تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا:} یعنی تم لوگ بت نہیں گھڑتے بلکہ جھوٹ کا پلندہ گھڑتے ہو، ان بتوں اور بت خانوں سے تم کئی قصے اور کہانیاں خود گھڑ کر ان سے منسوب کر دیتے ہو۔ مثلاً اگر فلاں آستانے پر مہینے میں ایک دفعہ دودھ کا چڑھاوا نہ چڑھایا جائے تو جانور بیمار پڑ جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں، یا فلاں آستانے کی گستاخی یا توہین کا انجام اتنا خطرناک ہوتا ہے، یا فلاں بت خانے یا مزار پر حاضری دینے سے رزق میں فراوانی ہو جاتی ہے، لہٰذا تم جو ان بتوں کو گھڑتے ہو تو ساتھ ہی جھوٹ کے پلندے بھی گھڑتے ہو، ورنہ صرف بت گھڑنے کا تمھیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ (کیلانی)
➌ { اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں ابراہیم علیہ السلام نے شرک کے ابطال پر تین دلائل قوم کے سامنے رکھے، ایک یہ کہ یہ بت تمھارے اپنے گھڑے ہوئے ہیں، گویا تم اللہ کی مخلوق ہو اور یہ تمھاری مخلوق ہیں اور الٰہ کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ خالق ہے باقی سب اس کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتا اور یہ الٰہ تو مخلوق در مخلوق ہیں، یہ الٰہ کیسے بن گئے؟ دوسری دلیل یہ ہے کہ ان بتوں کے نفع یا نقصان سے متعلق تمھیں خود ہی داستانیں اور قصے کہانیاں تراشنا پڑتی ہیں۔ اگر تمھارے ان قصے کہانیوں کو ان سے علیحدہ کر دیا جائے تو باقی یہ پتھر کے پتھر یا بے جان مادّے ہی رہ جاتے ہیں اور ایسے مادّے الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ تیسری دلیل یہ ہے کہ یہ تمھیں رزق کیا دیں گے، رزق تو تم خود ان کے آگے چڑھاووں اور نذروں نیازوں کی صورت میں رکھتے ہو، چاہو تو تم ان کے آگے رزق رکھ دو، چاہو تو اٹھا لو اور چاہو تو ان کے اوپر مل دو۔ لہٰذا ایسے غلط عقائد ان سے منسوب نہ کرو اور رزق مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو اور جس کا کھاؤ اسی کا گن گاؤ، اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکربجا لاؤ۔ (کیلانی) شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”اکثر خلق روزی کے پیچھے ایمان دیتی ہے، سو جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی روزی نہیں دیتا اپنی خوشی کے موافق۔“ (موضح)
➍ { اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} یعنی بالآخر تمھیں اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور تمھارا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے، ان بتوں کی طرف نہ تم نے پلٹنا ہے، نہ تمھارا انجام ان کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا تمھیں عبادت تو اس کی کرنی چاہیے جو تمھاری عاقبت کو سنوار سکتا ہے اور رزق بھی اسی سے مانگنا چاہیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) صنم (ج الاصنام) کے معنی وہ بت ہیں جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں خواہ یہ پیتل یا لوہے یا چاندی کے ہوں یا لکڑی کے یا پتھر کے اور صناعة الاصنام بمعنی بت تراشی کا فن جیسے حضرت ابراہیمؑ کا باپ آذر بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔
(2) نصب ایسے بتوں یا مجسموں کو کہتے ہیں جنہیں کسی جگہ پوجا پاٹ کے لئے نصب کر دیا گیا ہو۔ جیسے مشرکین مکہ کے بت لات و منات، عزی اور ہبل وغیرہ تھے۔
(3) اوثان (وثن کی جمع) وثن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا ہے۔ یعنی آستانے وغیرہ خواہ وہاں بت نصب ہوں یا نہ ہوں۔ بعض دفعہ بعض مخصوص مقامات پر پتھروں، درختوں، ستاروں یا دریاؤں وغیرہ سے الٰہی صفات کا عقیدہ رکھ کر ان کی پرستش شروع کر دی جاتی ہے۔ اور ایسے مقامات بسا اوقات کسی بزرگ یا ولی سے یا کسی بت سے منسوب ہوتے ہیں اور حضرت ابراہیمؑ نے جو اوثانا کا ذکر کیا تو اس سے مراد قوم ابراہیم کے بت خانے ہیں جن میں بت از خود شامل ہوں۔
[28] اس آیت اور اس سے پہلی آیت میں حضرت ابراہیمؑ نے شرک کے ابطال پر تین دلائل قوم کے سامنے رکھے۔ ایک یہ کہ یہ بت تمہارے اپنے گھڑے ہوئے ہیں۔ گویا تم اللہ کی مخلوق ہو اور یہ تمہاری مخلوق ہیں۔ اور الٰہ کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ خالق ہے۔ باقی سب اس کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتی اور یہ بت تو مخلوق در مخلوق ہیں یہ الٰہ کیسے بن گئے؟ دوسری دلیل یہ ہے کہ ان بتوں کے نفع یا نقصان سے متعلق تمہیں ہی داستانیں اور قصے کہانیاں تراشنا پڑتی ہیں۔ اگر تمہارے ان قصے کہانیوں کو ان سے علیحدہ کر دیا جائے تو باقی یہ پتھر کے پتھر یا بے جان مادے ہی رہ جاتے ہیں اور ایسے مادے الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں۔؟ تیسری دلیل یہ کہ یہ تمہیں رزق کیا دیں گے۔ رزق تو تم خود ان کے آگے چڑھاووں اور نذروں نیازیوں کی صورت میں رکھتے ہو۔ چاہو تو تم ان کے آگے رزق رکھ دو۔ چاہے اٹھا لو۔ چاہے ان کے اوپر مَل دو۔ لہٰذا ایسے غلط عقائد ان سے منسوب نہ کرو۔ اور رزق مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو اور جس کا کھاؤ اسی کے گنا گاؤ۔ اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر بجا لاؤ۔
[29] یعنی بالآخر تم نے اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور تمہارا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ان بتوں کی طرف نہ تم نے پلٹنا ہے نہ تمہارا انجام ان کے ہاتھ میں ہے لہٰذا تمہیں عبادت تو اس کی کرنا چاہئے جو تمہاری عاقبت کو سنوار سکتا ہے۔ اور رزق بھی اس سے مانگنا چاہئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی حصہ کے ساتھ آیت «إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] بھی ہے کہ ’ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ ‘
یہی آسیہ رضی اللہ عنہا کی دعا میں ہے آیت «رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» ۱؎ [66-التحريم:11] ’ اے اللہ! میرے لیے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا ‘۔
چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لیے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ۔ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو۔ نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی؟ یاد رکھو نبیوں کا کام صرف پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔
قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلا کام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت «فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّـهُ مِنَ النَّارِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام خلیل االرحمٰن علیہ السلام کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا أمرهم بعبادة الله وتقواه؛ نهاهم عن عبادة الأصنام، وبيَّن لهم نقصها وعدم استحقاقها للعبودية، فقال: {إنَّما تعبُدون من دونِ الله أوثاناً وتخلُقون إفكاً}: تنحِتونها، وتخلُقونها بأيديكم، وتخلُقونَ لها أسماءَ الآلهة، وتختَلِقون الكذبَ بالأمر بعبادتها والتمسُّك بذلك. {إنَّ الذين} تدعون {من دونِ الله}: في نقصِهِ وأنَّه ليس فيه ما يدعو إلى عبادته، {لا يملِكون لكم رزقاً}: فكأنَّه قيلَ: قد بان لنا أنَّ هذه الأوثان مخلوقةٌ ناقصةٌ لا تملك نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، وأنَّ مَنْ هذا وصفُه لا يستحقُّ أدنى أدنى أدنى مثقال مثقال مثقال ذرةٍ من العبادة والتألُّه، والقلوبُ لا بدَّ أن تطلب معبوداً تألهُهُ وتسأله حوائجها. فقال حاثًّا لهم على من يستحقُّ العبادة: {فابْتَغوا عند الله الرِّزْقَ}: فإنَّه هو الميسِّر له المقدِّر المجيب لدعوةِ مَنْ دعاه لمصالح دينِهِ ودُنياه، {واعبُدوه}: وحده لا شريكَ له؛ لكونِهِ الكامل النافع الضارَّ المتفرِّد بالتدبير، {واشكُروا له}: وحده؛ لكون جميع ما وصل ويصل إلى الخلق من النعم فمنه، وجميع ما اندفع ويندفع من النقم عنهم؛ فهو الدافع لها. {إليه تُرْجَعون}: فيجازيكم على ما عملتم، وينبِّئُكم بما أسررتم وأعلنتُم؛ فاحذروا القدوم عليه وأنتم على شِرْكِكم، وارْغَبوا فيما يقرِّبُكم إليه ويثيبكم عند القدوم عليه.