ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 52

قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ شَہِیۡدًا ۚ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡبَاطِلِ وَ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۵۲﴾
کہہ دے اللہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ لوگ جو باطل پر ایمان لائے اور انھوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ En
کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے۔ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اُٹھانے والے ہیں
En
کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ گواه ہونا کافی ہے وه آسمان وزمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے ہیں وه زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52) ➊ {قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ شَهِيْدًا:} کفار کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا یہ ایک اور جواب ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ [الرعد: ۴۳] اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا،کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔ یعنی اگر تم مجھے جھٹلاتے ہو تو میرے اور تمھارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمھاری تکذیب اور سرکشی کو اور میری سچائی اور خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا، کیونکہ وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام لیے نہیں چھوڑتا، جیسے خود اس کا فرمان ہے: «{ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل (44) لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ (45) ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (46) فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ [الحاقۃ: ۴۴ تا ۴۷] اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی بات تم سے کہتا ہوں، اس لیے وہ میری تائید کر رہا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جا رہا ہے اور واضح معجزات اور قطعی دلائل کے ساتھ میری تائید فرماتا جا رہا ہے۔ (ابن کثیر)
➋ {يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، نہ میرا پیغام رسالت پہنچانا اور نہ تمھارا جھٹلانا۔ وہ اپنے علم کے مطابق قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔
➌ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ …:} جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اصل خسارے والے یہی لوگ ہیں، کیونکہ انھوں نے حق کو چھوڑا اور باطل کو اختیار کیا، پھر اس سے بڑھ کر خسارا کیا ہو گا؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں اس کی جزا دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52-1اس بات پر کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور جو کتاب مجھ پر نازل ہوئی ہے یقینا منجانب اللہ ہے۔ 52-2یعنی غیر اللہ کی عبادت کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور جو فی الواقع مستحق عبادت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ، اس کا انکار کرتے ہیں۔ 52-3کیونکہ یہی لوگ فساد عقلی اور سوء فہم میں مبتلا ہیں، اسی لئے انہوں نے سودا کیا ہے کہ ایمان والوں کے بدل کفر اور ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ہے، اس میں یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ آپ ان سے کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ کافی [84] ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے اور جو لوگ باطل کو مانتے اور اللہ کا انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
[84] کفار مکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے خالق و مالک ہونے کی صفات کے قائل تھے۔ لہٰذا ان سے یہ کہا گیا کہ آپ ان سے کہیئے اگر میں رسالت کا دعویٰ کر کے اس پر جھوٹ باندھنے کا ارتکاب کر رہا ہوں تو چاہئے تو یہ تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دیتا مگر عملاً یہ ہو رہا ہے کہ وہ روز بروز مجھے اور میرے ساتھیوں کو بڑھا رہا ہے۔ پھر مجھے معجزہ بھی دیا ہے۔ جس کا جواب پیش کرنے سے تم عاجز ہو تو کیا میری رسالت پر اللہ کی یہ گواہی کافی نہیں؟ ہاں کوئی شخص اگر یہ تہیہ کر لے کہ وہ حق بات کبھی نہ مانے گا تو وہ اور بات ہے اور یہی انسان کی سب سے بڑی بد بختی اور اس کے حق میں نقصان دہ بات ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ كَ٘فٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَبَیْنَكُمْ شَهِیْدًا کہہ دیجیے کہ میرے اور تمھارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ اس لیے میں نے اسے گواہ بنایا ہے اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کا عبرتناک عذاب نازل ہو اگر اللہ تعالیٰ میری تائید اور مدد کرتا اور میرے لیے میرے تمام معاملات آسان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جلیل القدر شہادت تمھارے لیے کافی ہونی چاہیے اور اگر تمھارے دلوں میں یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت... جسے تم نے سنا ہے نہ دیکھا ہے… دلیل کے لیے کافی نہیں تو اللہ تعالیٰ ﴿یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ میرا حال، تمھارا حال اور میری باتیں اس کے جملہ علم میں شامل ہیں۔ اگر میں نے اس پر جھوٹ گھڑا ہے، حالانکہ وہ اس کا علم رکھتا ہے اور مجھے سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے، تو یہ اس کے علم، قدرت اور حکمت میں قادح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ۰۰لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ (الحاقۃ: 69؍44-46) اور اگر اس نے ہم پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور، پھر اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔
﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰؔسِرُوْنَ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ کا انکار کیا، وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان نہ لا کر خسارے میں رہے اور چونکہ ان سے دائمی نعمتیں چھوٹ گئیں اور حق کے مقابلے میں باطل حاصل ہوا اور نعمتوں کے مقابلے میں الم ناک عذاب، اسی لیے وہ قیامت کے روز اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل كفى بالله بيني وبينَكم شهيداً}: فأنا قد استَشْهَدْتُه؛ فإنْ كنتُ كاذباً؛ أحلَّ بي ما به تعتبرون، وإنْ كان إنما يؤيِّدني، وينصرني، وييسِّر لي الأمور؛ فلتكفكمْ هذه الشهادةُ الجليلةُ من الله؛ فإنْ وقع في قلوبكم أنَّ شهادته ـ وأنتم لم تسمَعوه ولم تَرَوْه ـ لا تكفي دليلاً؛ فإنَّه {يعلم ما في السمواتِ والأرضِ}: ومن جملةِ معلوماته حالي وحالُكم ومقالي لكم ؛ فلو كنت متقوِّلاً عليه مع علمِهِ بذلك وقدرتِهِ على عقوبتي؛ لكان قدحاً في علمه وقدرته وحكمته؛ كما قال تعالى: {ولو تَقَوَّلَ عَلَينا بعضَ الأقاويل لأخَذْنا منه باليمينِ ثم لَقَطَعْنا منه الوتينَ}. {والذين آمنوا بالباطل وكفروا بالله أولئكَ هم الخاسرونَ}: حيث خَسِروا الإيمان بالله وملائكتِهِ وكتبِهِ ورسلِهِ واليوم الآخر، وحيث فاتهم النعيمُ المقيمُ، وحيث حَصَلَ لهم في مقابلة الحقِّ الصحيح كلُّ باطل قبيح، وفي مقابلة النعيم كلُّ عذاب أليم، فخسروا أنفسَهم وأهليهم يوم القيامةِ.