تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 11

اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾
مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کیے، یہ لوگ ہیں جن کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ En
ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لیے بخشش اور اجرعظیم ہے
En
سوائے ان کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کے لئے بخشش بھی ہے اور بہت بڑا نیک بدلہ بھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجْرٌؔ كَبِیْرٌ اور بڑا اجر ہے اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه طبيعة الإنسان من حيث هو؛ إلا مَنْ وفَّقه الله وأخرجه من هذا الخُلُق الذميم إلى ضدِّه، وهم الذين صبَّروا أنفسهم عند الضراءِ فلم ييأسوا، وعند السراء فلم يبطروا، وعملوا الصالحات من واجبات ومستحبَّات. {أولئك لهم مغفرة}؛ لذنوبهم يزول بها عنهم كل محذور، {وأجر كبير}؛ وهو الفوز بجناتِ النعيم التي فيها ما تشتهيه الأنفس، وتلذُّ الأعين.