ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 17

اِنَّمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡثَانًا وَّ تَخۡلُقُوۡنَ اِفۡکًا ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَمۡلِکُوۡنَ لَکُمۡ رِزۡقًا فَابۡتَغُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ الرِّزۡقَ وَ اعۡبُدُوۡہُ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾
تم اللہ کے سوا چند بتوں ہی کی تو عبادت کرتے ہو اور تم سراسر جھوٹ گھڑتے ہو۔ بلاشبہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو تمھارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں ہیں، سو تم اللہ کے ہاں ہی رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ En
تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
En
تم تو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو۔ سنو! جن جنکی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کر رہے ہو وه تو تمہاری روزی کے مالک نہیں پس تمہیں چاہئے کہ تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) ➊ {اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا:} قرآن مجید میں بتوں کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں: (1) {صَنَمٌ} اس کی جمع {أَصْنَامٌ} ہے، معنی ہے وہ بت جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں، خواہ وہ پیتل یا لوہے یا چاندی کے ہوں، یا لکڑی کے یا پتھر کے اور {صِنَاعَةُ الْأَصْنَامِ} کا معنی ہے بت تراشی کا فن، جیسے ابراہیم علیہ السلام کا باپ بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ (2) {نَصَبٌ} اس کی جمع {أَنْصَابٌ} ہے، معنی ہے ایسے بت یا مجسّمے جنھیں پوجا پاٹ کے لیے نصب کر دیا گیا ہو، جیسے مشرکین مکہ کے بت لات، منات، عزیٰ اور ہبل وغیرہ تھے۔ (3) { أَوْثَانٌ } یہ {وَثَنٌ} کی جمع ہے، وثن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا ہے، یعنی آستانے وغیرہ، خواہ وہاں بت نصب ہوں یا نہ ہوں۔ بعض دفعہ بعض مخصوص مقامات پر پتھروں، درختوں (مثلاً پیپل وغیرہ)، ستاروں (مثلاً قطب وغیرہ) یا دریاؤں (مثلاً گنگا وغیرہ) سے الٰہی صفات کا عقیدہ رکھ کر ان کی پرستش شروع کر دی جاتی ہے اور ایسے مقامات بسا اوقات کسی بزرگ یا کسی ولی یا کسی بت سے منسوب ہوتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے جو { اَوْثَانًا } کا ذکر کیا تو اس سے مراد ان کی قوم کے بت خانے ہیں جن میں بت از خود شامل ہیں۔ (کیلانی) وہ قبریں بھی اوثان میں شامل ہیں جن کی عبادت کی جائے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِيْ وَثَنًا يُّعْبَدُ، لَعَنَ اللّٰهُ قَوْمًا اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ] [مسند أحمد: 246/2، ح: ۷۳۷۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ، قال المحقق و إسنادہ قوي۔ الموطأ: 172/1، ح: ۴۱۴] اے اللہ! میری قبر کو وثن (بت) نہ بنانا، جس کی عبادت کی جائے۔ اللہ ان لوگوں پر لعنت فرمائے جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔
➋ { وَ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا:} یعنی تم لوگ بت نہیں گھڑتے بلکہ جھوٹ کا پلندہ گھڑتے ہو، ان بتوں اور بت خانوں سے تم کئی قصے اور کہانیاں خود گھڑ کر ان سے منسوب کر دیتے ہو۔ مثلاً اگر فلاں آستانے پر مہینے میں ایک دفعہ دودھ کا چڑھاوا نہ چڑھایا جائے تو جانور بیمار پڑ جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں، یا فلاں آستانے کی گستاخی یا توہین کا انجام اتنا خطرناک ہوتا ہے، یا فلاں بت خانے یا مزار پر حاضری دینے سے رزق میں فراوانی ہو جاتی ہے، لہٰذا تم جو ان بتوں کو گھڑتے ہو تو ساتھ ہی جھوٹ کے پلندے بھی گھڑتے ہو، ورنہ صرف بت گھڑنے کا تمھیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ (کیلانی)
➌ { اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں ابراہیم علیہ السلام نے شرک کے ابطال پر تین دلائل قوم کے سامنے رکھے، ایک یہ کہ یہ بت تمھارے اپنے گھڑے ہوئے ہیں، گویا تم اللہ کی مخلوق ہو اور یہ تمھاری مخلوق ہیں اور الٰہ کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ خالق ہے باقی سب اس کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتا اور یہ الٰہ تو مخلوق در مخلوق ہیں، یہ الٰہ کیسے بن گئے؟ دوسری دلیل یہ ہے کہ ان بتوں کے نفع یا نقصان سے متعلق تمھیں خود ہی داستانیں اور قصے کہانیاں تراشنا پڑتی ہیں۔ اگر تمھارے ان قصے کہانیوں کو ان سے علیحدہ کر دیا جائے تو باقی یہ پتھر کے پتھر یا بے جان مادّے ہی رہ جاتے ہیں اور ایسے مادّے الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ تیسری دلیل یہ ہے کہ یہ تمھیں رزق کیا دیں گے، رزق تو تم خود ان کے آگے چڑھاووں اور نذروں نیازوں کی صورت میں رکھتے ہو، چاہو تو تم ان کے آگے رزق رکھ دو، چاہو تو اٹھا لو اور چاہو تو ان کے اوپر مل دو۔ لہٰذا ایسے غلط عقائد ان سے منسوب نہ کرو اور رزق مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو اور جس کا کھاؤ اسی کا گن گاؤ، اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکربجا لاؤ۔ (کیلانی) شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: اکثر خلق روزی کے پیچھے ایمان دیتی ہے، سو جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی روزی نہیں دیتا اپنی خوشی کے موافق۔ (موضح)
➍ { اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} یعنی بالآخر تمھیں اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور تمھارا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے، ان بتوں کی طرف نہ تم نے پلٹنا ہے، نہ تمھارا انجام ان کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا تمھیں عبادت تو اس کی کرنی چاہیے جو تمھاری عاقبت کو سنوار سکتا ہے اور رزق بھی اسی سے مانگنا چاہیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17-1اوثان وثن کی جمع ہے۔ جس طرح اصنام، صنم کی جمع ہے۔ دونوں کے معنی بت کے ہیں۔ بعض کہتے ہیں صنم، سونے، چاندی، پیتل اور پتھر کی مورت کو اور وثن مورت کو بھی اور چونے کے پتھر وغیرہ کے بنے ہوئے آستانوں کو بھی کہتے ہیں۔ تحلقون افکا کے معنی ہیں تکذبون کذبا، جیسا کہ متن کے ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرے معنی ہیں تعملونہا وتنحتونہا للافک، جھوٹے مقصد کے لیے انھیں بناتے اور گھڑتے ہو۔ مفہوم کے اعتبار سے دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں کی عبادت کرتے ہو، وہ تو پتھر کے بنے ہوئے ہیں جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں، نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع۔ اپنے دل سے ہی تم نے انھیں گھڑ لیا ہے کوئی دلیل تو ان کی صداقت کی تمہارے پاس نہیں ہے یہ بت تم نے خود اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں جب کہ ان کی ایک خاص شکل و صورت بن جاتی ہے تو تم سمجھتے ہو کہ ان میں خدائی اختیارات آگئے ہیں اور ان سے تم امیدیں وابستہ کر کے انھیں حاجت روا اور مشکل کشا باور کرلیتے ہو۔ 17-2یعنی جب بت تمہاری روزی کے اسباب و وسائل میں سے کسی بھی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ بارش برسا سکتے ہیں، نہ زمین میں درخت اگا سکتے ہیں اور نہ سورج کی حرارت پہنچا سکتے ہیں اور نہ تمہیں وہ صلاحیتیں دے سکتے ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر تم قدرت کی ان چیزوں سے فیض یاب ہوتے ہو، تو پھر تم روزی اللہ ہی سے طلب کرو، اسی کی عبادت اور اسی کی شکر گزاری کرو۔ 17-3یعنی مر کر اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر جب اسی کی طرف لوٹنا ہے، اسی کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے تو پھر اس کا در چھوڑ کر دوسروں کے در پر اپنی جبین نیاز کیوں جھکاتے ہو؟ اس کے بجائے دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ اور دوسروں کو حاجت روا اور مشکل کشا کیوں سمجھتے ہو؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو وہ تو محض [26] بتوں کے تھان ہیں اور تم جھوٹ گھڑتے ہو [27] اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو وہ تمہیں رزق دینے [28] کا اختیار نہیں رکھتے۔ لہذا اللہ سے رزق مانگو، اس کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو تم اسی کی طرف ہی لوٹائے [29] جاؤ گے۔
[26] بتوں کے لیے قرآن میں مستعمل الفاظ:۔
قرآن میں بتوں کے لئے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
(1) صنم (ج الاصنام) کے معنی وہ بت ہیں جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں خواہ یہ پیتل یا لوہے یا چاندی کے ہوں یا لکڑی کے یا پتھر کے اور صناعة الاصنام بمعنی بت تراشی کا فن جیسے حضرت ابراہیمؑ کا باپ آذر بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔
(2) نصب ایسے بتوں یا مجسموں کو کہتے ہیں جنہیں کسی جگہ پوجا پاٹ کے لئے نصب کر دیا گیا ہو۔ جیسے مشرکین مکہ کے بت لات و منات، عزی اور ہبل وغیرہ تھے۔
(3) اوثان (وثن کی جمع) وثن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا ہے۔ یعنی آستانے وغیرہ خواہ وہاں بت نصب ہوں یا نہ ہوں۔ بعض دفعہ بعض مخصوص مقامات پر پتھروں، درختوں، ستاروں یا دریاؤں وغیرہ سے الٰہی صفات کا عقیدہ رکھ کر ان کی پرستش شروع کر دی جاتی ہے۔ اور ایسے مقامات بسا اوقات کسی بزرگ یا ولی سے یا کسی بت سے منسوب ہوتے ہیں اور حضرت ابراہیمؑ نے جو اوثانا کا ذکر کیا تو اس سے مراد قوم ابراہیم کے بت خانے ہیں جن میں بت از خود شامل ہوں۔
[27] آستانوں کے لیے جھوٹے قصے کہانیاں گھڑنا کیوں ضروری ہے؟
یعنی تم لوگ بت نہیں گھڑتے بلکہ جھوٹ کا پلندہ گھڑتے ہو۔ اور ان بتوں اور بت خانوں سے تم کئی قصے اور کہانیاں خود گھڑ کر ان سے منسوب کر دیتے ہو۔ مثلاً اگر فلاں آستانے پر مہینہ میں ایک دفعہ دودھ کا چڑھاوا نہ چڑھایا جائے تو جانور بیمار پڑ جاتے ہیں یا مر جائے ہیں۔ یا فلاں آستانے کی گستاخی یا توہین کا انجام اس قدر خطرناک ہوتا ہے یا فلاں بت خانے یا مزار پر حاضری دینے سے رزاق میں فراوانی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا تم جو ان بتوں کو گھڑتے ہو تو ساتھ ہی جھوٹ کے پلندے بھی گھڑتے ہو۔ ورنہ صرف بت گھڑنے کا تمہیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔
[28] اس آیت اور اس سے پہلی آیت میں حضرت ابراہیمؑ نے شرک کے ابطال پر تین دلائل قوم کے سامنے رکھے۔ ایک یہ کہ یہ بت تمہارے اپنے گھڑے ہوئے ہیں۔ گویا تم اللہ کی مخلوق ہو اور یہ تمہاری مخلوق ہیں۔ اور الٰہ کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ خالق ہے۔ باقی سب اس کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتی اور یہ بت تو مخلوق در مخلوق ہیں یہ الٰہ کیسے بن گئے؟ دوسری دلیل یہ ہے کہ ان بتوں کے نفع یا نقصان سے متعلق تمہیں ہی داستانیں اور قصے کہانیاں تراشنا پڑتی ہیں۔ اگر تمہارے ان قصے کہانیوں کو ان سے علیحدہ کر دیا جائے تو باقی یہ پتھر کے پتھر یا بے جان مادے ہی رہ جاتے ہیں اور ایسے مادے الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں۔؟ تیسری دلیل یہ کہ یہ تمہیں رزق کیا دیں گے۔ رزق تو تم خود ان کے آگے چڑھاووں اور نذروں نیازیوں کی صورت میں رکھتے ہو۔ چاہو تو تم ان کے آگے رزق رکھ دو۔ چاہے اٹھا لو۔ چاہے ان کے اوپر مَل دو۔ لہٰذا ایسے غلط عقائد ان سے منسوب نہ کرو۔ اور رزق مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو اور جس کا کھاؤ اسی کے گنا گاؤ۔ اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر بجا لاؤ۔
[29] یعنی بالآخر تم نے اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور تمہارا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ان بتوں کی طرف نہ تم نے پلٹنا ہے نہ تمہارا انجام ان کے ہاتھ میں ہے لہٰذا تمہیں عبادت تو اس کی کرنا چاہئے جو تمہاری عاقبت کو سنوار سکتا ہے۔ اور رزق بھی اس سے مانگنا چاہئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ریاکاری سے بچو ٭٭
امام الموحدین ابوالمرسلین خلیل اللہ علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکر گزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہو جائیں گی اور دونوں جہاں کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بے نفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لیے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔
اسی حصہ کے ساتھ آیت «إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5]‏‏‏‏ بھی ہے کہ ’ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ ‘
یہی آسیہ رضی اللہ عنہا کی دعا میں ہے آیت «رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» ۱؎ [66-التحريم:11]‏‏‏‏ ’ اے اللہ! میرے لیے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا ‘۔
چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لیے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ۔ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو۔ نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی؟ یاد رکھو نبیوں کا کام صرف پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔
قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلا کام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت «فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّـهُ مِنَ النَّارِإِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام خلیل االرحمٰن علیہ السلام کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لیے ان کو بتوں کی عبادت سے روکا ہے اور ان کے نقص اور عبودیت کے لیے ان کے عدم استحقاق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْكًا تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو۔ تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑ کر ان بتوں کو تخلیق کرتے ہو، پھر تم ان کے معبودوں والے نام رکھتے ہو اور پھر تم ان کی عبادت اور تمسک کے لیے جھوٹے احکام گھڑتے ہو ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ بے شک جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ وہ ناقص ہیں ان میں کوئی بھی ایسی صفت نہیں ہے جو ان کی عبادت کی مقتضی ہو۔ ﴿ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا وہ تمھیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہم پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ بت گھڑے ہوئے اور ناقص ہیں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ اٹھانے ہی کا۔ پس جس ذات کے یہ اوصاف ہوں وہ ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں۔ قلوب ایسے معبود کے طالب ہوتے ہیں جن کی وہ عبادت کریں اور ان سے اپنی حوائج کا سوال کریں … پس ان کے جواب میں، اس ہستی کی عبادت کی ترغیب دی گئی ہے جو عبادت کی مستحق ہے۔ ﴿ فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ پس اللہ ہی کے ہاں رزق طلب کرو۔ کیونکہ وہی رزق میسر اور مقدر کرتا ہے اور وہی اس شخص کی دعا قبول کرتا ہے جو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے اس سے دعا کرتا ہے۔
﴿ وَاعْبُدُوْهُ اور اسی (اکیلے) کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ وہ کامل، نفع و نقصان دینے والا اور تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ ﴿وَاشْكُرُوْا لَهٗ اور اسی (اکیلے) کا شکر کرو کیونکہ جتنی بھی تمھیں نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا تمام مخلوق کو حاصل ہو رہی ہیں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو بھی مصیبت ان سے دور ہوتی ہے ان کو دور کرنے والا وہی ہے۔ ﴿ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ تب وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا اور جو کچھ تم چھپاتے اور ظاہر کرتے رہے ہو اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کرے گا پس تم شرک کی حالت میں اس کی خدمت میں حاضر ہونے سے بچو اور ان امور میں رغبت رکھو جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور جب تم اس کے پاس حاضر ہوگے تو وہ تمھیں ان پر ثواب عطا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلمَّا أمرهم بعبادة الله وتقواه؛ نهاهم عن عبادة الأصنام، وبيَّن لهم نقصها وعدم استحقاقها للعبودية، فقال: {إنَّما تعبُدون من دونِ الله أوثاناً وتخلُقون إفكاً}: تنحِتونها، وتخلُقونها بأيديكم، وتخلُقونَ لها أسماءَ الآلهة، وتختَلِقون الكذبَ بالأمر بعبادتها والتمسُّك بذلك. {إنَّ الذين} تدعون {من دونِ الله}: في نقصِهِ وأنَّه ليس فيه ما يدعو إلى عبادته، {لا يملِكون لكم رزقاً}: فكأنَّه قيلَ: قد بان لنا أنَّ هذه الأوثان مخلوقةٌ ناقصةٌ لا تملك نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، وأنَّ مَنْ هذا وصفُه لا يستحقُّ أدنى أدنى أدنى مثقال مثقال مثقال ذرةٍ من العبادة والتألُّه، والقلوبُ لا بدَّ أن تطلب معبوداً تألهُهُ وتسأله حوائجها. فقال حاثًّا لهم على من يستحقُّ العبادة: {فابْتَغوا عند الله الرِّزْقَ}: فإنَّه هو الميسِّر له المقدِّر المجيب لدعوةِ مَنْ دعاه لمصالح دينِهِ ودُنياه، {واعبُدوه}: وحده لا شريكَ له؛ لكونِهِ الكامل النافع الضارَّ المتفرِّد بالتدبير، {واشكُروا له}: وحده؛ لكون جميع ما وصل ويصل إلى الخلق من النعم فمنه، وجميع ما اندفع ويندفع من النقم عنهم؛ فهو الدافع لها. {إليه تُرْجَعون}: فيجازيكم على ما عملتم، وينبِّئُكم بما أسررتم وأعلنتُم؛ فاحذروا القدوم عليه وأنتم على شِرْكِكم، وارْغَبوا فيما يقرِّبُكم إليه ويثيبكم عند القدوم عليه.