ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 14

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَلَبِثَ فِیۡہِمۡ اَلۡفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمۡسِیۡنَ عَامًا ؕ فَاَخَذَہُمُ الطُّوۡفَانُ وَ ہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس کم ہزار برس رہا، پھر انھیں طوفان نے پکڑ لیا، اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔ En
اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر اُن کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا۔ اور وہ ظالم تھے
En
اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وه ان میں ساڑھے نو سو سال تک رہے، پھر تو انہیں طوفان نے دھر پکڑا اور وه تھے بھی ﻇالم En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ پچاس برس کم ایک ہزار سال ان [24] کے درمیان رہے۔ پھر ان لوگوں کو طوفان نے آگھیرا کہ وہ ظالم تھے۔
[24] ذکر نوحؑ :۔
پچھلی آیات میں ان کفار کا ذکر ہو رہا تھا جو دور نبوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب اور مخالف تھے۔ آگے بعض دوسرے انبیاء اور ان کے مخالفین کا ذکر آرہا ہے اور ایسے واقعات کا آغاز حضرت نوحؑ سے کیا جا رہا ہے۔ حضرت نوحؑ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ نو سو پچاس برس آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی پھر طوفان نوح کے بعد آپ ساٹھ برس زندہ رہے۔ اس لحاظ سے آپ کی کل عمر ایک ہزار پچاس برس بنتی ہے اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ آپ نے اپنی قوم کو سمجھانے اور ان سے بحث و جدال میں گزارا۔ وہ لوگ گویا ان کفار مکہ سے بھی زیادہ بد بخت تھے۔ انہوں نے حضرت نوحؑ کو اس قدر پریشان کیا اور ناک میں دم کر دیا تھا کہ نوحؑ نے ان سے تنگ آ کر اور ان سے سخت مایوس ہو کر اللہ سے بد دعا کی تھی کہ یا اللہ ان پر ایسی تباہی نازل فرما کہ ان میں سے ایک گھرانہ بھی زندہ نہ بچے۔ چنانچہ اللہ نے طوفان کے ذریعہ اس قوم کو تباہ کر ڈالا۔ اور یہ واقعہ پہلے کئی مقامات پر تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔