تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِيْرٌ:} یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے محض عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے، لہٰذا کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کیے بغیر آپ اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہیں۔
➌ {وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ: } یعنی ان کے مطالبات کو پورا کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے، ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو آپ کو ایک خزانہ کیا روئے زمین کے تمام خزانے دے دے گا اور ایک فرشتہ کیا آپ پر سیکڑوں فرشتے اتار دے گا۔ بہرحال جیسی اس کی مصلحت اور حکمت ہو گی ویسا ہی کرے گا، آپ کو ان چیزوں سے کیا غرض؟ ہر چیز کا نگران وہ خود ہے۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کا جو حکم آئے بے دھڑک ان کو سناتے رہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے کہ «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7،8] ’ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:97-99] ’ اے پیغمبر! آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ دل نہ ہوں، اپنے کام سے نہ رکئے، انہیں حق کی پکار سنانے میں کوتاہی نہ کیجئے، دن رات اللہ کی طرف بلاتے رہیئے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی تکلیف دہ باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری لگتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ بھی نہ کیجئے۔ ایسا نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مایوس ہو جائیں یا تنگ دل ہو کر بیٹھ جائیں کہ یہ آوازے کستے، پھبتیاں اڑاتے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے رسولوں کو دیکھئیے سب جھٹلائے گئے ستائے گئے اور صابر و ثابت قدم رہے یہاں تک اللہ کی مدد آپہنچی ‘۔
اللہ کی ذات اس سے بلند بالا پاک اور منفرد ہے معبود اور رب صرف وہی ہے۔ جب تم سے یہی نہیں ہو سکتا اور اب تک نہیں ہو سکا تو یقین کر لو کہ تم اس کے بنانے سے عاجز ہو اور دراصل یہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کا علم، اس کے حکم احکام اور اس کی روک ٹوک اسی کلام میں ہیں اور ساتھ ہی مان لو کہ معبود برحق صرف وہی ہے بس آؤ اسلام کے جھنڈے تلے کھڑے ہو جاؤ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مسلياً لنبيه محمد - صلى الله عليه وسلم - عن تكذيب المكذبين: {فلعلَّك تاركٌ بعضَ ما يوحى إليك وضائقٌ به صدرُك أن يقولوا لولا أنزِلَ عليه كنزٌ}؛ أي: لا ينبغي هذا لمثلك؛ أن قولهم يؤثِّر فيك ويصدُّك عما أنت عليه، فتترك بعضَ ما يوحى إليك، ويضيق صدرك لتعنُّتهم بقولهم: {لولا أُنزِلَ عليه كنزٌ أو جاء معه مَلَكٌ}: فإنَّ هذا القول ناشئ من تعنُّتٍ وظلم وعنادٍ وضلالٍ وجهلٍ بمواقع الحجج والأدلَّة؛ فامضِ على أمرك، ولا تصدَّك هذه الأقوالُ الركيكةُ التي لا تصدُرُ إلا من سفيهٍ، ولا يضيق لذلك صدرك؛ فهل أوردوا عليك حجَّة لا تستطيع حلَّها؟! أم قدحوا ببعض ما جئت به قدحاً يؤثِّر فيه وينقص قدره فيضيق صدرك لذلك؟! أم عليك حسابُهم ومُطَالَبٌ بهدايتهم جبراً؟! {إنما أنت نذيرٌ والله على كلِّ شيءٍ وكيلٌ}: فهو الوكيل عليهم، يحفظُ أعمالهم، ويجازيهم بها أتمَّ الجزاء.