تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ” مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ “} میں ہاتھ لگانے سے مراد جماع ہے اور یہ قرآن مجید کے بیان کی پاکیزگی ہے کہ وہ اس کے لیے صریح الفاظ کے بجائے کنائے کا لفظ استعمال کرتا ہے، مثلاً ”مساس“ یا ”ملامسہ“ وغیرہ۔ اس میں ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ یہ مفہوم ادا کرنے کے لیے صریح الفاظ کے بجائے کنائے کے الفاظ استعمال کیے جائیں۔
➌ کسی مسلمان عورت کو اگر خاوند عقد نکاح کے بعد صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو عورت پر کوئی عدت نہیں، جس میں خاوند رجوع کر سکتا ہو، بلکہ اگر وہ عورت چاہے تو اسی وقت دوسرا نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ صحبت ہوئی ہی نہیں کہ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کی ضرورت ہو کہ حمل تو نہیں ٹھہرا۔ استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”بعض اہلِ علم نے خلوت صحیحہ کو بھی بمنزلہ صحبت کے شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینے سے مہر اور عدت لازم ہو گی، مگر یہ مسئلہ بظاہر اس آیت کے خلاف ہے۔“ (اشرف الحواشی) آیت میں اگرچہ مومن عورتوں کا ذکر ہے، مگر اس بات پر اجماع ہے کہ یہودی یا عیسائی عورت کا بھی یہی حکم ہے۔ مومن عورتوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جب مومن عورت پر عدت نہیں، جسے مومن مرد کے نکاح میں رکھنے اور اسے رجوع کا موقع دینے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے، تو کتابیہ عورت پر تو بالاولیٰ عدت نہیں۔ (بقاعی)
➍ یہ حکم ان عورتوں کا ہے جنھیں دخول سے پہلے طلاق دی جائے، اگر نکاح کے بعد دخول سے پہلے خاوند فوت ہو جائے تو عورت پر عدت بھی ہو گی اور وہ خاوند کی وارث بھی ہو گی۔ معقل بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنھا کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا تھا۔ [أبوداوٗد، النکاح، باب فیمن تزوج و لم یسم لھا صداقًا حتی مات: ۲۱۱۴، و قال الألباني صحیح]
➎ { فَمَتِّعُوْهُنَّ:} جس عورت کو دخول سے پہلے طلاق دی گئی ہو وہ دو حال سے خالی نہیں، یا تو نکاح کے وقت اس کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہو گا یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں کیا گیا تو اسے مہر نہیں ملے گا اور اگر مقرر کیا گیا ہے تو نصف مہر دیا جائے گا۔ دونوں صورتوں میں عورت کو اپنی حیثیت کے مطابق کچھ سامان مثلاً کپڑوں کا جوڑا وغیرہ دینا ضروری ہے، اسے ”متعہ طلاق“ کہا جاتا ہے۔ مقصد اس کا طلاق سے ہونے والی دل شکنی کا کچھ نہ کچھ مداوا ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیات (۲۳۶، ۲۳۷) میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اس کی مقدار کا اندازہ ہوتا ہے۔ چنانچہ سہل بن سعد اور ابو اسید رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی اور آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو جیسے اس نے نا پسند کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو اسید سے کہا کہ وہ اس کا سامان تیار کریں اور اسے دو رازقیہ (کتان سے بنے ہوئے سفید لمبے) کپڑے بھی دے دیں۔“ [بخاري، الطلاق، باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرأ تہ بالطلاق؟: ۵۲۵۶، ۵۲۵۷]
➏ { ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ …:} لفظ {” ثُمَّ “} سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں، ایک یہ کہ طلاق وہ معتبر ہے جو نکاح کے بعد دی جائے، نکاح سے پہلے دی ہوئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں، مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اسے طلاق ہے، تو طلاق نہیں ہو گی، کیونکہ یہ نکاح کے بعد نہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے (اس آیت کے حوالے سے) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد رکھا ہے۔“ اور علی، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبدالرحمان، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابان بن عثمان، علی بن حسین، شریح، سعید بن جبیر، قاسم، سالم، طاؤس، حسن، عکرمہ، عطاء، عامر بن سعد، جابر بن زید، نافع بن جبیر، محمد بن کعب، سلیمان بن یسار، مجاہد، قاسم بن عبدالرحمان، عمرو بن ہرم اور شعبی رحمۃ اللہ علیھم سے مروی ہے کہ ایسی عورت کو طلاق نہیں ہو گی۔ [بخاري، الطلاق، باب لا طلاق قبل النکاح، بعد الحدیث: ۵۲۶۸] دوسرا مسئلہ یہ کہ نکاح کے بعد اگر دخول نہیں ہوا تو خواہ کتنی مدت کے بعد طلاق ہوئی ہو، عدت نہیں ہے۔
➐ { وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا:} اچھے طریقے سے چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر اچھے طریقے سے اسے طلاق دے کر رخصت کر دے۔ لوگوں کے سامنے اس کے عیوب یا شکایات کے دفتر نہ کھولے کہ کوئی اور بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ قرآن کے اس حکم سے ظاہر ہے کہ طلاق کو کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ مشروط کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے مرد نہ بھی چاہے تو اسے کوئی نہ کوئی شکوہ یا عیب بیان کرنا پڑے گا، جس سے عورت کی رسوائی ہو گی، جو اسے اچھے طریقے سے چھوڑنے کے خلاف ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لیکن اس آیت میں صرف عقد پر ہی اطلاق ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دخول سے پہلے بھی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ مومنات کا ذکر یہاں پر بوجہ غلبہ کے ہے ورنہ حکم کتابیہ عورت کا بھی یہی ہے۔ سلف کی ایک بڑی جماعت نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ طلاق اسی وقت واقع ہوتی ہے جب اس سے پہلے نکاح ہو گیا ہو اس آیت میں نکاح کے بعد طلاق کو فرمایا ہے۔
پس معلوم ہوا ہے کہ نکاح سے پہلے نہ طلاق صحیح ہے نہ وہ واقع ہوتی ہے۔ امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم اور بہت بڑی جماعت سلف و خلف کا یہی مذہب ہے۔ مالک اور ابو حنفیہ رحمہ اللہ علیہم کا خیال ہے کہ نکاح سے پہلے بھی طلاق درست ہو جاتی ہے۔ مثلاً کسی نے کہا کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ تو اب جب بھی اس سے نکاح کرے گا طلاق پڑ جائے گی۔ پھر مالک اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم میں اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو کہے کہ جس عورت سے میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں پس وہ جس سے نکاح کرے گا اس پر طلاق پڑ جائے گی اور امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ نہیں پڑے گی کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ”اگر کسی شخص نے نکاح سے پہلے یہ کہا ہو کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا ”اس عورت کو طلاق نہیں ہو گی۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے طلاق کو نکاح کے بعد فرمایا ہے۔“ پس نکاح سے پہلے کی طلاق کوئی چیز نہیں۔
مسند احمد ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ابن آدم جس کا مالک نہ ہو اس میں طلاق نہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2190،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور حدیث میں ہے { جو طلاق نکاح سے پہلے کی ہو وہ کسی شمار میں نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2048،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
پس نکاح کے بعد ہی میاں نے بیوی کو اس سے پہلے ہی اگر طلاق دے دی ہے تو اگر مہر مقرر ہو چکا ہے تو اس کا آدھا دینا پڑے گا۔ ورنہ تھوڑا بہت دے دینا کافی ہے۔
اور آیت میں ہے «وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ۱؎ [2-البقرة:237] یعنی ’ اگر مہر مقرر ہو چکا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو آدھے مہر کی وہ مستحق ہے ‘۔
چنانچہ ایسا ایک واقعہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی گزرا کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شرجیل سے نکاح کیا یہ رخصت ہو کر آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے ہاتھ بڑھایا تو گویا اس نے اسے پسند نہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید کو حکم دیا کہ ان کا سامان تیار کر دیں اور دو کپڑے ارزقیہ کے انہیں دے دیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5256]
پس «سَرَاحًا جَمِيلًا» یعنی اچھائی سے رخصت کر دینا یہی ہے کہ اس صورت میں اگر مہر مقرر ہے تو آدھا دیدے۔ اور اگر مقرر نہیں تو اپنی طاقت کے مطابق اس کے ساتھ کچھ سلوک کر دے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى المؤمنين أنَّهم إذا نكحوا المؤمنات ثم طلَّقوهنَّ من قبل أن يَمَسُّوهنَّ؛ فليس عليهنَّ في ذلك عدَّةٌ يعتدُّها أزواجهنَّ عليهن، وأمرهم بتمتيعهنَّ بهذه الحالة بشيء من متاع الدُّنيا الذي يكون فيه جبرٌ لخواطرهنَّ لأجل فراقهنَّ، وأن يفارِقوهنَّ فراقاً جميلاً من غير مخاصمةٍ ولا مشاتمةٍ ولا مطالبةٍ ولا غير ذلك.
ويستدلُّ بهذه الآية على أنَّ الطلاق لا يكونُ إلاَّ بعد النكاح، فلو طلَّقها قبل أن ينكحَها أو علَّق طلاقَها على نكاحها؛ لم يقع؛ لقوله: {إذا نَكَحْتُمُ المؤمناتِ ثم طلَّقْتُموهنَّ}، فجعل الطلاق بعد النكاح، فدل على أنَّه قبل ذلك لا محلَّ له. وإذا
كان الطلاق الذي هو فرقةٌ تامةٌ وتحريمٌ تامٌّ لا يقع قبل النكاح؛ فالتحريمُ الناقص لظهارٍ أو إيلاءٍ ونحوه من باب أولى وأحرى أن لا يقعَ قبل النكاح؛ كما هو أصحُّ قولي العلماء.
و [يدل] على جواز الطلاق لأنَّ الله أخبر به عن المؤمنين على وجهٍ لم يلُمهم عليه، ولم يؤنِّبهم مع تصدير الآية بخطاب المؤمنين.
وعلى جوازه قبل المسيس؛ كما قال في الآية الأخرى: {لا جُناحَ عليكم إن طَلَّقْتُمُ النساءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهنَّ}.
وعلى أنَّ المطلقة قبل الدخول لا عدَّةَ لها، بل بمجرَّدِ طلاقِها يجوزُ لها التزوجُ حيث لا مانعَ.
وعلى أنَّ عليها العدَّة بعد الدُّخول. وهل المراد بالدخول والمسيس الوطءُ كما هو مجمعٌ عليه أو وكذلك الخلوة ولو لم يحصُلْ معها وطءٌ كما أفتى بذلك الخلفاءُ الراشدون، وهو الصحيح؛ فمتى دَخَلَ عليها وطئها أم لا، إذا خلا بها، وجب عليها العِدَّة.
وعلى أنَّ المطلقة قبل المسيس تُمتَّع على الموسع قدره وعلى المُقْتِرِ قدرُهُ، ولكن هذا إذا لم يفرض لها مهرٌ؛ فإنْ كان لها مهرٌ مفروضٌ؛ فإنَّه إذا طَلَّقَ قبل الدُّخول؛ تَنَصَّفَ المهر، وكفى عن المتعة.
وعلى أنه ينبغي لمن فارق زوجته قبل الدُّخول أو بعده أن يكون الفراقُ جميلاً يَحمدُ فيه كلٌّ منهما الآخر، ولا يكون غيرَ جميل؛ فإنَّ في ذلك من الشرِّ المترتِّب عليه من قدح كلٍّ منهما بالآخر شيء كثير.
وعلى أن العدَّة حقٌّ للزوج؛ لقوله: {فما لكم عليهن من عدَّةٍ}: دلَّ مفهومُه أنّه لو طلَّقها بعد المسيس؛ كان له عليها عدة.
وعلى أنَّ المفارقة بالوفاة تعتدُّ مطلقاً؛ لقوله: {ثم طلَّقْتُموهنَّ ... } الآية.
وعلى أنَّ مَن عدا غير المدخول بها من المفارَقات من الزوجات بموتٍ أو حياةٍ عليهنَّ العدة.