تم اللہ کے سوا چند بتوں ہی کی تو عبادت کرتے ہو اور تم سراسر جھوٹ گھڑتے ہو۔ بلاشبہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو تمھارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں ہیں، سو تم اللہ کے ہاں ہی رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
En
تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
تم تو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو۔ سنو! جن جنکی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کر رہے ہو وه تو تمہاری روزی کے مالک نہیں پس تمہیں چاہئے کہ تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لیے ان کو بتوں کی عبادت سے روکا ہے اور ان کے نقص اور عبودیت کے لیے ان کے عدم استحقاق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَاتَعْبُدُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِاَوْثَانًاوَّتَخْلُقُوْنَاِفْكًا﴾”تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو۔“ تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑ کر ان بتوں کو تخلیق کرتے ہو، پھر تم ان کے معبودوں والے نام رکھتے ہو اور پھر تم ان کی عبادت اور تمسک کے لیے جھوٹے احکام گھڑتے ہو ﴿ اِنَّالَّذِیْنَتَعْبُدُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِ ﴾”بے شک جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔“ وہ ناقص ہیں ان میں کوئی بھی ایسی صفت نہیں ہے جو ان کی عبادت کی مقتضی ہو۔ ﴿ لَایَمْلِكُوْنَلَكُمْرِزْقًا ﴾”وہ تمھیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔“ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہم پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ بت گھڑے ہوئے اور ناقص ہیں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ اٹھانے ہی کا۔ پس جس ذات کے یہ اوصاف ہوں وہ ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں۔ قلوب ایسے معبود کے طالب ہوتے ہیں جن کی وہ عبادت کریں اور ان سے اپنی حوائج کا سوال کریں … پس ان کے جواب میں، اس ہستی کی عبادت کی ترغیب دی گئی ہے جو عبادت کی مستحق ہے۔ ﴿ فَابْتَغُوْاعِنْدَاللّٰهِالرِّزْقَ ﴾”پس اللہ ہی کے ہاں رزق طلب کرو۔“ کیونکہ وہی رزق میسر اور مقدر کرتا ہے اور وہی اس شخص کی دعا قبول کرتا ہے جو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے اس سے دعا کرتا ہے۔
﴿ وَاعْبُدُوْهُ ﴾”اور اسی (اکیلے) کی عبادت کرو“ جس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ وہ کامل، نفع و نقصان دینے والا اور تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ ﴿وَاشْكُرُوْالَهٗ ﴾ اور اسی (اکیلے) کا شکر کرو“ کیونکہ جتنی بھی تمھیں نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا تمام مخلوق کو حاصل ہو رہی ہیں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو بھی مصیبت ان سے دور ہوتی ہے ان کو دور کرنے والا وہی ہے۔ ﴿ اِلَیْهِتُرْجَعُوْنَ ﴾”تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ تب وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا اور جو کچھ تم چھپاتے اور ظاہر کرتے رہے ہو اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کرے گا پس تم شرک کی حالت میں اس کی خدمت میں حاضر ہونے سے بچو اور ان امور میں رغبت رکھو جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور جب تم اس کے پاس حاضر ہوگے تو وہ تمھیں ان پر ثواب عطا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا أمرهم بعبادة الله وتقواه؛ نهاهم عن عبادة الأصنام، وبيَّن لهم نقصها وعدم استحقاقها للعبودية، فقال: {إنَّما تعبُدون من دونِ الله أوثاناً وتخلُقون إفكاً}: تنحِتونها، وتخلُقونها بأيديكم، وتخلُقونَ لها أسماءَ الآلهة، وتختَلِقون الكذبَ بالأمر بعبادتها والتمسُّك بذلك. {إنَّ الذين} تدعون {من دونِ الله}: في نقصِهِ وأنَّه ليس فيه ما يدعو إلى عبادته، {لا يملِكون لكم رزقاً}: فكأنَّه قيلَ: قد بان لنا أنَّ هذه الأوثان مخلوقةٌ ناقصةٌ لا تملك نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، وأنَّ مَنْ هذا وصفُه لا يستحقُّ أدنى أدنى أدنى مثقال مثقال مثقال ذرةٍ من العبادة والتألُّه، والقلوبُ لا بدَّ أن تطلب معبوداً تألهُهُ وتسأله حوائجها. فقال حاثًّا لهم على من يستحقُّ العبادة: {فابْتَغوا عند الله الرِّزْقَ}: فإنَّه هو الميسِّر له المقدِّر المجيب لدعوةِ مَنْ دعاه لمصالح دينِهِ ودُنياه، {واعبُدوه}: وحده لا شريكَ له؛ لكونِهِ الكامل النافع الضارَّ المتفرِّد بالتدبير، {واشكُروا له}: وحده؛ لكون جميع ما وصل ويصل إلى الخلق من النعم فمنه، وجميع ما اندفع ويندفع من النقم عنهم؛ فهو الدافع لها. {إليه تُرْجَعون}: فيجازيكم على ما عملتم، وينبِّئُكم بما أسررتم وأعلنتُم؛ فاحذروا القدوم عليه وأنتم على شِرْكِكم، وارْغَبوا فيما يقرِّبُكم إليه ويثيبكم عند القدوم عليه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔