(آیت 48) {وَعِنْدَهُمْقٰصِرٰتُالطَّرْفِعِيْنٌ: ”عِيْنٌ“”عَيْنَاءُ“} کی جمع ہے، خوب صورت موٹی آنکھوں والی۔ کھانے پینے اور شراب کے ساتھ لذت کی تکمیل بیویوں کی صحبت سے ہوتی ہے، اس کے لیے ان کی بیویوں کا ذکر فرمایا، جو ہر قسم کے ظاہری و باطنی اور صوری و معنوی کمال سے آراستہ ہوں گی۔ معنوی کمال یہ کہ ایسی عفیف ہوں گی کہ ان کی نگاہیں اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی طرف نہیں اٹھیں گی اور ظاہری حسن کا یہ حال ہو گا کہ وہ گورے رنگ والی اور نہایت خوب صورت موٹی آنکھوں والی ہوں گی، جن کی آنکھوں کی سیاہی بہت سیاہ اور سفیدی بہت سفید ہو گی۔ سورۂ واقعہ میں ہے: «وَحُوْرٌعِيْنٌ»[الواقعۃ: ۲۲]”اور (ان کے لیے وہاں) سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتیں ہیں، جو فراخ آنکھوں والی ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 بڑی اور موٹی آنکھیں حسن کی علامت ہے یعنی حسین آنکھیں ہونگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ ان کے پاس نگاہیں نیچی رکھنے والی [26] اور موٹی موٹی آنکھوں [27] والی عورتیں ہوں گی۔
[26] ﴿قصر﴾ کا لغوی مفہوم:۔
﴿قَصَرَ﴾ کے معنی کسی چیز کی لمبائی یا اس کی انتہا کو نہ پہنچنا۔ نیز کم کرنا، چھوٹا کرنا، یا کوئی کام جتنا کرنا تھا اتنا نہ کرنا اور ﴿قصر الطرف﴾ یعنی جتنی دور نگاہ جا سکتی ہے اتنی دور تک نہ دیکھنا، یا نظر بھر کر نہ دیکھنا بلکہ صرف نیچے نظر رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی اشیاء خورد و نوش کے بعد ان کی عائلی زندگی کا ذکر فرمایا کہ انہیں عورتیں ایسی دی جائیں گی جو اپنے خاوندوں کے سوا کسی کو دیکھنے کی بھی روادار نہ ہوں گی۔ [27]﴿عين﴾ بمعنی آنکھ اور ﴿عيناء﴾ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھیں بڑی اور موٹی موٹی ہوں اور ﴿عيناء﴾ کی جمع ﴿عين﴾ آتی ہے۔ موٹی آنکھیں چہرے کی خوبصورت کو دوبالا کر دیتی ہیں۔ گویا اہل جنت کی عورتوں میں دوسری صفت یہ ہو گی کہ ان کی آنکھیں موٹی اور خوبصورت ہوں گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔