تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 13

وَ لَیَحۡمِلُنَّ اَثۡقَالَہُمۡ وَ اَثۡقَالًا مَّعَ اَثۡقَالِہِمۡ ۫ وَ لَیُسۡـَٔلُنَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾
اور یقینا وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی اور بوجھ بھی۔ اور یقینا وہ قیامت کے دن اس کے متعلق ضرور پوچھے جائیں گے جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔ En
اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔ اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن اُن کی اُن سے ضرور پرسش ہوگی
En
البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی۔ اور جو کچھ افترا پردازیاں کر رہے ہیں ان سب کی بابت ان سے باز پرس کی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَمَا هُمْ بِحٰؔمِلِیْ٘نَ مِنْ خَطٰیٰؔهُمْ مِّنْ شَیْءٍ سے یہ وہم بھی ہو سکتا ہے کہ اہل ایمان کو کفر وغیرہ کی طرف دعوت دینے کا کفار کو صرف وہی گناہ ہوگا جس کا انھوں نے ارتکاب کیا دوسروں کے گناہوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں خواہ وہ دوسروں کے گناہوں کا سبب ہی کیوں نہ بنے ہوں … اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَیَحْمِلُ٘نَّ اَثْقَالَهُمْ اور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ یعنی اپنے ان گناہوں کا بوجھ جن کا انھوں نے ارتکاب کیا ﴿ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ اور اپنے بوجھ کے ساتھ اور بوجھ بھی (اٹھائیں گے)۔ اس سے مراد وہ گناہ ہیں جو ان کے سبب سے اور ان کی جسارت کی بنا پر ان کے اعمال نامے میں لکھے گئے۔
وہ گناہ جس کا ارتکاب کوئی تابع شخص کرتا ہے اس میں تابع اور متبوع دونوں کا حصہ ہوتا ہے تابع کا حصہ اس لیے ہے کہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا اور متبوع کا حصہ اس لیے کہ وہ اس گناہ کا سبب بنا اور اس نے اس گناہ کی طرف دعوت دی۔ بالکل اسی طرح جب کوئی تابع شخص نیکی کرتا ہے تو نیکی کرنے والے کو اس کا ثواب ملتا ہے اور وہ شخص بھی اس ثواب سے بہرہ ور ہوتا ہے جس نے اسے نیکی کی دعوت دی اور نیکی کا سبب بنا۔
﴿ وَلَ٘یُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی۔ یعنی انھوں نے جو بری بات گھڑی ہے پھر اس کو آراستہ کیا ہے، نیز ان سے ان کے اس قول: ﴿ وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰؔكُمْ ہم تمھاری خطاؤں کو اپنے اوپر لے لیں گے۔ کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا كان قوله: {وما هُم بحاملينَ مِنْ خطاياهم من شيءٍ}: قد يُتَوَهَّم منه أيضاً أنَّ الكفَّار الدَّاعين إلى كفرهم ـ ونحوهم ممَّن دعا إلى باطله ـ ليس عليهم إلاَّ ذنبُهم الذي ارتكبوه دون الذَّنب الذي فعله غيرُهم، ولو كانوا متسبِّبين فيه؛ قال محترِزاً عن هذا الوهم: {وَلَيَحْمِلُنَّ أثْقالَهم}؛ أي: أثقال ذُنوبهم التي عملوها، {وأثقالاً مع أثقالِهِم}: وهي الذُّنوب التي بسببهم ومن جَرَّائهم؛ فالذنبُ الذي فعله التابعُ لكل من التابع والمتبوع حصةٌ منه: هذا لأنَّه فَعَلَه وباشَرَه، والمتبوعُ لأنَّه تسبَّب في فعلِهِ ودعا إليه؛ كما أنَّ الحسنة إذا فعلها التابعُ له أجرُها بالمباشرة وللداعي أجره بالتسبب، {وَلَيُسْألُنَّ يومَ القيامةِ عمَّا كانوا يفترونَ}: من الشرِّ وتزيينه وقولِهِم: {وَلْنَحمِلْ خطاياكم}.