ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 48

وَ عِنۡدَہُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِیۡنٌ ﴿ۙ۴۸﴾
اور ان کے پاس نگاہ نیچے رکھنے والی، موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔ En
اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی
En
اور ان کے پاس نیچی نظروں، بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 48) {وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِيْنٌ: عِيْنٌ عَيْنَاءُ} کی جمع ہے، خوب صورت موٹی آنکھوں والی۔ کھانے پینے اور شراب کے ساتھ لذت کی تکمیل بیویوں کی صحبت سے ہوتی ہے، اس کے لیے ان کی بیویوں کا ذکر فرمایا، جو ہر قسم کے ظاہری و باطنی اور صوری و معنوی کمال سے آراستہ ہوں گی۔ معنوی کمال یہ کہ ایسی عفیف ہوں گی کہ ان کی نگاہیں اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی طرف نہیں اٹھیں گی اور ظاہری حسن کا یہ حال ہو گا کہ وہ گورے رنگ والی اور نہایت خوب صورت موٹی آنکھوں والی ہوں گی، جن کی آنکھوں کی سیاہی بہت سیاہ اور سفیدی بہت سفید ہو گی۔ سورۂ واقعہ میں ہے: «‏‏‏‏وَ حُوْرٌ عِيْنٌ» [الواقعۃ: ۲۲] اور (ان کے لیے وہاں) سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتیں ہیں، جو فراخ آنکھوں والی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

48۔ 1 بڑی اور موٹی آنکھیں حسن کی علامت ہے یعنی حسین آنکھیں ہونگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

48۔ ان کے پاس نگاہیں نیچی رکھنے والی [26] اور موٹی موٹی آنکھوں [27] والی عورتیں ہوں گی۔
[26] ﴿قصر﴾ کا لغوی مفہوم:۔
﴿قَصَرَ کے معنی کسی چیز کی لمبائی یا اس کی انتہا کو نہ پہنچنا۔ نیز کم کرنا، چھوٹا کرنا، یا کوئی کام جتنا کرنا تھا اتنا نہ کرنا اور ﴿قصر الطرف﴾ یعنی جتنی دور نگاہ جا سکتی ہے اتنی دور تک نہ دیکھنا، یا نظر بھر کر نہ دیکھنا بلکہ صرف نیچے نظر رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی اشیاء خورد و نوش کے بعد ان کی عائلی زندگی کا ذکر فرمایا کہ انہیں عورتیں ایسی دی جائیں گی جو اپنے خاوندوں کے سوا کسی کو دیکھنے کی بھی روادار نہ ہوں گی۔
[27] ﴿عين﴾ بمعنی آنکھ اور ﴿عيناء﴾ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھیں بڑی اور موٹی موٹی ہوں اور ﴿عيناء﴾ کی جمع ﴿عين﴾ آتی ہے۔ موٹی آنکھیں چہرے کی خوبصورت کو دوبالا کر دیتی ہیں۔ گویا اہل جنت کی عورتوں میں دوسری صفت یہ ہو گی کہ ان کی آنکھیں موٹی اور خوبصورت ہوں گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل جنت کے مطعومات و مشروبات، ان کی مجالس، دیگر عام نعمتوں اور ان کی تفاصیل کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿جَنّٰتِ النَّعِیْمِ کے عموم کے تحت آتی ہیں۔ ان کی تفصیل اس لیے بیان فرمائی تاکہ نفوس کو ان کا علم حاصل ہو اور ان کے اندر ان نعمتوں کا اشتیاق پیدا ہو۔ اس کے بعد ان کی بیویوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نیچی نگاہوں والی اور موٹی آنکھوں والی ہوں گی۔ یعنی اہل جنت کے پاس ان کے قریبی محلات میں خوبصورت حوریں ہوں گی، جو کامل اوصاف کی حامل اور نظریں جھکائے ہوئے ہوں گی۔ بیویاں یا تو اپنی عفت اور اپنے شوہر کے حسن و جمال اور اس کے کمال کی وجہ سے کسی اور طرف نہ دیکھیں گی... اس لیے کہ جنت میں ان کے شوہر کے سوا ان کا کوئی اور مطلوب نہ ہو گا اور نہ کسی اور میں رغبت رکھیں گی... یا ان کے شوہروں کی نگاہیں صرف انھی پر مرتکز ہوں گی یہ چیز ان کے کامل اور بے انتہا حسن وجمال پر دلالت کرتی ہے جو اس بات کی موجب ہیں کہ ان کے شوہروں کی نگاہیں انھی پر مرتکز رہیں، نیز نگاہوں کا ان پر مرکوز ہونا، نفس کے صرف انھی پر اقتصار کرنے اور ان کے ساتھ محبت پر دلالت کرتا ہے۔ آیت کریمہ میں ان دو معنوں کا احتمال ہے اور دونوں معنی صحیح ہیں۔ دونوں معنی جنت میں مردوں اور عورتوں کے حسن و جمال اور ان کی ایسی باہمی محبت پر دلالت کرتے ہیں جس میں غیر کی محبت کا شائبہ نہیں ہوتا۔ یہ اہل جنت کی عفت کی دلیل ہے، نیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اہل جنت میں باہمی بغض اور حسد نہیں ہو گا کیونکہ اس کے تمام اسباب ختم کر دیے جائیں گے۔
﴿عِیْنٌ یعنی وہ خوبصورت آنکھوں اور خوبصورت نگاہوں والی ہوں گی۔ ﴿كَاَنَّ٘هُنَّ گویا کہ وہیعنی حوریں ﴿بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ چھپایا ہوا انڈہ ہیں یہ تشبیہ ان کے حسن، ان کے رنگ کی بے انتہا خوبصورتی اور اس کی تازگی کی بنا پر دی گئی ہے، اس میں کسی قسم کی کدورت اور میلاپن نہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلمَّا ذَكَرَ طعامهم وشرابَهم ومجالِسَهم. وعمومُ النعيم وتفاصيلُه داخلٌ في قوله: {جنات النعيم}، لكن فصَّلَ هذه الأشياءَ لِتُعْلَمَ فتشتاقَ النفوس إليها؛ ذَكَرَ أزواجَهم، فقال: {وعندهم قاصراتُ الطَّرْفِ عِينٌ}؛ أي: وعند أهل دار النعيم في محلاَّتهم القريبة حورٌ حسانٌ كاملاتُ الأوصافِ قاصراتُ الطرفِ: إمَّا أنَّها قَصَرَتْ طَرْفَها على زوجِها لعفَّتِها، وعدم مجاوزتِهِ لغيرِهِ، ولجمال زوجِها وكماله؛ بحيث لا تطلبُ في الجنة سواه، ولا ترغبُ إلاَّ به. وإمَّا لأنَّها قَصَرَتْ طَرْفَ زوجها عليها، وذلك يدلُّ على كمالها وجمالها الفائق، الذي أوجب لزوجِها أن يَقْصُرَ طرفَه عليها. وقَصْرُ الطرفِ أيضاً يدلُّ على قَصْرِ النفس والمحبَّة عليها، وكلا المعنيينِ محتملٌ، وكلاهما صحيحٌ.

وكلُّ هذا يدلُّ على جمال الرجال والنساء في الجنَّة ومحبَّة بعضهم بعضاً محبةً لا يَطْمَحُ إلى غيره وشدة عفَّتهم كلِّهم وأنَّه لا حَسَدَ فيها ولا تباغُضَ ولا تشاحُنَ، وذلك لانتفاء أسبابه. {عِيْنٌ}؛ أي: حسانُ الأعين جميلاتُها ملاحُ الحدق. {كأنهنَّ}؛ أي: الحور {بَيْضٌ مكنونٌ}؛ أي: مستورٌ، وذلك من حسنهنَّ وصفائهنَّ، وكون ألوانهنَّ أحسن الألوان وأبهاها، ليس فيه كدرٌ ولا شينٌ.