اور یقینا وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی اور بوجھ بھی۔ اور یقینا وہ قیامت کے دن اس کے متعلق ضرور پوچھے جائیں گے جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
En
اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔ اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن اُن کی اُن سے ضرور پرسش ہوگی
(آیت 13) ➊ { وَلَيَحْمِلُنَّاَثْقَالَهُمْوَاَثْقَالًامَّعَاَثْقَالِهِمْ:} یعنی یہ جھوٹے ہیں، ان کا بوجھ رتی برابر ہلکا نہیں کر سکتے، ہاں اپنا بوجھ بھاری کر رہے ہیں، ایک تو یہ اپنے ذاتی گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور دوسرا اس کے ساتھ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی جنھیں انھوں نے گمراہ کیا تھا، اگرچہ ان کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ (دیکھیے نحل: ۲۵) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْدَعَاإِلٰیهُدًیكَانَلَهُمِنَالْأَجْرِمِثْلُأُجُوْرِمَنْتَبِعَهُلَايَنْقُصُذٰلِكَمِنْأُجُوْرِهِمْشَيْئًاوَمَنْدَعَاإِلٰیضَلَالَةٍكَانَعَلَيْهِمِنَالْإِثْمِمِثْلُآثَامِمَنْتَبِعَهُلَايَنْقُصُذٰلِكَمِنْآثَامِهِمْشَيْئًا][مسلم، العلم، باب من سنّ سنۃ حسنۃ أو سیئۃ…: ۲۶۷۴]”جو شخص ہدایت کے کسی کام کی طرف دعوت دے اسے ان لوگوں کے اجروں جیسا اجر ملے گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے اجروں میں کچھ کمی نہیں کرے گا اور جو شخص گمراہی کے کسی کام کی طرف دعوت دے اس پر ان لوگوں کے گناہوں جیسا گناہ ہو گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَتُقْتَلُنَفْسٌظُلْمًاإِلاَّكَانَعَلَيابْنِآدَمَالْأَوَّلِكِفْلٌمِنْدَمِهَا،لِأَنَّهُأَوَّلُمَنْسَنَّالْقَتْلَ][بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ: ۳۳۳۵]”کوئی جان ظلم سے قتل نہیں کی جاتی مگر آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر اس کے خون کا ایک حصہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کا طریقہ شروع کیا۔“ ➋ { وَلَيُسْـَٔلُنَّيَوْمَالْقِيٰمَةِ …:} یعنی جو جھوٹی باتیں یہ بناتے ہیں کہ ہم تمھارا بوجھ اٹھا لیں گے یہ خود مستقل گناہ ہے، اس افترا کی بھی انھیں سزا ملے گی۔ جس میں ان سے کی جانے والی بازپرس بھی ہو گی، جو بجائے خود نہایت خوفناک مرحلہ ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔