اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور یوم آخر کی امید رکھو اور زمین میں فساد کرنے والے بن کر دنگا نہ مچاؤ۔
En
اور مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا (اے قوم) خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن کے آنے کی اُمید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ
اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَ﴾”اور“ یعنی ہم نے مبعوث کیا: ﴿ اِلٰىمَدْیَنَ ﴾”اہل مدین کی طرف“ جو ایک مشہور و معروف قبیلہ تھا ﴿ اَخَاهُمْشُعَیْبًا ﴾”ان کے نسبی بھائی شعیب کو“ جنھوں نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے، آخرت پر ایمان رکھنے، اللہ تعالیٰ پر امیدیں رکھنے اور صرف اسی کے لیے عمل کرنے کا حکم دیا اور ان کو زمین میں فساد پھیلانے، ناپ تول میں کمی کرنے اور ڈاکہ زنی سے روکا مگر انھوں نے ان کو جھوٹا سمجھا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آ لیا ﴿ فَاَصْبَحُوْافِیْدَارِهِمْجٰؔثِمِیْنَ﴾”پس وہ اپنے گھر میں پڑے کے پڑے رہ گئے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {و} أرسلنا {إلى مَدْيَنَ}: القبيلة المعروفة المشهورة {شُعَيْباً}: فأمرهم بعبادة الله وحده لا شريك له، والإيمان بالبعث ورجائه والعمل له، ونهاهم عن الإفسادِ في الأرض ببخس المكاييل والموازين والسعي بقَطْع الطُّرُق. {فكذبوه}: فأخذهم عذابُ الله، {فأصبحوا في دارِهم جاثمينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔