(آیت 35) {وَلَقَدْتَّرَكْنَامِنْهَاۤاٰيَةًبَيِّنَةً …:} کھلی نشانی سے مراد اس بستی کے وہ آثار ہیں جو اب تک باقی ہیں۔ یہ اس طرح ہوا کہ جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو زمین کی تہ سے اکھاڑا اور آسمان کے بادلوں تک اٹھا کر ان پر الٹا کر دے مارا (جس سے وہ سارا خطہ زمین کی سطح سے کافی نیچے دھنس گیا) اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر والے پتھروں کی بارش برسائی، جو رب تعالیٰ کی طرف سے نشان والے تھے۔ یہ واقعہ نشانی اس لحاظ سے ہے کہ یہ علاقہ اس تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جو مکہ سے شام کو جاتی ہے اور کفار مکہ اسے تجارتی سفروں میں آتے وقت اور جاتے وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے کہ اس حد سے گزرنے والی قوم کا انجام کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تذکرہ سورۂ حجر (۷۶) اور سورۂ صافات (۱۳۷) میں فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35-1یعنی پتھروں کے وہ آثار، جن کی بارش ان پر ہوئی سیاہ بدبودار پانی اور الٹی ہوئی بستیاں، یہ سب عبرت کی نشانیاں ہیں مگر کن کے لئے؟ دانش مندوں کے لئے۔ 35-2اس لیے کہ وہی معاملات پر غور کرتے، اسباب و عوامل کا تجزیہ کرتے اور نتائج و آثار کو دیکھتے ہیں کہ لیکن جو لوگ عقل و شعور سے بےبہرہ ہوتے ہیں، انھیں ان چیزوں سے کیا تعلق؟ وہ تو جانوروں کی طرح ہیں جنہیں ذبح کے لیے بوچڑ خانے لے جایا جاتا ہے لیکن انھیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اس میں مشرکین مکہ کے لیے بھی تعریض ہے کہ وہ بھی تکذیب کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو عقل و دانش سے بےبہرہ لوگوں کا وطیرہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ اور سمجھنے سوچنے والے لوگوں کے لئے ہم نے اس بستی کی ایک واضح نشانی [53] چھوڑ دی ہے۔
[53] عذاب کی نوعیت:۔
اس بد بخت قوم پر سب قوموں سے سخت عذاب آیا تھا۔ پہلے فرشتوں نے اس پورے خطہ زمین کو اپنے پروں پر اٹھایا۔ پھر بلند پر لے جا کر اسے الٹا کر زمین پر پٹخ دیا۔ اور اس زور سے زمین پر دے مارا کہ سارا خطہ زمین کی سطح سے کافی نیچے دھنس گیا۔ پھر اس بد بخت قوم پر پتھر برسائے گئے۔ اور اب یہ سارا علاقہ زیر آب آچکا ہے۔ اور اس سمندر کا نام بحر موت یا بحیرہ مردار ہے۔ جس کی گہرائیوں میں یہ بدمعاش قوم دفن کر دی گئی تھی۔ اور یہ واقعہ نشانی اس لحاظ سے ہے کہ یہ علاقہ اس تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جو مکہ سے شام کو جاتی ہے اور کفار مکہ اسے اپنے تجارتی سفروں میں آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے کہ اس نافرمان اور بدمعاش اور سرکش قوم کا کیا حشر ہوا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کی تفسیر آیت 30 میں تا آیت 36 میں گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔