تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ حفاظ کرام یاد رکھیں پورے قرآن میں {” لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ “} صرف اسی مقام پر ہے۔ دوسرے تمام مقامات پر {” نُزِّلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ “} یا {” اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ “} واحد کے لفظ کے ساتھ ہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے ایک اور آیت میں ہے کہ ’ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گزشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:59] کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں، پیغمبر ہوں، قاصد ہوں، میراکام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا۔ نیک بد سمجھا دیا۔ اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کر دے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کر سکتا۔
چنانچہ ایک اور جگہ ہے: ’ تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:277] بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آ چکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کرمعجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کامعارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کر سکے۔
جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ ’ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:44-47]
چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لیے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتاجاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کاجاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بداعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: واعترض هؤلاء الظالمون المكذِّبون للرسول ولما جاء به، واقترحوا عليه نزول آياتٍ عيَّنوها؛ كقولهم: {وقالوا لن نؤمنَ لك حتى تَفْجُرَ لنا من الأرضِ يَنبوعاً ... } الآيات، فتعيين الآياتِ ليس عندَهم ولا عندَ الرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنَّ في ذلك تدبيراً مع اللَّه، وأنَّه لو كان كذا، وينبغي أن يكون كذا، وليس لأحدٍ من الأمر شيءٌ، ولهذا قال: {قلْ إنَّما الآياتُ عند الله}: إنْ شاء أنْزَلَها أو منعها، {وإنَّما أنا نذيرٌ مبينٌ}: وليس لي مرتبة فوق هذه المرتبة. وإذا كان القصدُ بيانَ الحقِّ من الباطل؛ فإذا حصل المقصود بأيِّ طريق كان؛ كان اقتراحُ الآيات المعيَّنات على ذلك ظلماً وجوراً وتكبُّراً على الله وعلى الحق، بل لو قُدِّرَ أن تنزِلَ تلك الآياتُ ويكونَ في قلوبهم أنَّهم لا يؤمنون بالحقِّ إلاَّ بها؛ كان ذلك ليس بإيمان، وإنما ذلك شيء وافقَ أهواءهم، فآمنوا لا لأنَّه حقٌّ، بل لتلك الآيات؛ فأيُّ فائدة حصلت في إنزالها على التقدير الفرضيِّ؟