ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 13

وَ لَیَحۡمِلُنَّ اَثۡقَالَہُمۡ وَ اَثۡقَالًا مَّعَ اَثۡقَالِہِمۡ ۫ وَ لَیُسۡـَٔلُنَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾
اور یقینا وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی اور بوجھ بھی۔ اور یقینا وہ قیامت کے دن اس کے متعلق ضرور پوچھے جائیں گے جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔ En
اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔ اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن اُن کی اُن سے ضرور پرسش ہوگی
En
البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی۔ اور جو کچھ افترا پردازیاں کر رہے ہیں ان سب کی بابت ان سے باز پرس کی جائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) ➊ { وَ لَيَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ:} یعنی یہ جھوٹے ہیں، ان کا بوجھ رتی برابر ہلکا نہیں کر سکتے، ہاں اپنا بوجھ بھاری کر رہے ہیں، ایک تو یہ اپنے ذاتی گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور دوسرا اس کے ساتھ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی جنھیں انھوں نے گمراہ کیا تھا، اگرچہ ان کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ (دیکھیے نحل: ۲۵) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ دَعَا إِلٰی هُدًی كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا] [مسلم، العلم، باب من سنّ سنۃ حسنۃ أو سیئۃ…: ۲۶۷۴] جو شخص ہدایت کے کسی کام کی طرف دعوت دے اسے ان لوگوں کے اجروں جیسا اجر ملے گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے اجروں میں کچھ کمی نہیں کرے گا اور جو شخص گمراہی کے کسی کام کی طرف دعوت دے اس پر ان لوگوں کے گناہوں جیسا گناہ ہو گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلاَّ كَانَ عَلَي ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ: ۳۳۳۵] کوئی جان ظلم سے قتل نہیں کی جاتی مگر آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر اس کے خون کا ایک حصہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کا طریقہ شروع کیا۔
➋ { وَ لَيُسْـَٔلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ …:} یعنی جو جھوٹی باتیں یہ بناتے ہیں کہ ہم تمھارا بوجھ اٹھا لیں گے یہ خود مستقل گناہ ہے، اس افترا کی بھی انھیں سزا ملے گی۔ جس میں ان سے کی جانے والی بازپرس بھی ہو گی، جو بجائے خود نہایت خوفناک مرحلہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13-1یعنی یہ ائمہ کفر اور داعیان ضلال اپنا ہی بوجھ نہیں اٹھائیں گے، بلکہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی ان پر ہوگا جو انکی سعی و کاوش سے گمراہ ہوئے تھے۔ یہ مضمون سورة النحل میں بھی گزر چکا ہے۔ حدیث میں ہے، جو ہدایت کی طرف بلاتا ہے، اس کے لئے اپنی نیکیوں کے اجر کے ساتھ ان لوگوں کی نیکیوں کا اجر بھی ہوگا جو اس کی وجہ سے قیامت تک ہدایت کی پیروی کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو۔ اور جو گمراہی کا داعی ہوگا اس کے لئے اپنے گناہوں کے علاوہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی ہوگا جو قیامت تک اس کی وجہ سے گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والے ہونگے۔، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کمی ہو۔ اسی اصول سے قیامت تک ظلم سے قتل کیے جانے والوں کے خون کا گناہ آدم ؑ کے پہلے بیٹے (قابیل) پر ہوگا۔ اس لیے کہ سب سے پہلے اسی نے ناحق قتل کیا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ یہ اپنے (گناہوں کے) بوجھ تو اٹھائیں گے ہی اور ساتھ ہی دوسروں کے بوجھ [22] بھی اٹھائیں گے (جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہو گا) اور جو کچھ یہ افترا کرتے رہے قیامت کے دن [23] اس سے متعلق ان سے ضرور باز پرس ہو گی۔
[22] دوسرے کا عذاب و ثواب کس صورت میں؟
البتہ یوں ہو سکتا ہے کہ اگر ان لوگوں کے بہکانے سے کوئی شخص گمراہ ہو گیا تو گمراہ ہونے والے کو اپنی گمراہی کا عذاب دیا جائے گا۔ اور گمراہ کرنے والے کو دوہرا عذاب اس شکل میں ہو گا کہ ایک تو اسے اپنی گمراہی کی سزا بھگتنا ہو گی اور دوسرے اس گمراہ ہونے والے شخص کا حصہ رسدی عذاب اسے بھی دیا جائے گا جسے اس نے گمراہ کر دیا تھا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث اس مضمون کو پوری طرح واضح کر رہی ہے:
منذر بن جریر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اس کے لئے اس کے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کریں ان کا بھی ثواب ہے اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ اور جس نے اسلام میں کوئی بری طرح ڈالی اس پر اس کے اپنے عمل کا بھی بار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد اس برے طریقہ پر عمل کریں۔ لیکن عمل کرنے والوں کے بوجھ میں کچھ کمی نہ ہو گی۔“ [مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الحث علی الصدقة]
[23] مشرکوں کا یہ قول اللہ پر افتراء اس لحاظ سے ہے کہ انہوں نے دراصل اللہ کے بتلائے ہوئے عقیدہ آخرت، باز پرس اور گناہوں کی سزا ان سب باتوں کا مذاق اڑایا تھا۔ جس سے اللہ کی آیات کی بھی تکذیب ہوتی تھی اور اس کے رسول کی بھی۔ یعنی ان مشرکوں کے اپنے شرکیہ کارناموں کے علاوہ یہ اللہ پر افتراء کا جرم مزید اضافہ ہے اور اس جرم کی ان سے باز پرس بھی ہو گی اور عذاب بھی ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

گناہ کسی کا اور سزا دوسرے کو ٭٭
کفار قریش مسلمانوں کو بہکانے کے لیے ان سے یہ بھی کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر عمل کرو اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہم پر۔
حالانکہ یہ اصولاً غلط ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی اٹھائے۔ یہ بالکل دروغ گو ہیں۔ کوئی اپنے قرابت داروں کے گناہ بھی اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ دوست دوست کو اس دن نہ پوچھے گا۔
ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے بوجھ بھی ان پر لادے جائیں گے مگر وہ گمراہ شدہ لوگ ہلکے نہ ہوں گے۔ ان کا بوجھ ان پر ہے۔
جیسے فرمان ہے «لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِالَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِعِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ» ۱؎ [16-النحل:25]‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے کامل بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں بہکایا تھا ان کے بہکانے کا گناہ بھی ان پر ہو گا۔ ‘
صحیح حدیث میں ہے کہ { جو ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ قیامت تک جو لوگ اس ہدایت پر چلیں گے ان سب کو جتنا ثواب ہو گا اتنا ہی اس ایک کو ہو گا لیکن ان کے ثوابوں میں سے گھٹ کر نہیں۔ اسی طرح جس نے برائی پھیلائی اس پر جو بھی عمل پیرا ہوں ان سب کو جتنا گناہ ہو گا اتنا ہی اس ایک کو ہو گا لیکن ان گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:6745]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ { زمین پر جتنی خون ریزیاں ہوتی ہیں، آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا جس نے اپنے بھائی کو ناحق قتل کر دیا تھا، اس پر اس خون کا وبال پڑتا ہے، اس لیے کہ قتلِ بےجا اسی سے شروع ہوا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3335]‏‏‏‏
ان کے تمام بہتان، جھوٹ، افترا کی ان سے بروز قیامت بازپرس ہو گی۔
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تمام رسالت پہنچا دی۔
آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ { ظلم سے بچو کیونکہ قیامت والے دن اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی اور اپنے جلال کی قسم آج ایک ظالم کو بھی میں نہ چھوڑوں گا۔ پھر ایک منادیٰ ندا کرے گا کہ فلاں فلاں کہاں ہے؟ وہ آئے گا اور پہاڑ کے پہاڑ نیکیوں کے اس کے ساتھ ہوں گے یہاں تک کہ اہل محشر کی نگاہیں اس کی طرف اٹھنے لگیں گی۔ وہ اللہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو جائے گا پھر منادیٰ ندا کرے گا کہ اس طرف سے کسی کا کوئی حق ہو اس نے کسی پر ظلم کیا ہو وہ آ جائے اور اپنا بدلہ لے لے۔ اب تو ادھر ادھر سے لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور اسے گھیر کر اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے ان بندوں کو ان کے حق دلواؤ۔ فرشتے کہیں گے: اے اللہ! کیسے دلوائیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کی نیکیاں لو اور انہیں دو۔ چنانچہ یوں ہی کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک نیکی باقی نہیں رہے گی اور ابھی تک بعض مظلوم اور حقدار باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا انہیں بھی بدلہ دو فرشتے کہیں گے: اب تو اس کے پاس ایک نیکی بھی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ حکم دے گا: ان کے گناہ اس پر لاد دو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبرا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی «وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» } ۱؎ [صحیح مسلم:2581]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے معاذ رضی اللہ عنہ! قیامت کے دن مومن کی تمام کوششوں سے سوال کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے سرمے اور اس کے مٹی کے گوندھے سے بھی۔ دیکھ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کوئی اور تیری نیکیاں لے جائے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیۃ:31/10:ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَمَا هُمْ بِحٰؔمِلِیْ٘نَ مِنْ خَطٰیٰؔهُمْ مِّنْ شَیْءٍ سے یہ وہم بھی ہو سکتا ہے کہ اہل ایمان کو کفر وغیرہ کی طرف دعوت دینے کا کفار کو صرف وہی گناہ ہوگا جس کا انھوں نے ارتکاب کیا دوسروں کے گناہوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں خواہ وہ دوسروں کے گناہوں کا سبب ہی کیوں نہ بنے ہوں … اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَیَحْمِلُ٘نَّ اَثْقَالَهُمْ اور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ یعنی اپنے ان گناہوں کا بوجھ جن کا انھوں نے ارتکاب کیا ﴿ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ اور اپنے بوجھ کے ساتھ اور بوجھ بھی (اٹھائیں گے)۔ اس سے مراد وہ گناہ ہیں جو ان کے سبب سے اور ان کی جسارت کی بنا پر ان کے اعمال نامے میں لکھے گئے۔
وہ گناہ جس کا ارتکاب کوئی تابع شخص کرتا ہے اس میں تابع اور متبوع دونوں کا حصہ ہوتا ہے تابع کا حصہ اس لیے ہے کہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا اور متبوع کا حصہ اس لیے کہ وہ اس گناہ کا سبب بنا اور اس نے اس گناہ کی طرف دعوت دی۔ بالکل اسی طرح جب کوئی تابع شخص نیکی کرتا ہے تو نیکی کرنے والے کو اس کا ثواب ملتا ہے اور وہ شخص بھی اس ثواب سے بہرہ ور ہوتا ہے جس نے اسے نیکی کی دعوت دی اور نیکی کا سبب بنا۔
﴿ وَلَ٘یُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی۔ یعنی انھوں نے جو بری بات گھڑی ہے پھر اس کو آراستہ کیا ہے، نیز ان سے ان کے اس قول: ﴿ وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰؔكُمْ ہم تمھاری خطاؤں کو اپنے اوپر لے لیں گے۔ کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا كان قوله: {وما هُم بحاملينَ مِنْ خطاياهم من شيءٍ}: قد يُتَوَهَّم منه أيضاً أنَّ الكفَّار الدَّاعين إلى كفرهم ـ ونحوهم ممَّن دعا إلى باطله ـ ليس عليهم إلاَّ ذنبُهم الذي ارتكبوه دون الذَّنب الذي فعله غيرُهم، ولو كانوا متسبِّبين فيه؛ قال محترِزاً عن هذا الوهم: {وَلَيَحْمِلُنَّ أثْقالَهم}؛ أي: أثقال ذُنوبهم التي عملوها، {وأثقالاً مع أثقالِهِم}: وهي الذُّنوب التي بسببهم ومن جَرَّائهم؛ فالذنبُ الذي فعله التابعُ لكل من التابع والمتبوع حصةٌ منه: هذا لأنَّه فَعَلَه وباشَرَه، والمتبوعُ لأنَّه تسبَّب في فعلِهِ ودعا إليه؛ كما أنَّ الحسنة إذا فعلها التابعُ له أجرُها بالمباشرة وللداعي أجره بالتسبب، {وَلَيُسْألُنَّ يومَ القيامةِ عمَّا كانوا يفترونَ}: من الشرِّ وتزيينه وقولِهِم: {وَلْنَحمِلْ خطاياكم}.