کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جلدی ادائیگی کی شرط پر مالِ کتابت میں کمی کرنے، اور مکاتب کے ساتھ آزادی کا سودا (قطاعہ) طے کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ عَبْدَهُ بِالذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ يُنَجِّمُهَا عَلَيْهِ نُجُومًا، " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَقُولَ: عَجِّلْ لِي مِنْهَا كَذَا وَكَذَا، فَمَا بَقِيَ فَلَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ جو انسان اپنے غلام سے سونے اور چاندی کے عوض قسطوں کے حساب سے مکاتبت کرتا ہے، وہ ناپسند کرتے کہ وہ کہے، جلدی مجھے اتنا دے دو، جو باقی بچے وہ تیرا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُمَا كَرِهَا فِي الْمُكَاتَبِ أَنْ يَقُولَ: عَجِّلْ لِي، وَأَضَعُ عَنْكَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن اور محمد بن سیرین رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ وہ دونوں مکاتب کے بارے میں ناپسند فرماتے تھے کہ کہا جائے: جلدی رقم ادا کر دو، میں قیمت میں کمی کر دوں گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي رَجُلٍ يَقُولُ لِمُكَاتَبِهِ: عَجِّلْ وَأَضَعُ عَنْكَ: " لَا بَأْسَ بِهِ ". قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ أَصْحَابُنَا: " مَعْنَاهُ عَجِّلْ لِي مَا شِئْتَ وَأُعْتِقُكَ عَلَيْهِ، وَأَضَعُ عَنْكَ كِتَابَتَكَ، فَلَا بَأْسَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مکاتب سے کہا جائے: جلدی ادا کرو میں کمی کروں گا، اس میں کوئی حرج نہیں۔
شیخ ابو ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جلدی ادا کرو جو چاہو، میں اس پر تجھے آزاد کروں گا اور کتابت کو ختم کر دوں گا، کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ ابو ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جلدی ادا کرو جو چاہو، میں اس پر تجھے آزاد کروں گا اور کتابت کو ختم کر دوں گا، کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَكْرَهُ قُطَاعَةَ الْمُكَاتَبِ الَّذِي يَكُونُ عَلَيْهِ الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ ثُمَّ يُقَاطِعُهُ عَلَى ثُلُثِهِ أَوْ رُبُعِهِ، أَوْ مَا كَانَ، وَيَقُولُ: " اجْعَلُوا ذَلِكَ فِي الْعَرْضِ عَلَى مَا شِئْتُمْ ". ⦗٥٦٣⦘ قَالَ الْقَاسِمُ: وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ أَصْحَابُنَا: لَمْ نُجَوِّزْ لِلسَّيِّدِ أَنْ يَأْخُذَ بَدَلَ الدَّرَاهِمِ أَقَلَّ مِنْهُ، لِأَنَّهُ رِبًا.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے کہ مکاتبت کی قیمت میں سے جو سونا اور چاندی ہے اس میں کمائی کی جائے، پھر اس میں ثلث، ربع یا جو ہو سکے، سامان میں جو چاہو مقرر کر لو۔ قاسم کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ خط ابوبکر بن محمد کی طرف لکھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ مِنْ مُكَاتَبِهِ الْعُرُوضَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ مالک اپنے مکاتب کے سامان سے کچھ لے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلَ مِنْ مُكَاتَبِهِ عُرُوضًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آقا اپنے مکاتب کے سامان سے کچھ لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔