اس آیت کی تفسیر آیت 36 میں تا آیت 38 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37-1حضرت شعیب ؑ کے وعظ و نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا بالآخر بادلوں کے سائے والے دن، جبرائیل ؑ کی ایک سخت چیخ سے زمین زلزلے سے لرز اٹھی، جس سے ان کے دل ان کی آنکھوں میں آگئے اور ان کی موت واقع ہوگئی اور وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلا دیا [57] تو آخر انھیں ایک سخت زلزلہ نے آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
[57] یعنی شعیبؑ کی نبوت کو، آپ کی دعوت کو اور اس وعدے کو بھی جھٹلا دیا کہ اگر تم اپنی ان بداعمالیوں سے باز نہ آئے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فساد نہ کرو ٭٭
اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول شعیب علیہ السلام نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا۔ انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلا کر فرمایا کہ اس دن کے لیے کچھ تیاریاں کر لو، اس دن کا خیال رکھو، لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو، اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو، برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے، راستے بند کر دیتے تھے، ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا، سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہو گیا۔ ان کا پورا قصہ سورۃ الاعراف، سورۃ ہود اور سورۃ الشعراء میں گزر چکا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کی تفسیر آیت 36 میں تا آیت 38 میں گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔