تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ابن کثیر لکھتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا، جو پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنھما کا مہر نجاشی رحمہ اللہ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ صفیہ رضی اللہ عنھا کا مہر انھیں آزاد کرنا تھا، وہ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کر دیا اور اسی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور نکاح کر لیا۔ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنھا بنو المصطلق سے گرفتار ہو کر آئی تھیں، انھوں نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے جتنی رقم پر مکاتبت کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اتنی رقم ادا کر کے ان سے عقد کر لیا تھا۔“ (ابن کثیر)
➌ { وَ مَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ: ”أَفَاءَ يُفِيْءُ“} کا معنی ”لوٹا کر لانا“ ہے۔ ”فے“ عموماً ان اموال کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے بغیر دشمن سے حاصل ہوں۔ بعض اوقات جنگ کے ساتھ ملنے والی غنیمت کو بھی ”فے“ کہہ لیتے ہیں۔ ان اموال کو ”فے“ اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام اموال حقیقت میں مسلمان کی ملکیت ہیں جو عارضی طور پر کفار کے قبضے میں ہیں، جب مسلمان انھیں حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنا ہی مال واپس لیتے ہیں۔ ان عورتوں کے آپ کے لیے حلال کرنے کے ذکر کے بعد جن کے ساتھ آپ نے مہر دے کر نکاح کیا تھا، تین قسم کی عورتیں حلال کرنے کا ذکر فرمایا۔ ان میں سے پہلی قسم لونڈیاں ہیں، جو بطور فے آپ کو حاصل ہوئیں اور آپ نے لونڈی کی حیثیت سے ان سے فائدہ اٹھایا۔ یہ ماریہ قبطیہ تھیں، جنھیں مقوقس مصر نے آپ کے لیے بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ اس لیے وہ فے کے حکم میں تھیں، ان سے آپ کے بیٹے ابراہیم پیدا ہوئے۔ {” مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ “} کا یہ معنی نہیں کہ جو لونڈیاں بطور فے آپ کے پاس نہ آئیں وہ آپ کے لیے حلال نہیں، بلکہ ”سراری“ (لونڈیوں) کی تو آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے عام اجازت ہے۔ (قرطبی)
➍ { وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ …:} پہلی بیویوں کے بعد آپ کے لیے حلال کی جانے والی عورتوں کی یہ دوسری قسم ہے، یعنی وہ عورتیں جو باپ یا ماں کی طرف سے آپ کی قریبی رشتہ دار ہیں اور انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ہے۔ ان کے ساتھ نکاح آپ کے لیے حلال ہے۔ یہ تفسیر اس لیے کی گئی ہے کہ آپ کے ماموں یا خالہ کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں۔ آپ کی والدہ کے خاندان بنو زہرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں کہا جاتا تھا۔
➎ { وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ …:} یہ تیسری قسم ہے، یعنی مندرجہ بالا عورتوں کے علاوہ کوئی مومن عورت اگر اپنا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دے، یعنی مہر کے بغیر نکاح میں دینے کی پیش کش کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرنا چاہیں تو آپ کے لیے ولی اور مہر کے بغیر اس سے نکاح حلال ہے۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کر رہی تھی، تو انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کہا: ”اس کی حیا کتنی کم تھی؟“ تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تجھ سے بہتر تھی، اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا تھا۔“ [بخاري، الأدب، باب ما لا یستحیا من الحق للتفقہ في الدین: ۶۱۲۳]
➏ { خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی یہ اجازت صرف آپ کے ساتھ خاص ہے، دوسرے مسلمانوں کے لیے وہی حکم ہے جو سورۂ نساء (۲۴) میں فرمایا: «اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ» یعنی بن مہر نکاح جائز نہیں۔ (موضح) اسی طرح چار سے زیادہ بیویوں کی اجازت صرف آپ کے لیے ہے، دوسرے مسلمانوں کے لیے نہیں۔
➐ { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ:} یعنی عام مسلمانوں کو نکاح کے لیے جن شرائط کا پابند کیا گیا ہے، ان کاپابند رہنا ان کے لیے ضروری ہے اور وہ یہ کہ مہر، ولی اور گواہوں کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں، اس کے علاوہ وہ ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتیں نکاح میں نہیں رکھ سکتے۔ یہ مسائل سورۂ نساء (۳، ۴ اور ۲۴، ۲۵) میں گزر چکے ہیں۔
➑ { لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ:} یعنی دعوت دین کی مصلحت کے لیے آپ کو ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ آپ پر زیادہ نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ رہے۔ کیونکہ بہت سی مصلحتوں کی وجہ سے آپ کو زیادہ نکاح کرنے ہوں گے۔ اہلِ علم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ہر ایک کے ساتھ نکاح میں جو مصلحتیں مدنظر تھیں ان کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور اسلام کے مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعددِ ازواج پر جو جو اعتراض کرتے ہیں ان کا مدلل جواب دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی تصنیف ”مقدس رسول“ لاجواب کتاب ہے۔ الرحیق المختوم میں بھی یہ مصلحتیں اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔
➒ { وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} یعنی ہم نے رفع حرج کے لیے آپ کو جو اجازتیں عطا فرمائی ہیں ان کا باعث ہماری مغفرت و رحمت کی صفت ہے۔ (ابن عاشور)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں صلح حدیبیہ سے پیشتر عمرہ کرنے کا خواب آیا تھا۔ [48: 27]
یا سیدنا ابراہیمؑ کو سیدنا اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کا خواب آیا تھا۔ [37: 102]
2۔ انبیاء کا ترکہ وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتا بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا (پیغمبروں کا) کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“ [مسلم۔ کتاب الجہاد و السیر۔ باب حکم الفئی]
اور ابوہریرہؓ کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے وارث ایک دینار بھی بانٹ نہیں سکتے۔ میری بیویوں کے خرچ اور میرے عامل کی اجرت کے بعد جو کچھ میں چھوڑ جاؤں وہ صدقہ ہے۔ [مسلم۔ حواله ايضاً]
3۔ انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی۔ اوس بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن فوت ہوئے۔ اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی میں نفخہ ہے۔ اس دن مجھ پر زیادہ درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے پیش کیا جاتا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہڈیاں پرانی ہو چکی ہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے“ [ابو داؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ۔ دارمی۔ بیہقی فی دعوات الکبیر۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الجمعۃ۔ فصل ثانی]
اس کا یہ مطلب نہیں کہ انبیاء کے علاوہ سب لوگوں کے مردہ اجسام کو مٹی کھا جاتی ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ انبیاء کے اجسام کو تو بہرحال نہیں کھاتی اور امت میں سے بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں مدت دراز تک مٹی نہ کھائے۔ البتہ عام قاعدہ یہی ہے کہ مردہ اجسام کو زمین کھا جاتی ہے۔
4۔ موت سے پہلے اختیار۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں سنا کرتی تھی کہ کوئی پیغمبر اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کو یہ اختیار نہیں دیا جاتا کہ دنیا اختیار کرے یا آخرت۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اچھو ہوا اور فرمانے لگے۔ یا اللہ! ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام کیا آخر آیت تک۔ اس وقت میں سمجھ گئی کہ آپ کو وہ اختیار مل گیا۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ]
5۔ ہر نبی کو مرنے سے پہلے جنت میں ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تندرست تھے تو فرماتے تھے کہ کوئی پیغمبر اس وقت تک نہیں مرا جب تک اس کو بہشت میں اس کا مقام دکھا نہیں دیا جاتا۔ پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے زندہ رہے چاہے آخرت اختیار کرے۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
6۔ سیدنا انس بن مالکؓ معراج کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس کے بعد آپ نے ان فرشتوں کو دوسری رات دیکھا۔ جیسے آپ دل سے دیکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل نہیں سوتا تھا اور سب پیغمبروں کا یہی حال ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا۔ [بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تنام عینہ ولا ینام قلبہ۔۔]
7۔ نبی جس مقام پر فوت ہو اسی مقام اور جگہ پر دفن ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ معاملہ زیر بحث آیا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ اور اس تکرار کا اسی حکم کے مطابق ہی فیصلہ ہوا اور آپ کو سیدہ عائشہؓ کے گھر میں دفن کیا گیا۔ اور استقصاء کرنے سے ان امور میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
1۔ امتی کے لئے زیادہ سے زیادہ چار بیویاں جائز ہیں۔ جبکہ آپ کو چار سے زائد بیویوں کی خصوصی اجازت دی گئی جیسا کہ اسی حاشیہ کی ابتدا میں ذکر ہو چکا ہے۔
2۔ آپ پر بیویوں کا حق مہر اور نان و نفقہ واجب نہیں تھا۔ تفصیل اسی سورۃ کے حاشیہ نمبر 80 میں دیکھئے۔
3۔ بیویوں کی باری کے سلسلہ میں بھی آپ سے یہ پابندی اٹھا لی گئی۔ تفصیل اسی سورۃ کے حاشیہ نمبر 81 میں دیکھئے۔
4۔ آپ پر نماز تہجد فرض تھی جبکہ امت کے لئے اس کی حیثیت سنت موکدہ کی ہے۔ تفصیل سورۃ بنی اسرائیل کے حاشیہ 98، 99 میں دیکھئے۔
7۔ آپ نے صدقہ کے متعلق امت کو حکم دیا کہ افضل الصدقۃ ما کان عن ظھر غنی یعنی بہتر صدقہ وہ ہے کہ صدقہ کرنے کے بعد انسان خود محتاج نہ ہو جائے۔ [بخاری۔ کتاب النفقات۔ باب وجوب النفقۃ علی الاہل والعیال]
لیکن آپ خود قرض اٹھا کر بھی صدقہ کر دیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ زکوٰۃ جو آپ پر بھی فرض تھی، اس کے ادا کرنے کا کبھی موقعہ ہی نہ آیا۔
8۔ آپ اور آپ کے اہل خانہ کوئی نیکی کا کام کریں تو دگنا اجر اور نافرمانی پر دگنی سزا قرآن سے ثابت ہے۔ حتیٰ کہ آپ کو بخار بھی دوگنی شدت سے چڑھتا تھا۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں آپ کے ہاں گیا۔ آپ کا جسم بخار سے جل رہا تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو بخار بہت سخت آیا ہے۔ فرمایا: مجھ پر اتنی سخت تپ آتی ہے جیسے تم میں دو آدمیوں کی تپ ملائی جائے۔ میں نے عرض کیا آپ کو اجر بھی دوگنا ملے گا۔ فرمایا: ہاں! پھر فرمایا: جس شخص کو کوئی تکلیف بیماری وغیرہ ہو اللہ اس کے گناہ ایسے جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت (موسم خزاں میں) اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔ [بخاری۔ کتاب المرضیٰ۔ باب وضع الید علی المریض]
9۔ آپ کی وفات کے بعد کوئی شخص آپ کی بیویوں سے نکاح نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کی مائیں ہیں اور یہ اعزاز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے مخصوص ہے کوئی امتی اس اعزاز میں شریک نہیں ہو سکتا۔ کیا نکاح کا مقصد صرف جنسی خواہش کی تکمیل یا حصول اولاد ہی ہے؟ یہاں ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ نکاح کا مقصد شہوت رانی یا زیادہ سے زیادہ اولاد کا حصول ہے۔ یہ نظریہ کسی حد تک درست ہے مگر انتہائی تنگ نظری پر مبنی ہے۔ کسی حد تک ہم نے اس لئے کہا ہے کہ نکاح سے شریعت کا اصل مقصد معاشرہ کو فحاشی اور بے حیائی سے پاک و صاف رکھنا ہے۔ اسی لئے شریعت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بلوغت کے بعد کوئی مرد یا عورت بے زوج نہ رہے۔ اگر زوج فوت ہو جائے یا شوہر طلاق دے دے تو ہر ایک کے لئے مستحب یہی ہے کہ وہ نکاح کر لے۔ (ملاحظہ ہو سورۃ نور کی آیت نمبر 32 کا حاشیہ) حالانکہ جو انی کے انحطاط کے بعد انسان کی شہوت میں معتدبہ حد تک کمی واقع ہو جاتی ہے اور اگر اولاد ہو تو اسے اللہ کی قدرت ہی سمجھا جاتا ہے۔ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا کوئی عادی امر نہیں ہے۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اصل مقصد یعنی معاشرہ کی پاکیزگی کا ایک ثمرہ اولاد کا حصول بھی ہے۔ جو کبھی حاصل ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ زوجین کے بالغ اور بظاہر صحت مند ہونے کے باوجود ان کے ہاں ساری عمر اولاد نہیں ہوتی۔ اور صرف اولاد کے حصول کو تنگ نظری پر محمول ہم نے اس لئے کہا ہے کہ نکاح سے اور کئی مقاصد اور فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں مثلاً نکاح کا دوسرا مقصد قریبی رشتہ داروں میں قرابت کے تعلق کو برقرار رکھنا اور مودت بڑھانا ہے۔ تیسرا مقصد دینی اخوت کا قیام اور اس میں اضافہ ہے چوتھا مقصد کئی طرح کے دینی، سیاسی، معاشی فوائد کا حصول ہے اور بعض دفعہ ایسے مقاصد حصول اولاد سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں آپ ذرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے نکاح کئے؟ کس عمر میں کئے؟ کس قسم کی عورتوں سے کئے اور کن کن مقاصد کے تحت کئے تو یہ حقیقت از خود منکشف ہو جائے گی کہ نکاح کا مقصد صرف جنسی خواہشات کی تکمیل یا حصول اولاد ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بلند تر مقاصد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام المؤمنین حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا مہر نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ اور اسی طرح ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا مہر صرف ان کی آزادی تھی۔ خیبر کے قیدیوں میں آپ رضی اللہ عنہا بھی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا اور اور اسی آزادی کو مہر قرار دیا اور نکاح کر لیا، اور ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بنت حارث مصطلقیہ نے جتنی رقم پر مکاتبہ کیا تھا وہ پوری رقم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کو ادا کر کے ان سے عقد باندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات پر اپنی رضا مندی نازل فرمائے۔
اسی طرح جو لونڈیاں غنیمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئیں وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال ہیں۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اور جویریہ رضی اللہ عنہا کے مالک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوگئے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ ریحانہ بنت شمعون نصریہ اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آئی تھیں۔ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرزند بھی ہوا۔ جن کا نام ابراہیم رضی اللہ عنہ تھا۔
چونکہ نکاح کے بارے میں نصرانیوں نے افراط اور یہودیوں نے تفریط سے کام لیا تھا اس لیے اس عدل و انصاف والی سہل اور صاف شریعت نے درمیانہ راہ حق کو ظاہر کر دیا۔ نصرانی تو سات پشتوں تک جس عورت مرد کا نسب نہ ملتا ہو، ان کا نکاح جائز جانتے تھے اور یہودی بہن اور بھائی کی لڑکی سے بھی نکاح کر لیتے تھے۔ پس اسلام نے بھانجی بھتیجی سے نکاح کرنے کو روکا۔ اور چچا کی لڑکی پھوپھی کی لڑکی ماموں کی لڑکی اور خالہ کی لڑکی سے نکاح کو مباح قرار دیا۔
اس آیت کے الفاظ کی خوبی پر نظر ڈالئے کہ عم اور خال چچا اور ماموں کے لفظ کو تو واحد لائے اور عمات اور خلات یعنی پھوپھی اور خالہ کے لفظ کو جمع لائے۔ جس میں مردوں کی ایک قسم کی فضیلت عورتوں پر ثابت ہو رہی ہے۔
جیسے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ» ۱؎ [2-البقرة:257] اور جیسے «وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] یہاں بھی چونکہ ظلمات اور نور یعنی اندھیرے اور اجالے کا ذکر تھا اور اجالے کو اندھیرے پر فضیلت ہے اس لیے وہ لفظ ظلمات جمع لائے، اور لفظ نور مفرد لائے، اس کی اور بھی بہت سی نظیریں دی جا سکتی ہیں۔
مفسرین نے بھی یہی کہا ہے کہ مراد ہے کہ جنہوں نے مدینے کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ قتادہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں اس سے مراد اسلام لانا بھی مروی ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَاللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ» ہے۔ پھر فرمایا ’ اور وہ مومنہ عورت جو اپنا نفس اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں، تو بغیر مہر دیے اسے نکاح میں لا سکتے ہیں ‘۔ پس یہ حکم دو شرطوں کے ساتھ ہے جیسے آیت «وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَان اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [11-ھود:34] میں۔ یعنی ’ نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں اگر میں تمہیں نصیحت کرنا چاہوں اور اگر اللہ تمہیں اس نصیحت سے مفید کرنا نہ چاہے تو میری نصیحت تمہیں کوئی نفع نہیں دے سکتی ‘۔
پس جیسے ان آیتوں میں دو دو شرائط ہیں اسی طرح اس آیت میں بھی دو شرائط ہیں۔ ایک تو اس کا اپنا نفس ہبہ کرنا دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اسے اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کرنا۔
مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہیں۔ تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو میرے نکاح میں دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے پاس کچھ ہے؟ جو انہیں مہر میں دیں؟ } جواب دیا کہ اس تہمد کی سوا اور کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اگر تم انہیں دے دو گے تو خود بغیر تہمد کے رہ جاؤ گے کچھ اور تلاش کرو }۔ اس نے کہا میں اور کچھ نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تلاش تو کرو گو لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے }۔ انہوں نے ہر چند دیکھ بھال کی لیکن کچھ نہ پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قرآن کی کچھ سورتیں بھی تمہیں یاد ہیں؟ } اس نے کہا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس انہی سورتوں پر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2310] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔
{ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب یہ واقعہ بیان کرنے لگے تو ان کی صاحبزادی بھی سن رہی تھیں۔ کہنے لگیں اس عورت میں بہت ہی کم حیاء تھی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم سے وہ بہتر تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی رغبت کر رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا نفس پیش کر رہی تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5120]
اور روایت میں ہے یہ قبلہ بنو سلیم میں سے تھیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23/22:] اور روایت میں ہے یہ بڑی نیک بخت عورت تھیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23/22:] ممکن ہے ام سلیم ہی خولہ ہوں رضی اللہ عنہا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دوسری کوئی عورت ہوں۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ عورتوں سے نکاح کیا جن میں سے چھ تو قریشی تھیں۔ خدیجہ، عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ و ام سلمہ رضی اللہ عنہن اجمعین اور تین بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلے میں سے تھیں اور دو عورتیں قبیلہ بنوہلال بن عامر میں سے تھیں اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنا نفس رسول اللہ کوہبہ کیا تھا اور زینب رضی اللہ عنہا جن کی کنیت ام المساکین تھی۔ اور ایک عورت بنو ابی بکرین کلاب سے۔ یہ وہی ہے جس نے دنیا کو اختیار کیا تھا اور بنو جون میں سے ایک عورت جس نے پناہ طلب کی تھی، اور ایک عورت اسدیہ جن کا نام زینب بنت جحش ہے رضی اللہ عنہا۔ دو کنزیں تھیں۔ صفیہ بنت حی بن اخطب اور جویریہ بنت حارث بن عمرو بن مصطلق خزاعیہ }۔ ۱؎ [ابن ابی شیبة:270/5:مرسل و ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی عورت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا تھیں لیکن اس میں انقطاع ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ یہ مشہور بات ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جن کی کنیت ام المساکین تھی، یہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا تھیں، فبیلہ انصار میں سے تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہی انتقال کر گئیں۔ رضی اللہ عنہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ عورتیں جنہوں نے اپنے نفس کا اختیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔
چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں ان عورتوں پر غیرت کیا کرتی تھی جو اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیتی تھیں اور مجھے بڑا تعجب معلوم ہوتا تھا کہ عورتیں اپنا نفس ہبہ کرتی ہیں۔ جب یہ آیت اتری کہ «تُرْجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:51]، ’ تو ان میں سے جسے چاہے اس سے نہ کر اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے اور جن سے تو نے یکسوئی کر لی ہے انہیں بھی اگر تم لے آؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں ‘۔ تو میں نے کہا بس اب تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خوب وسعت و کشادگی کردی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1464]
یونس بن بکیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ مباح تھا کہ جو عورت اپنے تئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے گھر میں رکھ لیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا نہیں۔ کیونکہ یہ امر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر رکھا گیا تھا۔ یہ بات کسی اور کے لیے جائز نہیں ہاں مہر ادا کر دے تو بیشک جائز ہے۔“
چنانچہ بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں جنہوں نے اپنا نفس سونپ دیا تھا جب ان کے شوہر انتقال کر گئے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ ان کے خاندان کی اور عورتوں کے مثل انہیں مہر دیا جائے۔ جس طرح موت مہر کو مقرر کر دیتی ہے اسی طرح صرف دخول سے بھی مہر واجب ہو جاتا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم سے مستثنیٰ تھے۔ ایسی عورتوں کو کچھ دینا آپ پر واجب نہ تھا گو اسے شرف بھی حاصل ہو چکا ہو۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر مہر کے اور بغیر ولی کے اور بغیر گواہوں کے نکاح کر لینے کا اختیار تھا جیسا کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے قصے میں ہے۔
’ اور مومنوں پر جو ہم نے مقرر کر دیا ہے اسے ہم خوب جانتے ہیں ‘ یعنی وہ چار سے زیادہ بیویاں ایک ساتھ رکھ نہیں سکتے۔ ہاں ان کے علاوہ لونڈیاں رکھ سکتے ہیں۔ اور ان کی کوئی تعداد مقرر نہیں۔
اسی طرح ولی کی مہر کی گواہوں کی بھی شرط ہے۔ پس امت کا تو یہ حکم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی پابندیاں نہیں۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حرج نہ ہو۔ اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى ممتنًّا على رسولِهِ بإحلاله له ما أحلَّ مما يشترك هو والمؤمنون وما ينفردُ به ويختصُّ: {يا أيُّها النبيُّ إنَّا أحْلَلْنا لك أزواجَكَ اللاَّتي آتيتَ أجورَهُنَّ}؛ أي: أعطيتهنَّ مهورهنَّ من الزوجات، وهذا من الأمور المشتركة بينَه وبين المؤمنين؛ فإنَّ المؤمنين كذلك يباح لهم مَنْ آتَوْهُنَّ أجورَهُنَّ من الأزواج. {و} كذلك أحللنا لك {ما مَلَكَتْ يمينُك}؛ أي: الإماء التي ملكتَ، {ممَّا أفاء الله عليكَ}: من غنيمة الكفار من عبيدِهِم، والأحرار مَنْ لهنَّ زوجٌ منهم ومَنْ لا زوجَ لهن، وهذا أيضاً مشتركٌ، وكذلك من المشترك قوله: {وبناتِ عمِّك وبناتِ عماتِك وبناتِ خالِك وبناتِ خالاتِكَ}: شمل العمَّ والعمة والخال والخالة القريبين والبعيدين، وهذا حصرُ المحللات، يؤخذ من مفهومه أنَّ ما عداهنَّ من الأقارب غير محلَّل؛ كما تقدَّم في سورة النساء؛ فإنَّه لا يُباح من الأقارب من النساء غير هؤلاء الأربع، وما عداهنَّ من الفروع مطلقاً، والأصول مطلقاً، وفروع الأب والأم، وإن نزلوا، وفروع مَنْ فوقَهم لصلبِهِ؛ فإنَّه لا يُباح.
وقوله: {اللاَّتي هاجَرْنَ [معك]}: قَيْدٌ لحلِّ هؤلاء للرسول؛ كما هو الصواب من القولين في تفسير هذه الآية، وأما غيره عليه الصلاة والسلام؛ فقد عُلم أنَّ هذا قيد لغير الصحَّةِ. {و} أحللنا لك {امرأةً مؤمنةً إن وهبتْ نفسَها للنبيِّ}: بمجرَّدِ هبتها نفسها، {إنْ أرادَ النبيُّ أن يَسْتَنكِحَها}؛ أي: هذا تحت الإرادة والرغبة، {خالصةً لك من دونِ المؤمنينَ}؛ يعني: إباحة الموهوبة ، وأما المؤمنون؛ فلا يحلُّ لهم أن يتزوَّجوا امرأةً بمجرَّد هبتها نفسها لهم. {قد عَلِمْنا ما فَرَضْنا عليهم في أزواجهم وما ملكتْ أيمانُهم}؛ أي: قد علمنا ما على المؤمنين وما يحلُّ لهم وما لا يحل من الزوجات وملك اليمين، وقد أعْلَمْناهم بذلك، وبيَّنَّا فرائِضَه فما في هذه الآية مما يخالفُ ذلك؛ فإنَّه خاصٌّ لك؛ لكون الله جَعَلَه خطاباً للرسول وحده بقوله: {يا أيُّها النبيُّ إنا أحْلَلْنا لك ... } إلى آخر الآية. وقوله: {خالصةً لك من دونِ المؤمنينَ}: وأبَحْنا لك يا أيُّها النبيُّ ما لم نُبِح لهم، ووسَّعْنا عليك ما لم نوسِّعْ على غيرك؛ {لكيلا يكونَ عليك حرجٌ}: وهذا من زيادة اعتناء الله تعالى برسوله - صلى الله عليه وسلم -، {وكان الله غفوراً رحيماً}؛ أي: لم يزل متصفاً بالمغفرة والرحمة، وينزل على عباده من مغفرته ورحمته وجودِهِ وإحسانِهِ ما اقتضتْه حكمتُه، ووجدت منهم أسبابُه.