تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 14

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَلَبِثَ فِیۡہِمۡ اَلۡفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمۡسِیۡنَ عَامًا ؕ فَاَخَذَہُمُ الطُّوۡفَانُ وَ ہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس کم ہزار برس رہا، پھر انھیں طوفان نے پکڑ لیا، اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔ En
اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر اُن کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا۔ اور وہ ظالم تھے
En
اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وه ان میں ساڑھے نو سو سال تک رہے، پھر تو انہیں طوفان نے دھر پکڑا اور وه تھے بھی ﻇالم En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ گزشتہ امتوں کے عذاب کی بابت اپنے حکم اور اپنی حکمت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا، جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے، ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے، بتوں اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے روکتے تھے۔ ﴿فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا پس وہ پچاس برس کم ایک ہزار سال ان کے درمیان رہے وہ نبی کی حیثیت سے ان کو دعوت دینے سے اکتائے نہ ان کی خیرخواہی سے باز آئے وہ رات دن اور کھلے چھپے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے مگر وہ رشدوہدایت کی راہ پر نہ آئے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جمے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے نبی حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بے انتہا صبر، حلم اور تحمل کے باوجود ان کے لیے ان الفاظ میں بددعا کی: ﴿رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْ٘كٰفِرِیْنَ دَیَّارًؔا (نوح:71؍26) اے میرے رب! روئے زمین پر کسی کافر کو بستا نہ چھوڑ۔
﴿ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ پس ان کو طوفان نے آپکڑا۔ یعنی ان کو اس پانی نے (طوفان کی صورت میں) آ لیا جو بہت کثرت سے آسمان سے برسا تھا اور نہایت شدت سے زمین سے پھوٹا تھا۔ ﴿ وَهُمْ ظٰ٘لِمُوْنَ اور وہ ظالم تھے اور اس عذاب کے مستحق تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن حكمِهِ وحكمتِهِ في عقوبات الأمم المكذِّبة، وأنَّ الله أرسل عبده ورسوله نوحاً عليه [الصلاة و] السلام إلى قومه يدعوهم إلى التوحيد وإفراد الله بالعبادةِ والنهي عن الأنداد والأصنام، {فَلَبِثَ فيهم}: نبيًّا داعياً {ألفَ سنة إلاَّ خمسينَ عاماً}: وهو لا يني بدعوتِهِم ولا يفتُرُ في نصحهم؛ يدعوهم ليلاً ونهاراً وسرًّا وجهاراً، فلم يرشُدوا ولا اهتدوا بل استمرُّوا على كفرهم وطغيانهم، حتى دعا عليهم نبيُّهم نوحٌ عليه الصلاة والسلام مع شدَّة صبرِهِ وحلمه واحتماله، فقال: {ربِّ لا تَذَرْ على الأرض من الكافرين دياراً}، {فأخَذَهُمُ الطوفانُ}؛ أي: الماء الذي نزل من السماء بكثرةٍ ونَبَعَ من الأرض بشدَّةٍ، {وهم ظالمونَ}؛ مستحقُّون للعذاب.