تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 50

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَکَ اَزۡوَاجَکَ الّٰتِیۡۤ اٰتَیۡتَ اُجُوۡرَہُنَّ وَ مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ وَ بَنٰتِ عَمِّکَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَ بَنٰتِ خَالِکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیۡ ہَاجَرۡنَ مَعَکَ ۫ وَ امۡرَاَۃً مُّؤۡمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتۡ نَفۡسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنۡ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنۡ یَّسۡتَنۡکِحَہَا ٭ خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡۤ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ لِکَیۡلَا یَکُوۡنَ عَلَیۡکَ حَرَجٌ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۰﴾
اے نبی! بے شک ہم نے تیرے لیے تیری بیویاں حلال کر دیں جن کا تو نے مہر دیا ہے اور وہ عورتیں جن کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنا ہے، اس (غنیمت) میں سے جو اللہ تجھ پر لوٹا کر لایا ہے اور تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں، جنھوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مومن عورت اگر وہ اپنا آپ نبی کو ہبہ کر دے، اگر نبی چاہے کہ اسے نکاح میں لے لے۔ یہ خاص تیرے لیے ہے، مومنوں کے لیے نہیں۔ بے شک ہم نے جان لیا جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور ان عورتوں کے بارے میں فرض کیا جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، تاکہ تجھ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اے نبی! ہم نے تیرے لئے تیری وه بیویاں حلال کر دی ہیں جنہوں تو ان کا مہر دے چکا ہے اور وه لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خاﻻؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وه باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے، یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں، یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے احسانات کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ پر کچھ ایسی چیزیں حلال ٹھہرائیں جو مومنوں کے لیے بھی حلال ہیں اور کچھ چیزیں ایسی بھی حلال ٹھہرائیں جو صرف آپ کے لیے مختص ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّـاۤ٘ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنھیں ان کا اجر دے چکاہے۔ یعنی آپ نے جن بیویوں کو مہر عطا کر دیا ہے۔ یہ ان امور میں شمار ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اہل ایمان کے درمیان مشترک ہیں، کیونکہ اہل ایمان کے لیے بھی ان کی وہی بیویاں مباح ہیں جن کو انھوں نے حق مہر ادا کر دیا ہے۔ ﴿وَ اور اسی طرح ہم نے آپ کے لیے مباح کر دیں ﴿مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ وہ لونڈیاں جو آپ کی ملکیت ہیں۔ ﴿مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ ان لونڈیوں میں سے جو اللہ نے تمھیں مال غنیمت سے عطا کی ہیں۔ یعنی کفار کے مال غنیمت میں جو غلام یا آزاد عورتیں ہاتھ لگیں اور ان عورتوں کے خواہ خاوند ہوں یا نہ ہوں وہ مباح ہیں۔ یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے درمیان مشترک ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مشترک ہے: ﴿وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰؔتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰؔلٰ٘تِكَ اور تمھارے چچوں کی بیٹیاں اور تمھاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمھارے ماموؤ ں کی بیٹیاں اور تمھاری خالاؤ ں کی بیٹیاں۔ اس میں قریب اور دور کے چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ، سب شامل ہیں۔ یہ مباح عورتوں کا حصر ہے۔ اس سے مفہوم مخالف یہ اخذ کیا گیا کہ ان اقارب کے علاوہ دیگر اقارب مباح نہیں ہیں جیسا کہ سورۃالنساء میں گزر چکا ہے۔
پس مذکورہ بالا ان چار رشتہ دار عورتوں کے سوا کوئی رشتہ دار عورت مباح نہیں خواہ وہ فروع میں سے ہوں یا اصول میں سے، باپ اور ماں کی فروع میں سے خواہ کتنا ہی نیچے چلے جائیں اور ان سے اوپر کی فروع اپنے صلب کی بنا پر۔ اس لیے کہ وہ مباح نہیں۔ ﴿الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ جو آپ کے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مذکورہ بالا عورتوں کی حلت اس قید سے مقید ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں منقول دو اقوال میں سے یہی قول قرین صواب ہے۔ آپ کے سوا دیگر اہل ایمان کے لیے یہ قید صحیح نہیں۔
﴿وَ اور ہم نے آپ کے لیے حلال کردیا ﴿امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ مومن عورت کو بھی جو اپنانفس نبی کو ہبہ کردے۔ اس کے اپنا نفس ہبہ کر دینے ہی سے ﴿اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا۠ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں۔ یہ آپ کے ارادہ اور رغبت پر منحصر ہے۔ ﴿خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ یہ خاص آپ ہی کے لیے ہے مومنوں کے لیے نہیں۔ یعنی یہ ہبہ کی اباحت دیگر مومنوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوں جو اپنے آپ کو ان کے لیے ہبہ کردیتی ہے۔
﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ اہل ایمان پر کیا واجب ہے، ان کے لیے بیویوں اور لونڈیوں میں سے کیا حلال ہے اور کیا حلال نہیں ہے اور اس حلت و حرمت کے بارے میں ہم نے ان کو آگاہ بھی کر دیا ہے اور اس کے فرائض بھی واضح کر دیے ہیں۔
اس آیت کریمہ میں جو احکامات دوسرے لوگوں کے مخالف ہیں، وہ آپ کے لیے خاص ہیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا ہے۔ فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّـاۤ٘ اَحْلَلْنَا لَكَ اے نبی! ہم نے آپ کے لیے حلال کی ہیں… نیز فرمایا: ﴿خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ یعنی اے نبی! ہم نے آپ کے لیے ایسی چیزیں مباح کی ہیں جو دوسروں کے لیے مباح نہیں کیں اور آپ کو جو وسعت عطا کی ہے وہ دوسروں کو عطا نہیں کی ﴿لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ تاکہ آپ پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عنایت خاص ہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا اور اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت اور رحمت کی صفات سے متصف ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اپنی حکمت اور ان کی طرف سے عمل کے اسباب کے مطابق، اپنی مغفرت و رحمت اور اپنا جود و احسان نازل کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى ممتنًّا على رسولِهِ بإحلاله له ما أحلَّ مما يشترك هو والمؤمنون وما ينفردُ به ويختصُّ: {يا أيُّها النبيُّ إنَّا أحْلَلْنا لك أزواجَكَ اللاَّتي آتيتَ أجورَهُنَّ}؛ أي: أعطيتهنَّ مهورهنَّ من الزوجات، وهذا من الأمور المشتركة بينَه وبين المؤمنين؛ فإنَّ المؤمنين كذلك يباح لهم مَنْ آتَوْهُنَّ أجورَهُنَّ من الأزواج. {و} كذلك أحللنا لك {ما مَلَكَتْ يمينُك}؛ أي: الإماء التي ملكتَ، {ممَّا أفاء الله عليكَ}: من غنيمة الكفار من عبيدِهِم، والأحرار مَنْ لهنَّ زوجٌ منهم ومَنْ لا زوجَ لهن، وهذا أيضاً مشتركٌ، وكذلك من المشترك قوله: {وبناتِ عمِّك وبناتِ عماتِك وبناتِ خالِك وبناتِ خالاتِكَ}: شمل العمَّ والعمة والخال والخالة القريبين والبعيدين، وهذا حصرُ المحللات، يؤخذ من مفهومه أنَّ ما عداهنَّ من الأقارب غير محلَّل؛ كما تقدَّم في سورة النساء؛ فإنَّه لا يُباح من الأقارب من النساء غير هؤلاء الأربع، وما عداهنَّ من الفروع مطلقاً، والأصول مطلقاً، وفروع الأب والأم، وإن نزلوا، وفروع مَنْ فوقَهم لصلبِهِ؛ فإنَّه لا يُباح.

وقوله: {اللاَّتي هاجَرْنَ [معك]}: قَيْدٌ لحلِّ هؤلاء للرسول؛ كما هو الصواب من القولين في تفسير هذه الآية، وأما غيره عليه الصلاة والسلام؛ فقد عُلم أنَّ هذا قيد لغير الصحَّةِ. {و} أحللنا لك {امرأةً مؤمنةً إن وهبتْ نفسَها للنبيِّ}: بمجرَّدِ هبتها نفسها، {إنْ أرادَ النبيُّ أن يَسْتَنكِحَها}؛ أي: هذا تحت الإرادة والرغبة، {خالصةً لك من دونِ المؤمنينَ}؛ يعني: إباحة الموهوبة ، وأما المؤمنون؛ فلا يحلُّ لهم أن يتزوَّجوا امرأةً بمجرَّد هبتها نفسها لهم. {قد عَلِمْنا ما فَرَضْنا عليهم في أزواجهم وما ملكتْ أيمانُهم}؛ أي: قد علمنا ما على المؤمنين وما يحلُّ لهم وما لا يحل من الزوجات وملك اليمين، وقد أعْلَمْناهم بذلك، وبيَّنَّا فرائِضَه فما في هذه الآية مما يخالفُ ذلك؛ فإنَّه خاصٌّ لك؛ لكون الله جَعَلَه خطاباً للرسول وحده بقوله: {يا أيُّها النبيُّ إنا أحْلَلْنا لك ... } إلى آخر الآية. وقوله: {خالصةً لك من دونِ المؤمنينَ}: وأبَحْنا لك يا أيُّها النبيُّ ما لم نُبِح لهم، ووسَّعْنا عليك ما لم نوسِّعْ على غيرك؛ {لكيلا يكونَ عليك حرجٌ}: وهذا من زيادة اعتناء الله تعالى برسوله - صلى الله عليه وسلم -، {وكان الله غفوراً رحيماً}؛ أي: لم يزل متصفاً بالمغفرة والرحمة، وينزل على عباده من مغفرته ورحمته وجودِهِ وإحسانِهِ ما اقتضتْه حكمتُه، ووجدت منهم أسبابُه.