اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ہم انھیں ضرور ہی جنت کے اونچے گھروں میں جگہ دیں گے، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں، یہ ان عمل کرنے والوں کا اچھا بدلہ ہے۔
En
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو ہم بہشت کے اُونچے اُونچے محلوں میں جگہ دیں گے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلہ ہے
اور جولوگ ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے انہیں ہم یقیناً جنت کے ان باﻻ خانوں میں جگہ دینگے جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں جہاں وه ہمیشہ رہیں گے، کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے
En
(آیت 58) ➊ { وَالَّذِيْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ …:} اس سے پہلے آیت (۵۴) اور (۵۵) میں کفار کے ٹھکانے کا ذکر فرمایا تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے مومن بندوں کے لیے تیار کیے جانے والے بہترین ٹھکانے کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے صالح اعمال کیے، ہم انھیں جنت کے بلند و بالا مکانوں میں جگہ دیں گے۔ (دیکھیے فرقان: ۷۵۔ زمر: ۲۰) جن کے نیچے پانی، دودھ، شراب اور شہد کی نہریں بہ رہی ہوں گی۔ (دیکھیے سورۂ محمد: ۱۵) جس طرف ان نہروں کا رخ پھیرنا چاہیں گے پھیر لیں گے۔ (دیکھیے دہر: ۶) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ (دیکھیے کہف: ۲، ۳ اور ۱۰۷، ۱۰۸)۔ ➋ { نِعْمَاَجْرُالْعٰمِلِيْنَ:} یعنی جنت کے وہ بالا خانے ان عمل کرنے والوں کا بہت اچھا بدلا ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
58-1یعنی اہل جنت کے مکانات بلند ہونگے، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ یہ نہریں پانی، شراب، شہد اور دودھ کی ہونگی، علاوہ ازیں انھیں جس طرف پھیرنا چاہیں گے، ان کا رخ اسی طرف ہوجائے گا۔ 58-2ان کے زوال کا خطرہ ہوگا نہ انھیں موت کا اندیشہ نہ کسی اور جگہ پھرجانے کا خوف۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
58۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ہم انھیں جنت کے بالا خانوں [90] میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ عمل کرنے والوں کے لئے کیا ہی اچھا اجر ہے
[90] یعنی ہجرت کی صورت میں تمہارے دنیوی مفادات بھی مجروح ہوں گے اور کئی طرح کی مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں۔ ان کے بدلہ میں اللہ نے تمہارے لئے جو اجر تیار کر رکھا ہے۔ وہ ان سب چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ جن کا تمہیں فکر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کی تفسیر آیت 56 میں تا آیت 60 میں گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔