ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 18

وَ اِنۡ تُکَذِّبُوۡا فَقَدۡ کَذَّبَ اُمَمٌ مِّنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۸﴾
اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کئی امتیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول کے ذمے تو کھلم کھلا پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ En
اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی اُمتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں۔ اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں
En
اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی جھٹلایا ہے، رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ {وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ:} واؤ عطف سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے والا جملہ، جس پر اس جملے کا عطف ہے، وہ محذوف ہے، یعنی {فَإِنْ تُصَدِّقُوْنِيْ فَقَدْ فُزْتُمْ بِسَعَادَةِ الدَّارَيْنِ} سو اگر تم میری تصدیق کرو تو تم دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ { وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا} اور اگر تم مجھے جھٹلا دو تو نصیحت کے لیے تمھارا یہ بات جاننا ہی کافی ہے کہ تم سے پہلے بہت سی امتوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا، مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود وغیرہ، تو ان کا انجام کیا ہوا۔ انھوں نے پیغمبروں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام ہی خراب کیا؟
➋ { وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ:} اور رسول کے ذمے اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ کا پیغام اس طرح پہنچا دے کہ اس میں کوئی شک باقی نہ رہے، کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی اس پر کوئی ذمہ داری نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18-1یہ حضرت ابراہیم ؑ کا قول بھی ہوسکتا ہے، جو انہوں نے اپنی قوم سے کہا۔ یا اللہ تعالیٰ کا قول ہے جس میں اہل مکہ سے خطاب ہے اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں، تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، پیغمبروں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے پہلی امتیں بھی رسولوں کو جھٹلاتی اور اس کا نتیجہ بھی ہلاکت و تباہی کی صورت میں بھگتتی رہی ہیں۔ 18-2اس لیے آپ بھی تبلیغ کا کام کرتے رہیے۔ اس سے کوئی راہ یاب ہوتا ہے یا نہیں؟ اس کے ذمے دار آپ نہیں ہیں، نہ آپ سے اسکی بابت پوچھا ہی جائے گا، کیونکہ ہدایت دینا نہ دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، جو اپنی سنت کے مطابق جس میں ہدایت کی طلب صادق دیکھتا ہے، اس کو ہدایت سے نواز دیتا ہے۔ دوسروں کو ضلالت کی تاریکیوں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بھی کئی امتیں [30] (اپنے رسولوں کو) جھٹلا چکی ہیں اور رسول کے ذمہ تو صرف صاف صاف پیغام پہچانا ہے۔
[30] یعنی قوم نوحؑ، قوم عاد اور قوم ثمود نے اپنے اپنے پیغمبروں کی دعوت کو جھٹلایا تھا پھر دیکھ لو ان کا کیا حشر ہوا تھا۔ وہی تمہارا بھی ہونے والا ہے۔ اگر تم نے نبی کی دعوت کو جھٹلایا ہے تو اس کا تمہیں ہی نقصان پہنچے گا اور نبی کے ذمہ جو کام تھا وہ اپنی ذمہ داری پوری کر چکا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کی تفسیر آیت 17 میں تا آیت 19 میں گزر چکی ہے۔