تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { يُتْلٰى عَلَيْهِمْ:} یہ کتاب ہر جگہ اور ہر وقت ان کے سامنے پڑھی جا رہی ہے، یعنی ایسا نہیں کہ یہ معجزہ ان سے مخفی یا ان کی نگاہوں سے کسی وقت اوجھل ہو۔ جب کہ اس سے پہلے انبیاء کے معجزے ہر وقت سامنے نہیں ہوتے تھے۔ عصائے موسیٰ سانپ بنا مگر چند بار، ہر وقت نہیں۔
➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کردہ معجزہ (قرآن کریم) کی دوخصوصیات بیان فرمائیں، جو پہلے کسی پیغمبر کے معجزے میں نہیں تھیں۔ پہلی یہ کہ پہلے پیغمبروں کے معجزے ان کی اقوام کے لیے عذاب کا باعث ہوتے، کیونکہ ان میں حقیقت سے اس طرح پردہ اٹھا دیا گیا تھا کہ جب آنکھوں سے دیکھ کر وہ ایمان نہ لائے تو اللہ کے عذاب نے ان کا نام ونشان مٹا دیا۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کردہ معجزہ (قرآن کریم) بنی نوع انسان کے لیے سراسر رحمت ہے، کیونکہ اسے نہ ماننے والوں کے لیے بھی مہلت ہے کہ ان پر فوراً عذاب نہیں آتا۔ یہ {” اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً “} کا مطلب ہے۔ دوسری خصوصیت یہ کہ پہلے پیغمبروں کے معجزے ان کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے، جب کہ قرآن کریم قیامت تک اہلِ ایمان کی نصیحت اور یاد دہانی کے لیے باقی رہے گا۔ یہ {” ذِكْرٰى “} کا مفہوم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے ایک اور آیت میں ہے کہ ’ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گزشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:59] کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں، پیغمبر ہوں، قاصد ہوں، میراکام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا۔ نیک بد سمجھا دیا۔ اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کر دے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کر سکتا۔
چنانچہ ایک اور جگہ ہے: ’ تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:277] بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آ چکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کرمعجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کامعارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کر سکے۔
جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ ’ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:44-47]
چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لیے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتاجاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کاجاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بداعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما كان المقصودُ بيانَ الحقِّ؛ ذكر تعالى طريقَه، فقال: {أوَلَم يكفِهِم}: في علمهم بصدقك وصدق ما جئتَ به، {أنَّا أنْزَلْنا عليك الكتابَ يُتلى عليهم}: وهذا كلامٌ مختصرٌ جامعٌ فيه من الآيات البينات والدلالات الباهرات شيءٌ كثير؛ فإنَّه كما تقدَّم إتيانُ الرسول به بمجرَّده وهو أميٌّ من أكبر الآيات على صدقه، ثم عجزهم عن معارضته وتحدِّيهم إيَّاه آية أخرى، ثم ظهوره وبروزه جهراً علانيةً يُتلى عليهم، ويقالُ هو من عند الله، قد أظهره الرسول وهو في وقتٍ قلَّ فيه أنصارُه وكَثُرَ مخالفوه وأعداؤه؛ فلم يُخْفِهِ، ولم يَثْنِ ذلك عزمه، بل صرَّح به على رؤوسِ الأشهاد، ونادى به بين الحاضر والباد؛ بأنَّ هذا كلامُ ربي؛ فهل أحدٌ يقدر على معارضته أو ينطِقُ بمباراته أو يستطيع مجاراته؟! ثم إخباره عن قصص الأولين وأنباء السالفين والغيوب المتقدِّمة والمتأخِّرة، مع مطابقته للواقع.
ثم هيمنتُهُ على الكتب المتقدِّمة وتصحيحُهُ للصحيح، ونفيُ ما أُدْخِلَ فيها من التحريف والتبديل، ثم هدايته لسواء السبيل في أمره ونهيه؛ فما أمر بشيء فقال العقلُ: ليتَه لم يأمُرْ به، ولا نهى عن شيءٍ فقال العقلُ: ليته لم ينهَ عنه، بل هو مطابقٌ للعدل والميزان والحكمة المعقولة لذوي البصائر والعقول، ثم مسايرةُ إرشاداته وهدايته وأحكامه لكلِّ حال وكلِّ زمان بحيث لا تصلُح الأمورُ إلاَّ به؛ فجميع ذلك يكفي مَنْ أراد تصديقَ الحقِّ، وعَمِلَ على طلب الحقِّ؛ فلا كفى اللهُ من لم يَكْفِهِ القرآن، ولا شَفى الله من لم يَشْفِهِ الفرقان، ومن اهتدى به واكتفى؛ فإنَّه رحمةٌ له وخيرٌ ؛ فلذلك قال: {إنَّ في ذلك لرحمةً وذِكْرى لقوم يؤمنونَ}: وذلك لما يُحَصِّلون فيه من العلم الكثير، والخير الغزير، وتزكية القلوب والأرواح، وتطهير العقائد، وتكميل الأخلاق، والفتوحات الإلهية والأسرار الربانية.