تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ:} ”جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی “ سے مراد تمام اہل کتاب نہیں، کیونکہ جس نے کتاب پڑھی ہی نہیں یا اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی یا اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور اس میں تحریف و تبدل سے کام لیا تو وہ درحقیقت ان لوگوں میں شامل ہی نہیں جنھیں کتاب دی گئی، کیونکہ انھوں نے اسے اس طرح لیا ہی نہیں جیسے لینا چاہیے تھا۔ یعنی وہ لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی اور وہ فی الواقع اس کا اتباع کرتے ہیں وہ اس کتاب (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں، کیونکہ دونوں کا مضمون اصولی طور پر ایک ہے اور پہلی کتابوں کی کوئی خوبی ایسی نہیں جو اس میں موجود نہ ہو، بلکہ یہ کتاب تو پہلی کتابوں پر مہیمن (نگران) ہے اور یہ زندۂ جاوید معجزہ ہے، تو حقیقی اہلِ کتاب اس پر کیوں ایمان نہیں لائیں گے۔
➌ { وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ:} یعنی ان اہلِ عرب مشرکین میں سے بھی کئی لوگ اس پر ایمان لا رہے ہیں اور لائیں گے، جو حق واضح ہونے کے بعد اسے قبول کرنے والے ہیں۔
➍ { وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ: ” جُحُوْدٌ “} کا معنی کسی بات کا علم ہونے کے باوجود اس کا انکار کر دینا ہے۔ (دیکھیے نمل: ۱۴) جبکہ {”كُفْرٌ“} کا لفظ ایمان کے مقابلے میں آتا ہے، اس کا معنی ناشکری بھی ہے، انکار بھی اور چھپانا بھی۔ (قاموس) {”آيَاتِنَا “} کا لفظی معنی نشانیاں ہیں، مراد قرآن مجید ہے، کیونکہ اس کی تمام آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانیاں اور معجزہ ہیں، جن کے مقابلے کی آیات پوری کائنات پیش نہیں کر سکتی اور اس قدر واضح اور روشن ہیں کہ ان کا انکار ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں کرے گا جو حق کا علم رکھتے ہوئے اسے چھپاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر نازل فرمایا ہے۔
پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور جیسے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اس کے بھی منکر ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وكذلك أنزَلْنا إليك}: يا محمدُ، هذا {الكتاب} الكريم، المبيِّنَ كلَّ نبأ عظيم، الداعي إلى كلِّ خُلُق فاضل وأمرٍ كامل، المصدِّق للكتب السابقة، المخبر به الأنبياء الأقدمون، {فالذين آتَيْناهم الكتابَ}: فعرفوه حقَّ معرفتِهِ ولم يداخِلْهم حسدٌ وهوى، {يؤمنونَ به}: لأنَّهم تيقَّنوا صِدْقَه بما لديهم من الموافقات، وبما عندَهم من البِشارات، وبما تميَّزوا به من معرفة الحسن والقبيح والصدق والكذب. {ومِن هؤلاء}: الموجودين {مَن يؤمنُ به}: إيماناً عن بصيرةٍ لا عن رغبةٍ ولا رهبةٍ، {وما يجحدُ بآياتنا إلاَّ الكافرونَ}: الذين دأبهم الجحودُ للحقِّ والعنادُ له، وهذا حصرٌ لمن كفر به؛ أنَّه لا يكون من أحدٍ قصدُهُ متابعةُ الحقِّ، وإلاَّ؛ فكلُّ مَنْ له قصدٌ صحيحٌ؛ فإنَّه لا بدَّ أن يؤمنَ به؛ لما اشتمل عليه من البيناتِ لكلِّ مَنْ له عقلٌ أو ألقى السمع وهو شهيدٌ. ومما يدلُّ على صحتِهِ أنَّه جاء به هذا النبيُّ الأمين، الذي عَرَفَ قومُه صدقَه وأمانتَه ومدخلَه ومخرجَه وسائرَ أحواله، وهو لا يكتبُ بيده خطًّا، بل ولا يقرأ خطًّا مكتوباً، فإتيانُه به في هذه الحال من أظهر البينات القاطعة التي لا تقبلُ الارتياب أنَّه من عند الله العزيز الحميد.