ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 36

وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ۙ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ ارۡجُوا الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۳۶﴾
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور یوم آخر کی امید رکھو اور زمین میں فساد کرنے والے بن کر دنگا نہ مچاؤ۔ En
اور مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا (اے قوم) خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن کے آنے کی اُمید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ
En
اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37,36) {وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا …:} ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (رکوع ۱۱) اور سورۂ ہود (رکوع ۸) { وَارْجُوْا الْيَوْمَ الْاٰخِرَ رَجَاءٌ} کا معنی امید ہے، یہ خوف کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ امید اور خوف لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی آخرت کے آنے کی امید رکھو، یہ نہ سمجھو کہ زندگی بس دنیا ہی کی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ آخرت کے دن کی امید رکھو کہ اس میں تمھارے نیک اعمال کا پورا بدلا ملے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36-1مدین حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے کا نام تھا، بعض کے نزدیک یہ ان کے پوتے کا نام ہے، بیٹے کا نام مدیان تھا ان ہی کے نام پر اس قبیلے کا نام پڑگیا، جو ان ہی کی نسل پر مشتمل تھا۔ اسی قبیلے مدین کی طرف حضرت شعیب ؑ کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ مدین شہر کا نام تھا، یہ قبیلہ یا شہر لوط ؑ کی بستی کے قریب تھا۔ 36-2اللہ کی عبادت کے بعد، انھیں آخرت کی یاد دہانی کرائی گئی یا تو اس لئے کہ وہ آخرت کے منکر تھے یا اس لئے کہ وہ اسے فراموش کئے ہوئے تھے اور مستیوں میں مبتلا تھے اور جو قوم آخرت کو فرا موش کر دے، وہ گناہوں میں دلیر ہوتی ہے۔ جیسے آج مسلمانوں کی اکثریت کا حال ہے۔ 36۔-3ناپ تول میں کمی اور لوگوں کو کم دینا یہ بیماری ان میں عام تھی اور ارتکاب معاصی میں انھیں باک نہیں تھا، جس سے زمین فساد سے بھر گئی تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت [54] کرو اور آخرت کے دن [55] کی توقع رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاتے [56] پھرو۔
[54] ذکر شعیبؑ :۔
حضرت شعیبؑ اہل مدین کی طرف بھی مبعوث ہوئے تھے اور اصحاب ایکہ کی طرف بھی۔ اور یہ دونوں علاقے آس پاس تھے۔ شعیبؑ نے پہلی بات یہی کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور شرک ایسا مرض ہے جو تمام انبیاء کی قوموں میں پایا جاتا ہے۔ شیطان ہر دور میں انسان کو شرک کی نئی سے نئی شکلیں سمجھاتا رہتا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو خالص اللہ کی عبادت سے برگشتہ کر کے کسی نہ کسی طرح کے شرک میں مبتلا کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی دعوت کا پہلا قدم یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک کی نجاستوں سے مطلع کریں اور انھیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلائیں۔
[55] اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آخرت کے دن پر ایمان لاؤ وہ یقیناً آنے والا ہے۔ جس میں تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو گی۔ دوسرا یہ کہ اگر تم خالصتاً اللہ کی عبادت کرو گے۔ تو تمہیں آخرت کے دن اس کے اچھے اجر کی توقع رکھنا چاہئے۔
[56] اہل مدین کا فساد فی الارض یہ تھا کہ وہ اپنے لین دین کے معاملات میں دغا بازیاں کرتے تھے۔ ناپ تول میں کمی بیشی کرنے کے فن میں خوب ماہر تھے اور اس طرح دوسرے لوگوں کے حقوق پر مہذبانہ ڈاکے ڈالتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فساد نہ کرو ٭٭
اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول شعیب علیہ السلام نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا۔ انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلا کر فرمایا کہ اس دن کے لیے کچھ تیاریاں کر لو، اس دن کا خیال رکھو، لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو، اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو، برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے، راستے بند کر دیتے تھے، ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا، سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہو گیا۔ ان کا پورا قصہ سورۃ الاعراف، سورۃ ہود اور سورۃ الشعراء میں گزر چکا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَ اور یعنی ہم نے مبعوث کیا: ﴿ اِلٰى مَدْیَنَ اہل مدین کی طرف جو ایک مشہور و معروف قبیلہ تھا ﴿ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا ان کے نسبی بھائی شعیب کو جنھوں نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے، آخرت پر ایمان رکھنے، اللہ تعالیٰ پر امیدیں رکھنے اور صرف اسی کے لیے عمل کرنے کا حکم دیا اور ان کو زمین میں فساد پھیلانے، ناپ تول میں کمی کرنے اور ڈاکہ زنی سے روکا مگر انھوں نے ان کو جھوٹا سمجھا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آ لیا ﴿ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰؔثِمِیْنَ پس وہ اپنے گھر میں پڑے کے پڑے رہ گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و} أرسلنا {إلى مَدْيَنَ}: القبيلة المعروفة المشهورة {شُعَيْباً}: فأمرهم بعبادة الله وحده لا شريك له، والإيمان بالبعث ورجائه والعمل له، ونهاهم عن الإفسادِ في الأرض ببخس المكاييل والموازين والسعي بقَطْع الطُّرُق. {فكذبوه}: فأخذهم عذابُ الله، {فأصبحوا في دارِهم جاثمينَ}.