السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الوضع بشرط التعجيل، وما جاء في قطاعة المكاتب باب: جلدی ادائیگی کی شرط پر مالِ کتابت میں کمی کرنے، اور مکاتب کے ساتھ آزادی کا سودا (قطاعہ) طے کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21711
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ عَبْدَهُ بِالذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ يُنَجِّمُهَا عَلَيْهِ نُجُومًا، " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَقُولَ: عَجِّلْ لِي مِنْهَا كَذَا وَكَذَا، فَمَا بَقِيَ فَلَكَ ".حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ جو انسان اپنے غلام سے سونے اور چاندی کے عوض قسطوں کے حساب سے مکاتبت کرتا ہے، وہ ناپسند کرتے کہ وہ کہے، جلدی مجھے اتنا دے دو، جو باقی بچے وہ تیرا ہے۔