السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الوضع بشرط التعجيل، وما جاء في قطاعة المكاتب باب: جلدی ادائیگی کی شرط پر مالِ کتابت میں کمی کرنے، اور مکاتب کے ساتھ آزادی کا سودا (قطاعہ) طے کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21714
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَكْرَهُ قُطَاعَةَ الْمُكَاتَبِ الَّذِي يَكُونُ عَلَيْهِ الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ ثُمَّ يُقَاطِعُهُ عَلَى ثُلُثِهِ أَوْ رُبُعِهِ، أَوْ مَا كَانَ، وَيَقُولُ: " اجْعَلُوا ذَلِكَ فِي الْعَرْضِ عَلَى مَا شِئْتُمْ ". ⦗٥٦٣⦘ قَالَ الْقَاسِمُ: وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ أَصْحَابُنَا: لَمْ نُجَوِّزْ لِلسَّيِّدِ أَنْ يَأْخُذَ بَدَلَ الدَّرَاهِمِ أَقَلَّ مِنْهُ، لِأَنَّهُ رِبًا.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے کہ جس مکاتب کے ذمہ سونا اور چاندی ہو، اس سے اس کے ثلث، ربع یا جو بھی ہو اس پر تصفیہ کر لیا جائے، اور فرماتے: اسے سامان میں جیسے چاہو مقرر کر لو۔ قاسم کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ خط ابوبکر بن محمد کی طرف لکھا۔
شیخ ابو ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے اصحاب نے کہا: ہم مالک کے لیے جائز نہیں سمجھتے کہ وہ دراہم کے بدلے ان سے کم لے، کیونکہ یہ سود ہے۔