السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الوضع بشرط التعجيل، وما جاء في قطاعة المكاتب باب: جلدی ادائیگی کی شرط پر مالِ کتابت میں کمی کرنے، اور مکاتب کے ساتھ آزادی کا سودا (قطاعہ) طے کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21713
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي رَجُلٍ يَقُولُ لِمُكَاتَبِهِ: عَجِّلْ وَأَضَعُ عَنْكَ: " لَا بَأْسَ بِهِ ". قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ أَصْحَابُنَا: " مَعْنَاهُ عَجِّلْ لِي مَا شِئْتَ وَأُعْتِقُكَ عَلَيْهِ، وَأَضَعُ عَنْكَ كِتَابَتَكَ، فَلَا بَأْسَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مکاتب سے کہا جائے: جلدی ادا کرو میں کمی کروں گا، اس میں کوئی حرج نہیں۔
شیخ ابو ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جلدی ادا کرو جو چاہو، میں اس پر تجھے آزاد کروں گا اور کتابت کو ختم کر دوں گا، کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔