کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مالِ کتابت کی ادائیگی میں جلدی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21707
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، ثنا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَاتَبَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَكُنْتُ فِيمَنْ فَتَحَ تُسْتَرَ، فَاشْتَرَيْتُ رَثَّةً، فَرَبِحْتُ فِيهَا، فَأَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِكِتَابَتِهِ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا مِنِّي إِلَّا نُجُومًا، فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " أَرَادَ أَنَسٌ الْمِيرَاثَ "، وَكَتَبَ إِلَى أَنَسٍ: " أَنِ اقْبَلْهَا مِنَ الرَّجُلِ "، فَقَبِلَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
انس بن سیرین رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے 20 ہزار درہم پر مکاتبت کی۔ میں بھی فاتح لوگوں میں سے تھا، میں نے سامان خریدا اور منافع کمایا۔ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس کتابت کی رقم لے کر آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، صرف مقررہ حصہ (قبول کیا)۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگے: ”سیدنا انس میراث چاہتے ہیں“ اور ان کو لکھا کہ ”اس سے (رقم) قبول کر لو“ تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21707
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 21708
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ بِسَبْعِمِائَةِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَكَاتَبَتْنِي عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَأَدَّيْتُ إِلَيْهَا عَامَّةَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَمَلْتُ مَا بَقِيَ إِلَيْهَا، فَقُلْتُ: هَذَا مَالُكِ فَاقْبِضِيهِ، قَالَتْ: لَا وَاللهِ حَتَّى آخُذُهُ مِنْكَ شَهْرًا بِشَهْرٍ، وَسَنَةً بِسَنَةٍ، فَخَرَجْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ادْفَعْهُ إِلَى بَيْتِ الْمَالِ "، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: " هَذَا مَالُكِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَقَدْ عَتَقَ أَبُو سَعِيدٍ، فَإِنْ شِئْتِ فَخُذِي شَهْرًا بِشَهْرٍ، وَسَنَةً بِسَنَةٍ "، قَالَ: فَأَرْسَلَتْ فَأَخَذَتْهُ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی سعید مقبری رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو لیث کی ایک عورت نے ذی المجاز بازار میں مجھے سات سو درہم میں خرید لیا، پھر میں مدینہ آیا تو اس نے چالیس ہزار درہم میں مجھ سے مکاتبت کرلی، میں نے اسی سال وہ رقم ادا کردی، پھر باقی ماندہ اٹھا کر اس کے پاس لے گیا کہ اپنا مال قبضے میں لے لو، وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! میں مہینہ اور سال کے حساب سے لوں گی، میں نے جا کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگے: مال بیت المال میں جمع کرا دو اور اس کو پیغام دیا کہ تیرا مال بیت المال ہے اور ابو سعید آزاد ہے، اگر تو چاہے تو مہینہ اور سال کے اعتبار سے حاصل کرتی رہنا، فرماتے ہیں کہ اس نے پھر مال حاصل کرلیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21708
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 21709
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَجُلًا كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ، فَنَجَّمَهَا نُجُومًا، فَأَتَى بِمُكَاتَبَتِهِ كُلِّهَا، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا إِلَّا نُجُومًا، فَأَتَى الْمُكَاتَبُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى مَوْلَاهُ، فَجَاءَ فَعَرَضَ عَلَيْهِ ⦗٥٦٢⦘ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَإِنِّي أَطْرَحُهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَقَالَ لِلْمَوْلَى: خُذْهَا نُجُومًا، وَقَالَ لِلْمُكَاتَبِ: اذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام سے مقررہ حصہ پر مکاتبت کر لی، وہ اپنی مکمل مکاتبت لے کر آ گیا، اس نے لینے سے انکار کر دیا، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے آقا کو بلایا اور قیمت پیش کی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں بیت المال میں جمع کروا دیتا ہوں۔ اور مالک سے کہا: اپنا مقرر کردہ حصہ لو اور مکاتب سے کہا: جاؤ جہاں تمہارا دل چاہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21709
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 21710
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ مُكَاتَبًا قَالَ لِمَوْلَاهُ: خُذْ مِنِّي مُكَاتَبَتَكَ، قَالَ: لَا، إِلَّا نُجُومًا، فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: " خُذْ مُكَاتَبَتَكَ "، فَقَالَ: لَا، إِلَّا نُجُومًا، فَقَالَ لَهُ: " هَاتِ الْمَالَ، فَجَاءَ بِهِ، فَكَتَبَ لَهُ عِتْقَهُ وَقَالَ: أَلْقِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، فَأَدْفَعُهُ إِلَيْكَ نُجُومًا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَخَذَهُ ". وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، نَحْوَهُ. كَذَا قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عون محمد سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب نے اپنے آقا سے کہا: اپنی مکاتبت کی رقم وصول کرلو۔ اس نے کہا: صرف مقرر شدہ حصہ۔ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مالک کو بلوایا اور فرمایا: اپنی مکاتبت حاصل کرلو۔ اس نے انکار کر دیا کہ صرف مقرر شدہ حصہ لوں گا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مال منگوایا اور بیت المال میں ڈال دیا، اس کو آزاد کر دیا اور کہا: میں تیرا حصہ ادا کروں گا، جب اس نے یہ دیکھا تو پھر مال لے لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21710
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»