تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ:} تیسری رعایت یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی باری آپ نے ختم کی ہو اور دوبارہ اسے طلب کرنا چاہیں، تو اس میں بھی آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔
➌ { ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ …:} بیویوں کا حق ساقط کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیویوں دونوں سے تنگی دور کرنا مقصود تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنگی دور کرنا تو ظاہر ہی ہے، بیویوں کی تنگی دور کرنا اس لحاظ سے ہے کہ جب ان میں سے ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ فلاں باری کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے ہاں رات بسر کرنا اس کا حق نہیں تو آپ کے ساتھ اور آپس میں ایک دوسری کے ساتھ بھی ان کی چپقلش اور تنازعات ازخود ختم ہو جائیں گے، کیونکہ تنازعات کی بنیاد ہی حقوق کا دعویٰ ہے۔ جب حق ہی نہ رہا تو جھگڑا کیسا۔ پھر جب آپ کسی بیوی کے پاس جائیں گے تو اس احساس سے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے اس کے پاس جانا ضروری نہیں تھا، اسے آپ کے آنے سے خوشی ہو گی اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور انھیں یہ جان کر آپ کے نہ آنے سے غم بھی نہیں ہو گا کہ آپ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت سے کر رہے ہیں اور آپ اپنی بیویوں کو جتنا وقت یا جتنی توجہ دیں گے، سب اسی پر خوش رہیں گی اور شکر گزار ہوں گی۔
➍ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان رعایتوں کے باوجود آپ نے ان سے فائدہ اٹھایا نہ اپنا نفس ہبہ کرنے والی کسی خاتون سے آپ نے نکاح کیا، نہ کسی بیوی کی باری ختم کی، صرف سودہ رضی اللہ عنھا نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنھا کو دی تو آپ نے اس کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری تمام بیویوں کے پاس باری باری جاتے تھے۔ آپ اس کا کس قدر اہتمام کرتے تھے وہ ان احادیث سے ظاہر ہے:
(1) معاذہ عدویہ نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے بیان کیا کہ اس آیت: «تُرْجِيْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُـْٔوِيْۤ اِلَيْكَ مَنْ تَشَآءُ» (ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے) کے نازل ہونے کے بعد بھی جب آپ ہم میں سے کسی عورت کی باری کے دن میں ہوتے تو ہم سے اجازت مانگتے۔ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «ترجي من تشاء منھن…» : ۴۷۸۹] فتح الباری میں ہے، یعنی آپ جس بیوی کی باری کے دن میں ہوتے دوسری کے پاس جانا چاہتے تو اس سے اجازت مانگتے۔
(2) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانا چاہتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے، پھر جس کا قرعہ نکلتا اسے ساتھ لے جاتے اور ہر بیوی کے پاس باری باری ایک دن رات رہتے، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا کے کہ اس نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنھا کے لیے ہبہ کر دی تھی، اس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتی تھیں۔“ [بخاري، الھبۃ، باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا…: ۲۵۹۳]
(3) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کی وجہ سے) بوجھل ہو گئے اور آپ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بیویوں سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گزارنے کی اجازت مانگی تو انھوں نے آپ کو اجازت دے دی۔“ [بخاري، الھبۃ، باب ہبۃ الرجل لامرأتہ والمرأۃ لزوجھا: ۲۵۸۸]
(4) عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان سے کہا: ”میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں کسی کو دوسری پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور کم ہی کوئی دن ہو گا، ورنہ آپ ہر روز ہم سب کے پاس چکر لگاتے اور بغیر مساس (بغیر صحبت) ہر ایک کے پاس ٹھہرتے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچتے جس کی باری ہوتی اور اس کے پاس رات گزارتے۔ سودہ رضی اللہ عنھا جب عمر رسیدہ ہو گئیں اور انھیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے علیحدگی اختیار کریں گے تو انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی باری عائشہ کو دی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان سے قبول کر لیا۔“ فرماتی ہیں: ”ہم کہا کرتی تھیں کہ اس اور اس جیسی عورتوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَ الصُّلْحُ خَيْرٌ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا» [النساء: ۱۲۸] ”اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی قسم کی زیادتی یا بے رخی سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح کی صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے، اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے اور اگر تم نیکی کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔“ [أبو داوٗد، النکاح، باب في القسم بین النساء: ۲۱۳۵، و قال الألباني حسن صحیح]
➎ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ:} اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بھی خطاب ہے اور تمام مومنوں سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کی عظیم ذمہ داریوں کے پیشِ نظر جو رعایتیں دی ہیں، تاکہ وہ گھریلو پریشانیوں سے آزاد رہ کر اطمینان سے دعوت کا فریضہ سر انجام دے سکیں، اس کے متعلق اگر تمھارے دلوں میں تسلیم و رضا ہو گی یا کراہت و انکار تو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے اہلِ ایمان کو جناب رسالت میں معمولی سوئے ظن سے بھی سخت اجتناب لازم ہے۔
➏ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَلِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے، مگر اس کے حلم کی بھی انتہا نہیں، اس لیے وہ تمھاری کسی خطا پر فوری گرفت نہیں کرتا، بلکہ تمھیں اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(2) سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانا چاہتے تو اپنی عورتوں پر قرعہ ڈالتے جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو ساتھ لے جاتے اور ہر عورت کے پاس باری باری ایک ایک دن رات رہتے۔ صرف سودہ بنت زمعہؓ نے (جو بہت بوڑھی ہو گئی تھیں) اپنا دن رات سیدہ عائشہؓ کو بخش دیا تھا۔ ان کی غرض یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوں۔ [بخاری۔ کتاب الھبة۔ باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا]
(3) سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بیویوں سے بیماری میں میرے گھر رہنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ [بخاری۔ کتاب الھبۃ۔ باب ھبۃ الرجل لامرأتہ والمرأۃ لزوجھا]
[82] یعنی وہ اللہ کے احکام سے خوش ہو جائیں اور باہمی جذبہ رقابت اور مسابقت کی الجھنوں میں پڑنے کی بجائے یکسو ہو کر نبی کے مشن میں اس کا ہاتھ بٹائیں اور جس طرح نبی اپنے کام میں پوری جدوجہد کر رہا ہے مصائب برداشت کر رہا ہے اور تنگی ترشی سے بے نیاز رہ کر کر رہا ہے۔ اسی طرح وہ بھی قناعت اور ایثار سے کام لیں۔ بلکہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کو اپنا مقصد حیات قرار دے کر خوشدلی سے سب کام انجام دیں اور یہ سمجھ لیں کہ باری کے حق کا سقوط آپ کی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔
[83] ”تمہارے دلوں“ کا خطاب ازواج کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر تم نے اللہ کے ان احکام کو خوشدلی کے بجائے دل کی گھٹن سے یا کبیدہ خاطر ہو کر کیا ہے تو اللہ اسے بھی جانتا ہے اور اس پر گرفت ہو گی اور اگر اس لفظ کا خطاب عام لوگوں کی طرف ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ اگر ان حقائق کے بجائے نبی کی ازدواجی زندگی سے متعلق تمہارے دلوں میں کوئی اور بدگمانی پیدا ہو تو وہ بھی اللہ سے چھپی نہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ساتھ ہی اپنی صفت حلیم کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا ہو جسے وہ دل سے نکال دے تو اللہ اس پر گرفت نہیں فرمائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس معلوم ہوا کہ آیت سے مراد یہی عورتیں ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں قبول کریں اور جسے چاہیں قبول نہ فرمائیں۔ پھر اس کے بعد یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں ہے کہ جنہیں قبول نہ فرمایا ہو انہیں جب چاہیں نواز دیں۔
عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جنہیں مؤخر کر رکھا تھا ان میں ام شریک رضی اللہ عنہا تھیں۔ ایک مطلب اس جملے کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار تھا کہ اگر چاہیں تقسیم کریں چاہیں نہ کریں جسے چاہیں مقدم کریں جسے چاہیں مؤخر کریں۔ اسی طرح خاص بات چیت میں بھی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پوری عمر برابر اپنی ازواج مطہرات میں عدل کے ساتھ برابری کی تقسیم کرتے رہے۔ بعض فقہاء شافعیہ کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم واجب تھی۔
بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { اس آیت کے نازل ہو چکنے کے بعد بھی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اجازت لیا کرتے تھے۔ مجھ سے تو جب دریافت فرماتے میں کہتی اگر میرے بس میں ہو تو میں کسی اور کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز نہ جانے دوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4789]
پھر فرماتا ہے کہ ’ یہی حکم بالکل مناسب ہے اور ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سہولت والا ہے۔ جب وہ جان لیں گی کہ آپ باریوں کے مکلف نہیں ہیں۔ پھر بھی مساوات قائم رکھتے ہیں تو انہیں بہت خوشی ہوگی۔ اور ممنون و مشکور ہوں گی اور آپ کے انصاف و عدل کی داد دیں گی۔ اللہ دلوں کی حالتوں سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کسے کس کی طرف زیادہ رغبت ہے ‘۔
مسند میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طور پر صحیح تقسیم اور پورے عدل کے بعد اللہ سے عرض کیا کرتے تھے کہ { الہ العالمین جہاں تک میرے بس میں تھا میں نے انصاف کر دیا۔ اب جو میرے بس میں نہیں اس پر تو مجھے ملامت نہ کرنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:144/6:ضعیف] یعنی دل کے رجوع کرنے کا اختیار مجھے نہیں، اللہ سینوں کی باتوں کا عالم ہے، لیکن حلم و کرم والا ہے۔ چشم پوشی کرتا ہے معاف فرماتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا أيضاً من توسعة الله على رسوله ورحمته به أن أباحَ له تَرْكَ القَسْم بين زوجاتِهِ على وجه الوجوب، وأنَّه إنْ فَعَلَ ذلك؛ فهو تبرعٌ منه، ومع ذلك؛ فقد كان - صلى الله عليه وسلم - يجتهدُ في القَسْم بينهنَّ في كلِّ شيءٍ، ويقول: «اللهم! هذا قَسْمي فيما أملك؛ فلا تَلُمْني فيما لا أملِك» ، فقال هنا: {تُرْجي مَن تشاء منهنَّ}؛ أي: تؤخر من أردتَ من زوجاتك، فلا تؤويها إليك، ولا تبيتُ عندها، {وتُؤوي إليك مَن تشاءُ}؛ أي: تضمُّها وتبيت عندها، {و} مع ذلك؛ لا يتعيَّنُ هذا الأمر. فمن {ابتغيتَ}؛ أي: أن تؤويها، {فلا جُناح عليكَ}: والمعنى أنَّ الخيرة بيدك في ذلك كلِّه. وقال كثيرٌ من المفسِّرين: إنَّ هذا خاصٌّ بالواهبات له أن يُرجي من يشاء ويؤوي من يشاءُ؛ أي: إن شاء؛ قَبِلَ مَنْ وَهَبَتْ نفسها له، وإن شاء؛ لم يقبلها. والله أعلم.
ثم بيَّنَ الحكمةَ في ذلك، فقال: {ذلك}؛ أي: التوسعةُ عليك وكونُ الأمر راجعاً إليك وبيدك وكونُ ما جاء منك إليهنَّ تبرعاً منك؛ {أدنى أن تَقَرَّ أعيُنُهُنَّ ولا يحزنَّ ويرضينَ بما آتيتهنَّ كلهنَّ}: لعلمهنَّ أنَّك لم تتركْ واجباً ولم تفرِّطْ في حقٍّ لازم، {والله يعلم ما في قلوبكم}؛ أي: ما يعرض لها عند أداء الحقوق الواجبة والمستحبَّة وعند المزاحمة في الحقوق؛ فلذلك شرع لك التوسعة يا رسول الله؛ لتطمئنَّ قلوبُ زوجاتك، {وكان الله عليماً حليماً}؛ أي: واسع العلم، كثير الحلم، ومِنْ علمِهِ أنْ شَرَعَ لكم ما هو أصلحُ لأموركم وأكثرُ لأجورِكم، ومن حلمِهِ أنْ لم يعاقِبْكُم بما صَدَرَ منكم، وما أصرتْ عليه قلوبُكم من الشرِّ.