تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 15

فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ اَصۡحٰبَ السَّفِیۡنَۃِ وَ جَعَلۡنٰہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۵﴾
پھر ہم نے اسے بچا لیا اور کشتی والوں کو بھی اور اسے جہانوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔ En
پھر ہم نے نوحؑ کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا
En
پھر ہم نے انہیں اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَنْؔجَیْنٰهُ وَاَصْحٰؔبَ السَّفِیْنَةِ پس ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو نجات دی۔ یعنی وہ لوگ جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے، یعنی ان کے گھر والے اور ان پر ایمان لانے والے دیگر لوگ ﴿وَجَعَلْنٰهَاۤ اور ہم نے اس کو بنایا۔ یعنی کشتی کو یا قصۂ نوح کو ﴿ اٰیَةً لِّلْ٘عٰلَمِیْنَ تمام جہانوں کے لیے نشانی جس سے لوگ عبرت پکڑتے ہیں کہ جو کوئی اپنے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے اس کا انجام ہلاکت ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہر غم سے نجات دیتا اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ دکھاتا ہے، نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے کشتی کو … یعنی کشتی کی جنس کو، تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا جسے وہ اپنے رب کی رحمت سے تعبیر کرتے ہیں، جس نے ان کے لیے اس کے اسباب مہیا كيے اور اس کے معاملے کو ان کے لیے آسان بنایا اور وہ انھیں ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک اٹھائے پھرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأنجَيْناه وأصحابَ السفينةِ}: الذين ركبوا معه؛ أهلَه ومن آمن به، {وَجَعَلْناها}؛ أي: السفينة أو قصة نوح {آيةً للعالمينَ}: يعتبِرون بها على أنَّ مَنْ كذَّب الرسل آخرُ أمرِهِ الهلاكُ، وأنَّ المؤمنين سيجعل الله لهم من كلِّ همٍّ فرجاً ومن كل ضيقٍ مخرجاً، وجعل الله أيضاً السفينة؛ أي: جنسها آية للعالمين؛ يعتبرون بها رحمة ربِّهم الذي قيَّض لهم أسبابها، ويسَّر لهم أمرها، وجعلها تحملهم، وتحمِلُ متاعَهم من محلٍّ إلى محلٍّ، ومن قطر إلى قطر.