کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے۔ جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کی مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَمْیَقُوْلُوْنَافْتَرٰىهُ﴾”کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنالیا ہے۔“ یعنی اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ﴾ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاْتُوْابِعَشْرِسُوَرٍمِّثْلِهٖ٘مُفْتَرَیٰتٍوَّادْعُوْامَنِاسْتَطَعْتُمْمِّنْدُوْنِاللّٰهِاِنْكُنْتُمْصٰؔدِقِیْنَ﴾”اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلالو۔“ یعنی اگر اس قرآن کو تمھارے قول کے مطابق… محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمھارے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے ابطال کے لیے انتہائی کوشش کے حریص ہو… اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أم يقولون افتراه}؛ أي: افترى محمدٌ هذا القرآن، فأجابهم بقوله: {قلْ}: لهم: {فأتوا بعشر سورٍ مثله مفتريات وادعوا مَنِ استَطَعْتُم من دون الله إن كنتُم صادقين}؛ أي: إنه قد افتراه؛ فإنَّه لا فرق بينكم وبينه في الفصاحة والبلاغة، وأنتُم الأعداء حقًّا الحريصون بغاية ما يمكنكم على إبطال دعوته فإن كنتم صادقين فأتوا بعشر سورٍ مثله مفتريات!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔