ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 51

اَوَ لَمۡ یَکۡفِہِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَرَحۡمَۃً وَّ ذِکۡرٰی لِقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۵۱﴾
اور کیا انھیں یہ کافی نہیں ہوا کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے۔ بے شک اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے بڑی رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں۔ En
کیا اُن لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اُن کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لیے اس میں رحمت اور نصیحت ہے
En
کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) ➊ {اَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ …:} فرمایا، یہ لوگ نشانی طلب کرتے ہیں، کیا نشانی کے لیے انھیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ عظیم کتاب نازل کی ہے، جب کہ آپ اُمّی (اَن پڑھ) تھے؟ ایک اَن پڑھ شخص پر اتنی عظیم کتاب کا نازل ہونا کیا کم معجزہ ہے، جس کی ایک سورت کی مثال لانے سے کل عالم عاجز ہے؟ مطلب یہ کہ اگر تم ہدایت قبول کرنا چاہو تو قرآن کریم ہی اس مقصد کے لیے کافی معجزہ ہے، اس کے ہوتے ہوئے مزید نشانیاں طلب کرنا محض ہٹ دھرمی ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلاَّ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ أُوْمِنَ، أَوْ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِيْ أُوْتِيْتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللّٰهُ إِلَيَّ فَأَرْجُوْ أَنِّيْ أَكْثَرُهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ] [بخاري، الاعتصام بالکتاب و السنۃ، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعثت بحوامع الکلم: ۷۲۷۴] انبیاء میں سے جو بھی نبی تھا، اسے نشانیوں میں سے ایسی نشانیاں دی گئیں جن نشانیوں (کو دیکھ کر ان) پر آدمی ایمان لائے اور مجھے جو نشانی دی گئی وہ صرف وحی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی۔ اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے ان سب سے زیادہ ہوں گے۔
➋ { يُتْلٰى عَلَيْهِمْ:} یہ کتاب ہر جگہ اور ہر وقت ان کے سامنے پڑھی جا رہی ہے، یعنی ایسا نہیں کہ یہ معجزہ ان سے مخفی یا ان کی نگاہوں سے کسی وقت اوجھل ہو۔ جب کہ اس سے پہلے انبیاء کے معجزے ہر وقت سامنے نہیں ہوتے تھے۔ عصائے موسیٰ سانپ بنا مگر چند بار، ہر وقت نہیں۔
➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کردہ معجزہ (قرآن کریم) کی دوخصوصیات بیان فرمائیں، جو پہلے کسی پیغمبر کے معجزے میں نہیں تھیں۔ پہلی یہ کہ پہلے پیغمبروں کے معجزے ان کی اقوام کے لیے عذاب کا باعث ہوتے، کیونکہ ان میں حقیقت سے اس طرح پردہ اٹھا دیا گیا تھا کہ جب آنکھوں سے دیکھ کر وہ ایمان نہ لائے تو اللہ کے عذاب نے ان کا نام ونشان مٹا دیا۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کردہ معجزہ (قرآن کریم) بنی نوع انسان کے لیے سراسر رحمت ہے، کیونکہ اسے نہ ماننے والوں کے لیے بھی مہلت ہے کہ ان پر فوراً عذاب نہیں آتا۔ یہ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً } کا مطلب ہے۔ دوسری خصوصیت یہ کہ پہلے پیغمبروں کے معجزے ان کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے، جب کہ قرآن کریم قیامت تک اہلِ ایمان کی نصیحت اور یاد دہانی کے لیے باقی رہے گا۔ یہ { ذِكْرٰى } کا مفہوم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51-1یعنی وہ نشانیاں طلب کرتے ہیں۔ کیا ان کے لیے بطور نشانی قرآن کافی نہیں ہے جو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور جس کی بابت انھیں چیلنج دیا گیا ہے کہ اس جیسا قرآن لا کردکھائیں یا کوئی ایک سورت ہی بنا کر پیش کردیں۔ جب قرآن کی اس معجزہ نمائی کے باوجود یہ قرآن پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کی طرح انھیں معجزے دکھا بھی دیے جائیں تو اس پر یہ کون سا ایمان لے آئیں گے۔ 51-2یعنی ان لوگوں کے لیے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہے، کیونکہ وہی اس سے متمتع اور فیض یاب ہوتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ کیا انھیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے ان پر یہ کتاب نازل [83] کی ہے جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ اس میں ایمان لانے والوں کے لئے یقیناً رحمت اور نصیحت ہے۔
[83] قرآن زندہ جاوید معجزہ ہے :۔
یعنی پہلے انبیاء کو جتنے معجزات عطا کئے جاتے رہے وہ سب وقتی اور عارضی تھے جو کسی نے دیکھے کسی نے نہ دیکھے اور آج وہ سب ختم ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ قرآن ایسا زندہ جاوید معجزہ ہے جس کی اعجازی حیثیت کو تم خود بھی تسلیم کرتے ہو۔ پھر اور کون سا معجزہ چاہتے ہو؟ پھر یہ کتاب اس لحاظ سے سب کے لئے اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ وہ تمہاری زندگی کے ہر پہلو میں تمہاری ٹھیک ٹھیک راہنمائی بھی کرتی ہے۔
آپ کی نبوت کے بعد صرف قرآن ہی کتاب ہدایت ہے :۔
ربط مضمون کے لحاظ سے اس آیت کے مخاطب کفار ہیں اور اس کا وہی مطلب ہے جو اوپر بیان ہوا تاہم اس کے مخاطب مسلمان بھی ہیں۔ انھیں بھی اس کتاب کی موجودگی میں کسی اور کتاب ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ خواہ وہ کوئی سابقہ آسمانی کتاب ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ رسول اللہ کے پاس تورات کے کچھ اوراق لائے اور انھیں پڑھنا شروع کیا۔ آپ کا چہرہ متغیر ہو رہا تھا۔ یہ صورت حال دیکھ کر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف نہیں دیکھتے؟ حضرت عمرؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں، ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہو گئے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ فرو ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ اگر آج موسیٰ ظاہر ہو جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر اس کی پیروی کرو تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ اور آج اگر موسیٰ زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو میری اتباع کے سوا انھیں کوئی چارہ نہ ہوتا۔ [مشکوۃ۔ کتاب الایمان۔ باب الاعتصام بالکتاب والسنة۔ الفصل الثالث]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن کریم ٭٭
کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کر لیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہو جائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔
جیسے ایک اور آیت میں ہے کہ ’ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گزشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:59]‏‏‏‏ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں، پیغمبر ہوں، قاصد ہوں، میراکام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا۔ نیک بد سمجھا دیا۔ اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کر دے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کر سکتا۔
چنانچہ ایک اور جگہ ہے: ’ تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:277]‏‏‏‏ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آ چکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کرمعجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کامعارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کر سکے۔
تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گزشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے۔ جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں حلاوت، جس کے انداز میں فصاحت، جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا، جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود ہیں۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور، اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لیے رحمت ونصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے اور باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے۔ گنہگاروں کا انجام دکھا کر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہدو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب وسرکشی کو اور میری سچائی و خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔
جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ ’ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:44-47]‏‏‏‏
چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لیے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتاجاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کاجاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بداعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ مقصد تو حق بیان کرنا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا طریقہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَمْ یَكْفِهِمْ کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں؟ یعنی کیا انھیں آپ کی صداقت اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کی صداقت کا یقین کافی نہیں؟ ﴿اَنَّـاۤ٘ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْ٘لٰى عَلَیْهِمْ کہ بلاشبہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ یہ مختصر اور جامع کلام ہے جو واضح آیات اور بہت سے روشن دلائل پر مشتمل ہے۔
جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پڑھ ہونے کے باوجود مجرد قرآن ہی کا پیش کرنا، آپ کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے اس پر مستزاد اس کا انھیں مقابلہ کرنے کا چیلنج دینا اور ان کا مقابلہ کرنے میں بے بس ہونا دوسری بڑی دلیل ہے۔ پھر علانیہ ان کے سامنے اس کا پڑھا جانا، اس کا غالب و ظاہر ہونا اور یہ دعویٰ کیا جانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے حالات میں اس کو دلائل کے ذریعے سے غالب کرنا، جبکہ آپ کے انصار و اعوان بہت کم اور مخالفین اور دشمن بہت زیادہ تھے، پس ان حالات میں بھی آپ کا اس کو نہ چھپانا اور آپ کا اپنے عزم و ارادہ سے باز نہ آنا بلکہ برسرعام شہروں اور دیہات میں پکار پکار کر کہنا کہ یہ میرے رب کا کلام ہے... آپ کی صداقت کا بین ثبوت ہے۔
کیا کوئی اس کے ساتھ معارضہ کر سکتا ہے، یا اس سے مقابلہ کرنے کی بات کر سکتا ہے؟ پھر گزشتہ کتابوں پر اس کی نگہبانی کرنا، صحیح باتوں کی تصدیق کرنا، تحریف اور تغیر و تبدل کی نفی کرنا اور پھر اس کا اپنے اوامر و نواہی میں راہ راست کی طرف راہنمائی کرنا، اس کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ اس نے کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیا جس کے بارے میں عقل یہ کہتی ہو کہ کاش اس نے یہ حکم نہ دیا ہوتا اور کسی ایسی چیز سے نہیں روکا جس کے بارے میں عقل یہ کہتی ہو کہ کاش اس نے اس چیز سے نہ روکا ہوتا بلکہ یہ کتاب اصحاب بصیرت اور خرد مندوں کے نزدیک عدل اور میزان کے عین مطابق ہے۔ پھر اس کے ارشادات، اس کی ہدایت و راہنمائی اور اس کے احکام تمام حالات و زماں کے لیے جاری و ساری ہیں، نیز تمام امور کی اصلاح اسی سے ممکن ہے۔… یہ تمام چیزیں اس شخص کے لیے کافی ہیں جو حق کی تصدیق چاہتا ہے اور حق کا متلاشی ہے۔
اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کفایت عطا نہیں کرتا، جس کے لیے قرآن کافی نہ ہو اور ایسے شخص کو شفا سے نہیں نوازتا جس کے لیے قرآن شافی نہ ہو۔ جو کوئی قرآن سے راہنمائی حاصل کرتا ہے اور اسے اپنے لیے کافی سمجھتا ہے تو یہ اس کے لیے رحمت اور بھلائی ہے، اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ بے شک مومنوں کے لیے اس میں نصیحت اور رحمت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عظیم کتاب علم کثیر، لامحدود بھلائی، تزکیۂ قلب و روح، تطہیر عقائد، تکمیل اخلاق، فتوحات الٰہیہ اور اسرار ربانیہ پر مشتمل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كان المقصودُ بيانَ الحقِّ؛ ذكر تعالى طريقَه، فقال: {أوَلَم يكفِهِم}: في علمهم بصدقك وصدق ما جئتَ به، {أنَّا أنْزَلْنا عليك الكتابَ يُتلى عليهم}: وهذا كلامٌ مختصرٌ جامعٌ فيه من الآيات البينات والدلالات الباهرات شيءٌ كثير؛ فإنَّه كما تقدَّم إتيانُ الرسول به بمجرَّده وهو أميٌّ من أكبر الآيات على صدقه، ثم عجزهم عن معارضته وتحدِّيهم إيَّاه آية أخرى، ثم ظهوره وبروزه جهراً علانيةً يُتلى عليهم، ويقالُ هو من عند الله، قد أظهره الرسول وهو في وقتٍ قلَّ فيه أنصارُه وكَثُرَ مخالفوه وأعداؤه؛ فلم يُخْفِهِ، ولم يَثْنِ ذلك عزمه، بل صرَّح به على رؤوسِ الأشهاد، ونادى به بين الحاضر والباد؛ بأنَّ هذا كلامُ ربي؛ فهل أحدٌ يقدر على معارضته أو ينطِقُ بمباراته أو يستطيع مجاراته؟! ثم إخباره عن قصص الأولين وأنباء السالفين والغيوب المتقدِّمة والمتأخِّرة، مع مطابقته للواقع.

ثم هيمنتُهُ على الكتب المتقدِّمة وتصحيحُهُ للصحيح، ونفيُ ما أُدْخِلَ فيها من التحريف والتبديل، ثم هدايته لسواء السبيل في أمره ونهيه؛ فما أمر بشيء فقال العقلُ: ليتَه لم يأمُرْ به، ولا نهى عن شيءٍ فقال العقلُ: ليته لم ينهَ عنه، بل هو مطابقٌ للعدل والميزان والحكمة المعقولة لذوي البصائر والعقول، ثم مسايرةُ إرشاداته وهدايته وأحكامه لكلِّ حال وكلِّ زمان بحيث لا تصلُح الأمورُ إلاَّ به؛ فجميع ذلك يكفي مَنْ أراد تصديقَ الحقِّ، وعَمِلَ على طلب الحقِّ؛ فلا كفى اللهُ من لم يَكْفِهِ القرآن، ولا شَفى الله من لم يَشْفِهِ الفرقان، ومن اهتدى به واكتفى؛ فإنَّه رحمةٌ له وخيرٌ ؛ فلذلك قال: {إنَّ في ذلك لرحمةً وذِكْرى لقوم يؤمنونَ}: وذلك لما يُحَصِّلون فيه من العلم الكثير، والخير الغزير، وتزكية القلوب والأرواح، وتطهير العقائد، وتكميل الأخلاق، والفتوحات الإلهية والأسرار الربانية.