کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: غلاموں کے تاوان (ضمانت) کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " كَاتَبْتُ عَلَى رَجُلَيْنِ فِي بَيْعٍ أَنَّ حَيَّكُمَا عَلَى مَيِّتِكُمَا، وَمَلِيَّكُمَا عَلَى مُعْدِمِكُمَا "، قَالَ: يَجُوزُ،. وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، وَقَالَ زَعَامَةُ: - يَعْنِي: حَمَالَةً.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: میں نے دو شخصوں سے اس بیع میں مکاتبت کی کہ «حَيُّكُمَا عَلَى مَيِّتِكُمَا وَمَلِيُّكُمَا عَلَى مُعْدِمِكُمَا» ”تم دونوں کا زندہ تمہارے مردے پر ہے اور تمہارا ملی تمہارے معدم پر ہے۔“ انہوں نے فرمایا: یہ جائز ہے، اور یہی عمرو بن دینار رحمہ اللہ اور سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ کا قول ہے، اور انہوں نے کہا: یہ «زَعَامَةٌ» یعنی «حَمَالَةٌ» ”ضمانت ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21633
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " كَاتَبْتُ عَبْدَيْنِ لِي، وَكَتَبْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمَا "، قَالَ: لَا يَجُوزُ فِي عَبْدَيْكَ. وَقَالَهَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: لِمَ لَا يَجُوزُ؟ قَالَ: مِنْ أَجْلِ أَنَّ أَحَدَهُمَا إِنْ أَفْلَسَ رَجَعَ عَبْدًا لَمْ يَمْلِكْ مِنْكَ شَيْئًا..
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: میں نے اپنے دو غلاموں سے مکاتبت کی اور ان پر یہ لکھ دیا (کہ ہر ایک دوسرے کا ذمہ دار ہے)۔ انہوں نے فرمایا: تیرے دو غلاموں میں یہ جائز نہیں۔ سلیمان بن موسیٰ نے بھی یہی کہا ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: یہ کیوں جائز نہیں؟ فرمایا: اس وجہ سے کہ ان میں سے ایک اگر مفلس ہو جائے تو وہ دوبارہ غلام بن جائے گا جو تیری کسی چیز کا مالک نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21634
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي رَجُلٍ يُكَاتِبُ عَبْدَيْنِ جَمِيعًا: حَيُّكُمَا عَلَى مَيِّتِكُمَا، وَمُعْدِمُكُمَا عَلَى مَلِيكُمَا؟ قَالَا: " لَا يَجُوزُ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ اور عطاء رحمہما اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے دو غلاموں سے اس شرط پر مکاتبت کرتا ہے کہ تمہارا زندہ تمہارے مردے پر ہے اور تمہارا معدم تمہارے ملیہ پر ہے، انہوں نے فرمایا: یہ جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21635