ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 16

وَ اِبۡرٰہِیۡمَ اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اتَّقُوۡہُ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶﴾
اور ابراہیم کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔ En
اور ابراہیمؑ کو (یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے
En
اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اوراس سے ڈرتے رہو، اگر تم میں دانائی ہے تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) ➊ {وَ اِبْرٰهِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ …: اِبْرٰهِيْمَ } کا عطف { نُوْحًا } پر ہے اور یہ { اَرْسَلْنَا } کا مفعول ہے، یعنی اور ہم نے ابراہیم کو بھیجا۔ بعض مفسرین نے اسے {اُذْكُرْ} کا مفعول بنایا ہے کہ ابراہیم کو یاد کر۔ اگرچہ یہ بھی ہو سکتا ہے، مگر آگے آیت (۳۶) میں { وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا } سے ظاہر ہے کہ راجح یہی ہے کہ یہ { اَرْسَلْنَا } کا مفعول ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (رکوع ۱۵، ۱۶ اور ۳۵)، آل عمران(رکوع ۷)، انعام (رکوع۹)، ہود (رکوع۷)، ابراہیم (رکوع ۶)، حجر (رکوع ۴)، مریم (رکوع۳)، انبیاء (رکوع ۵)، شعراء (۵)، صافات (رکوع ۳)، زخرف (رکوع ۳) اور ذاریات (رکوع ۲)۔
➋ نوح علیہ السلام کے بعد ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا، کیونکہ ان کی آزمائش بھی بہت بڑی تھی، انھیں آگ میں پھینک دیا گیا، ہجرت کرنا پڑی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں کئی باتوں کے ساتھ آزمایا اور وہ سب میں پورے اترے۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۲۴) ان آزمائشوں میں بہت بڑی آزمائش اس قوم کو توحید کی دعوت دینا تھی جو بت پرست تھی۔ ابراہیم علیہ السلام نے انھیں حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یعنی اس بات سے ڈرو کہ اگر تم نے اس کی عبادت نہ کی، اس کا حکم نہ مانا یا کسی غیر کو اس کا شریک بنایا تو وہ تمھیں عذاب دے گا۔
➌ { ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ: خَيْرٌ } اصل میں { أَخْيَرُ } ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے، زیادہ اچھا، مگر یہاں تفضیل کا معنی مراد نہیں، کیونکہ توحید شرک سے زیادہ اچھی نہیں بلکہ توحید ہی اچھی ہے، شرک میں کسی طرح کی کوئی اچھائی نہیں۔ (سعدی) یا یہ مطلب ہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اورتمھارے خیال میں اس میں کسی قسم کی خیر ہے، لیکن اللہ کی عبادت اور اسی سے ڈرنا ہر حال میں اس سے کہیں اچھا ہے (اگرچہ فی الواقع بتوں کی عبادت میں کوئی خیر نہیں)۔ (آلوسی)
➍ {اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ:} یعنی اگر تمھیں کچھ بھی علم ہو۔ معلوم ہوا شرک میں وہی گرفتار ہوتا ہے جو علم سے بالکل محروم ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ اور ابراہیم (کا واقعہ یاد کرو) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو۔ اگر تم جانو تو یہی بات تمہارے لئے بہتر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ریاکاری سے بچو ٭٭
امام الموحدین ابوالمرسلین خلیل اللہ علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکر گزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہو جائیں گی اور دونوں جہاں کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بے نفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لیے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔
اسی حصہ کے ساتھ آیت «إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5]‏‏‏‏ بھی ہے کہ ’ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ ‘
یہی آسیہ رضی اللہ عنہا کی دعا میں ہے آیت «رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» ۱؎ [66-التحريم:11]‏‏‏‏ ’ اے اللہ! میرے لیے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا ‘۔
چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لیے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ۔ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو۔ نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی؟ یاد رکھو نبیوں کا کام صرف پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔
قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلا کام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت «فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّـهُ مِنَ النَّارِإِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام خلیل االرحمٰن علیہ السلام کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چنانچہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿ اعْبُدُوا اللّٰهَ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو، صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمھیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ﴿وَاتَّقُوْهُ اور اس سے ڈرو کہ وہ تم پر ناراض ہو، تمھیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امورکو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا باعث ہیں ﴿ذٰلِكُمْ یہ۔یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ﴿ خَیْرٌ لَّكُمْ تمھارے لیے بہتر ہے۔ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔
یہ اسم تفضیل کے ایسے باب میں سے ہے جس کے دوسری طرف کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا تقویٰ ترک کرنے میں کسی طرح بھی کوئی بھلائی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ صرف اس لیے لوگوں کے لیے بہتر ہے کہ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی کرامت کا حصول، عبادت اور تقویٰ کے سوا ممکن نہیں۔ دنیا و آخرت میں جو بھی بھلائی پائی جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ ﴿ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اگر تم اس کا علم رکھتے ہو۔ پس تمام امور میں خوب غور کرو اور دیکھو کہ ان میں سے کون سا امر ترجیح کے لائق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكر تعالى أنَّه أرسل خليله إبراهيم عليه السلام إلى قومه يَدْعوهم إلى الله، فقال لهم: {اعبُدوا اللهَ}؛ أي: وحِّدوه وأخلِصوا له العبادةَ وامتَثِلوا ما أمركم به، {واتَّقوه}: أن يغضبَ عليكم فيعذِّبَكم، وذلك بترك ما يُغضبه من المعاصي. {ذلكم}؛ أي: عبادة الله وتقواه {خيرٌ لكم}: من ترك ذلك، وهذا من باب إطلاق أفعل التفضيل بما ليس في الطرف الآخر منه شيء؛ فإنَّ تَرْكَ عبادةِ الله وتَرْكَ تقواه لا خير فيه بوجهٍ، وإنَّما كانت عبادة الله وتقواه خيراً للناس لأنَّه لا سبيل إلى نيل كرامته في الدُّنيا والآخرة إلاَّ بذلك، وكلُّ خيرٍ يوجدُ في الدُّنيا والآخرة؛ فإنَّه من آثار عبادة الله وتقواه. {إن كنتُم تعلَمونَ}: ذلك؛ فاعلموا الإمور، وانظُروا ما هو أولى بالإيثار.