وَ مَنۡ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفۡسِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶﴾
اور جو جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے جہاد کرتا ہے، یقینا اللہ تو سارے جہانوں سے بہت بے پروا ہے۔
En
اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے۔ اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے
En
اور ہر ایک کوشش کرنے واﻻ اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 6) ➊ { وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ: ”جَهَدَ يَجْهَدُ“} کا معنی کوشش کرنا ہے اور {” جَاهَدَ “} (مفاعلہ) میں مقابلے کا مفہوم بھی ہے اور مبالغے کا بھی، یعنی کسی کے مقابلے میں پوری کوشش لگا دینا۔ مومن کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر کاربند رہنے کے لیے بہت سی چیزوں کے مقابلے میں جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اسے اپنے نفس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ہر وقت اسے اپنی خواہش کا غلام بنانے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے، شیطان کا بھی جس نے اس کی دشمنی کی قسم کھا رکھی ہے اور اپنے گھر سے لے کر تمام دنیا کے ان انسانوں کا بھی جو اسے راہ حق سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ اسے اس کوشش میں لڑائی بھی کرنا پڑتی ہے، جس میں وہ دشمن کو قتل کرتا ہے اور خود بھی قتل ہو جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاد کا لفظ اکثر اسی معنی میں آیا ہے۔ سب سے اونچا درجہ اس کا وہ ہے، جب وہ سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا کر قربان ہو جاتا ہے۔ عبد اللہ بن حُبْشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں (لمبی حدیث ہے): [قِيْلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِيْنَ بِمَالِهِ، وَنَفْسِهِ، قِيْلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ] [مسند أحمد: 411/3، ۴۱۲، ح: ۱۵۴۰۷، قال محقق المسند إسنادہ قوي۔ أبوداوٗد: ۱۴۴۹، قال الألباني صحیح]”(نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے) سوال کیا گیا کہ کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مشرکین کے ساتھ اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔“ پوچھا گیا: ”پھر کون سا قتل سب سے اونچی شان والا ہے؟“ فرمایا: ”جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کا عمدہ گھوڑا کاٹ دیا جائے۔“
➋ فرمایا، جو شخص اپنے نفس یا شیطان یا کسی بھی دشمن کے مقابلے میں اپنی آخری کوشش لگا دیتا ہے اس کا فائدہ خود اس کو ہے، اللہ تعالیٰ کو نہ کسی کی عبادت سے کوئی فائدہ ہے نہ کسی کے گناہ سے کوئی نقصان، بلکہ اگر کسی کو توفیق ملی ہے تو اسے مزید اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ کی آیت (۴۶): «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا }» ”جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہو گی۔“ اور سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷): «{ اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا }» ”اگر تم نے بھلائی کی تو اپنی جانوں کے لیے بھلائی کی اور اگر برائی کی تو انھی کے لیے۔“
➌ { اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ:} ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب تعالیٰ سے بیان کیا، لمبی حدیث ہے، اس میں ہے: [يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۷] ”اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے اور تمھارے پچھلے، تمھارے انسان اور تمھارے جنّ سب تم میں سے ایک ایسے آدمی جیسے ہو جائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیز گار ہے تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہیں ہو گا اور اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے اور تمھارے پچھلے، تمھارے انسان اور تمھارے جنّ سب تم میں سے ایک ایسے آدمی جیسے ہو جائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ فاجر ہے تو اس سے میری بادشاہت میں سے کچھ بھی کم نہیں ہو گا۔“
➍ مفسر رازی نے فرمایا، اس آیت میں خوش خبری بھی ہے اور ڈرانا بھی۔ ڈرانا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جب سارے جہانوں سے غنی ہے تو اگر وہ تمام بندوں کو اپنے عذاب کے ساتھ ہلاک کر دے تو کوئی اسے پوچھنے والا نہیں اور خوش خبری اس لیے کہ اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اپنے بندوں میں سے کسی ایک بندے کو دے دے تو اس کا کچھ کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں سے کسی چیز کی اسے تو ضرورت نہیں، وہ سارے جہانوں سے بے پروا ہے، پھر {”كُنْ“} کہہ کر وہ جتنا چاہے اور پیدا کر سکتا ہے، یہ بات بہت امید دلانے والی اور بہت بڑی خوش خبری ہے۔
➋ فرمایا، جو شخص اپنے نفس یا شیطان یا کسی بھی دشمن کے مقابلے میں اپنی آخری کوشش لگا دیتا ہے اس کا فائدہ خود اس کو ہے، اللہ تعالیٰ کو نہ کسی کی عبادت سے کوئی فائدہ ہے نہ کسی کے گناہ سے کوئی نقصان، بلکہ اگر کسی کو توفیق ملی ہے تو اسے مزید اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ کی آیت (۴۶): «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا }» ”جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہو گی۔“ اور سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷): «{ اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا }» ”اگر تم نے بھلائی کی تو اپنی جانوں کے لیے بھلائی کی اور اگر برائی کی تو انھی کے لیے۔“
➌ { اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ:} ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب تعالیٰ سے بیان کیا، لمبی حدیث ہے، اس میں ہے: [يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۷] ”اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے اور تمھارے پچھلے، تمھارے انسان اور تمھارے جنّ سب تم میں سے ایک ایسے آدمی جیسے ہو جائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیز گار ہے تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہیں ہو گا اور اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے اور تمھارے پچھلے، تمھارے انسان اور تمھارے جنّ سب تم میں سے ایک ایسے آدمی جیسے ہو جائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ فاجر ہے تو اس سے میری بادشاہت میں سے کچھ بھی کم نہیں ہو گا۔“
➍ مفسر رازی نے فرمایا، اس آیت میں خوش خبری بھی ہے اور ڈرانا بھی۔ ڈرانا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جب سارے جہانوں سے غنی ہے تو اگر وہ تمام بندوں کو اپنے عذاب کے ساتھ ہلاک کر دے تو کوئی اسے پوچھنے والا نہیں اور خوش خبری اس لیے کہ اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اپنے بندوں میں سے کسی ایک بندے کو دے دے تو اس کا کچھ کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں سے کسی چیز کی اسے تو ضرورت نہیں، وہ سارے جہانوں سے بے پروا ہے، پھر {”كُنْ“} کہہ کر وہ جتنا چاہے اور پیدا کر سکتا ہے، یہ بات بہت امید دلانے والی اور بہت بڑی خوش خبری ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6-1یعنی جو نیک عمل کرے گا، اس کا فائدہ اسی کو ہوگا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں کے افعال سے بےنیاز ہے۔ اگر سارے کے سارے متقی بن جائیں تو اس سے اس کی سلطنت میں قوت و اضافہ نہیں ہوگا اور سب نافرمان ہوجائیں تو اس سے اس کی بادشاہی میں کمی نہیں ہوگی۔ الفاظ کی مناسبت سے اس میں جہاد مع الکفار بھی شامل ہے کہ وہ بھی من جملہ اعمال صالحہ ہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اور جو شخص جہاد کرے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے جہاد [6] کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اہل عالم سے بے نیاز [7] ہے
[6] جہاد کے مختلف محاذ اور اقسام:۔
جہاد بمعنی کسی انسان کی مقدور بھر کوشش جو اسلام کے نفاذ اور اس کی سربلندی کے لئے کی جائے۔ پھر اس جہاد کی اقسام بھی متعدد ہیں اور محاذ بھی متعدد ہیں۔ اقسام سے مراد مثلاً زبان سے جہاد ایک دوسرے کو سمجھانا اور تلقین کرنا یا تقریروں کے ذریعہ تبلیغ کرنا اور قلم سے جہاد یعنی اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور اسلام پر وارد ہونے والے اعتراضات اور حملوں کا جواب لکھنا اور پھر اس کے بعد اجتماعی جہاد یا جہاد بالسیف یا قتال فی سبیل اللہ ہے۔ اور جہاد کا سب سے پہلا محاذ انسان کا اپنا نفس ہے۔ پھر اس کے بعد عزیز و اقارب پھر اس کے بعد پورا معاشرہ ہے۔ اور آخری محاذ قتال فی سبیل اللہ یعنی ان کافروں سے جنگ کرنا ہے جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو گئے ہوں یا اسلام کو نیست و نابود کرنے پر تلے بیٹھے ہوں۔ جہاد اگر نفس سے کیا جائے گا تو جہاد کرنے والے کی اپنی اخلاقی اور روحانی اصلاح ہو گی اگر اجتماعی جہاد اپنے معاشرہ سے کیا جائے گا تو پورا معاشرہ بے حیائیوں سے اور ظلم و جور سے پاک ہو گا اور اگر جہاد بالسیف کیا جائے گا تو اس سے مسلمانوں کو سیاسی فائدے حاصل ہوں گے۔ جس قسم کا بھی جہاد کیا جائے گا، بالآخر اس کا فائدہ جہاد کرنے والے کی ذات کو ہی پہنچے گا۔
[7] جہاد کی توفیق دینا بھی اللہ کی مہربانی ہے :۔
یعنی جہاد کرنے والا اگر جہاد نہ کرے تو اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچے گا اور اگر جہاد کرتا ہے تو بھی اللہ کو اس کا کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اور اللہ کی بے نیازی کا تو یہ عالم ہے کہ اللہ فرماتے ہیں ”اے میرے بندو! اگر تم تمام جن و انس سارے کے سارے اس شخص کی طرح بن جاؤ جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار ہے تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ بھر بھی اضافہ نہیں ہو گا اور اے میرے بندو! اگر تم تمام جن و انس سارے کے سارے اس شخص کی طرح ہو جاؤ جو تم میں سے سب سے زیادہ میرا نافرمان اور بد کار ہے تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ بھر بھی کمی واقع نہ ہو گا“ [مسلم۔ کتاب البروالصلہ۔ باب تحریم الظلم]
پھر یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص اسلام کی سربلندی کے لئے کوئی کام کرتا ہے تو اسے ہرگز یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اللہ پر کچھ احسان کر رہا ہے بلکہ اسے اللہ کا ممنون احسان ہونا چاہئے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے اسے جہاد کی توفیق بخشی جس میں ہر پہلو سے اس کا اپنا ہی بھلا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے کوئی سرکاری افسر ایک شخص کو اپنے ماتحت ملازم رکھ لیتا ہے تو ملازم کو اس افسر کا ممنون احسان ہونا چاہئے۔ چہ جائیکہ ملازم یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے ملازم ہو کر افسر پر احسان کیا ہے۔
پھر یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص اسلام کی سربلندی کے لئے کوئی کام کرتا ہے تو اسے ہرگز یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اللہ پر کچھ احسان کر رہا ہے بلکہ اسے اللہ کا ممنون احسان ہونا چاہئے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے اسے جہاد کی توفیق بخشی جس میں ہر پہلو سے اس کا اپنا ہی بھلا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے کوئی سرکاری افسر ایک شخص کو اپنے ماتحت ملازم رکھ لیتا ہے تو ملازم کو اس افسر کا ممنون احسان ہونا چاہئے۔ چہ جائیکہ ملازم یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے ملازم ہو کر افسر پر احسان کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نیکیوں کی کوشش ٭٭
جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے۔ اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا نام ہی نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا رہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہرحال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ ان کی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے۔ ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔
’ وہ ظلم سے پاک ہے، نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [4-النساء:40]
ایمانداروں کی سنت کے مطابق نیکیاں قبول فرماتا ہے۔ ان کے گناہوں سے درگزر کر لیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ عطا فرماتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
مگر ہر شخص کو، اس کے دعویٰ کرنے پر عطا نہیں کر دیا جاتا اور نہ اس کی ہر تمنا پوری کر دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آوازوں کو سننے والا اور نیتوں کو جاننے والا ہے اس لیے جو کوئی اپنے دعوے اور تمناؤں میں سچا ہے اللہ تعالیٰ اس کی امیدوں کو پورا کر دیتا ہے اور جو کوئی اپنے دعوے میں جھوٹا ہے اس کا دعویٰ اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی محبت کا اہل ہے اور کون اس کا اہل نہیں۔
﴿ وَمَنْ جَاهَدَ ﴾ جس نے اپنے نفس، شیطان اور کافر دشمن کے خلاف جہاد کیا ﴿ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ ﴾ ”تووہ اپنے ہی فائدے کے لیے جہاد کرتا ہے۔“ کیونکہ اس جہاد کا فائدہ اور اس کا ثمرہ اسی کی طرف لوٹتا ہے اور اللہ تو تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے اس کا مقصد یہ نہیں کہ اس سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہو گا اور نہ اللہ تعالیٰ نے بخل کی بنا پر بعض چیزوں سے روک رکھا ہے۔ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اوامرونواہی میں، مکلف جدوجہد کا محتاج ہے کیونکہ اس کا نفس طبعاً نیکی کرنے میں سستی کرتا ہے، اس کا شیطان اسے نیکی کی راہ سے روکتا ہے اور اس کا کافر دشمن اسے اقامت دین سے منع کرتا ہے ان تمام معارضات کو دور کرنے کے لیے مجاہدے اور سخت کوشش کی ضرورت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولكن ما كل من يدَّعي يُعطى بدعواه، ولا كل من تمنَّى يُعطى ما تمنَّاه؛ فإنَّ الله سميعٌ للأصوات عليم بالنيَّات؛ فمن كان صادقاً في ذلك؛ أناله ما يرجو، ومن كان كاذباً؛ لم تنفعْه دعواه، وهو العليم بمن يَصْلُحُ لحبِّه ومن لا يصلح، {ومَنْ جاهَدَ}: نفسه وشيطانَه وعدوَّه الكافر؛ {فإنَّما يجاهدُ لنفسِهِ}: لأنَّ نفعَه راجعٌ إليه، وثمرته عائدةٌ إليه، والله غنيٌّ عن العالمين، لم يأمرهم بما أمرهم به لينتفعَ به، ولا نهاهم عمَّا نهاهم عنه بخلاً منه عليهم، وقد علم أنَّ الأوامر والنواهي يحتاج المكلَّف فيها إلى جهادٍ؛ لأنَّ نفسه تتثاقل بطبعها عن الخير، وشيطانَه ينهاه عنه، وعدوَّه الكافر يمنعه من إقامة دينه كما ينبغي، وكل هذه معارضاتٌ تحتاج إلى مجاهداتٍ وسعي شديد.