پھر شاید تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینے والا ہے جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے تیرا سینہ تنگ ہونے والا ہے کہ وہ کہیں گے اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا، یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا؟ تو توُ صرف ڈرانے والا ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔
En
شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو اور اس (خیال) سے کہ تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ نازل ہوا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ اے محمدﷺ! تم تو صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے
پس شاید کہ آپ اس وحی کے کسی حصے کو چھوڑ دینے والے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے اور اس سے آپ کا دل تنگ ہے، صرف ان کی اس بات پر کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترا؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی آتا، سن لیجئے! آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور ہر چیز کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ، کفار کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿فَلَعَلَّكَتَارِكٌۢبَعْضَمَایُوْحٰۤىاِلَیْكَوَضَآىِٕقٌۢبِهٖصَدْرُكَاَنْیَّقُوْلُوْا﴾”شاید آپ کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہوکہ یہ (کافر) کہنے لگیں۔“ یعنی آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کر دیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ ﴿لَوْلَاۤاُنْزِلَعَلَیْهِكَنْ٘زٌاَوْجَآءَمَعَهٗمَلَكٌ ﴾”کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ“ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہو سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں۔
کیا انھوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے؟ یا انھوں نے اس چیز کی برائی اس انداز سے بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدرومنزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ﴿ اِنَّمَاۤاَنْتَنَذِیْرٌ١ؕوَاللّٰهُعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍوَّؔكِیْلٌ﴾”آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے“ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مسلياً لنبيه محمد - صلى الله عليه وسلم - عن تكذيب المكذبين: {فلعلَّك تاركٌ بعضَ ما يوحى إليك وضائقٌ به صدرُك أن يقولوا لولا أنزِلَ عليه كنزٌ}؛ أي: لا ينبغي هذا لمثلك؛ أن قولهم يؤثِّر فيك ويصدُّك عما أنت عليه، فتترك بعضَ ما يوحى إليك، ويضيق صدرك لتعنُّتهم بقولهم: {لولا أُنزِلَ عليه كنزٌ أو جاء معه مَلَكٌ}: فإنَّ هذا القول ناشئ من تعنُّتٍ وظلم وعنادٍ وضلالٍ وجهلٍ بمواقع الحجج والأدلَّة؛ فامضِ على أمرك، ولا تصدَّك هذه الأقوالُ الركيكةُ التي لا تصدُرُ إلا من سفيهٍ، ولا يضيق لذلك صدرك؛ فهل أوردوا عليك حجَّة لا تستطيع حلَّها؟! أم قدحوا ببعض ما جئت به قدحاً يؤثِّر فيه وينقص قدره فيضيق صدرك لذلك؟! أم عليك حسابُهم ومُطَالَبٌ بهدايتهم جبراً؟! {إنما أنت نذيرٌ والله على كلِّ شيءٍ وكيلٌ}: فهو الوكيل عليهم، يحفظُ أعمالهم، ويجازيهم بها أتمَّ الجزاء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔