهو السعيدُ، ومَنِ انحرفَ عن هذا الطريق؛ فهو الشقي.