کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 21636
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُرْوَى أَنَّ مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ فَهُوَ رَقِيقٌ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”روایت کیا جاتا ہے کہ جس شخص نے اپنے غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی، پھر اس (غلام) نے دس اوقیہ کے سوا سب ادا کر دیے، تو وہ (پھر بھی) غلام ہی ہے...“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21636
حدیث نمبر: 21636
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا هَمَّامٌ، عَنِ الْعَلَاءِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُكَاتَبٍ كُوتِبَ عَلَى أَلْفِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا مُكَاتَبٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشَرَةَ دَنَانِيرَ، فَهُوَ عَبْدٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ: " أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ ". وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ..
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس سے ایک ہزار اوقیہ پر مکاتبت کی گئی، اس نے دس اوقیوں کے علاوہ سب ادا کر دیے تو وہ غلام ہی ہے اور جس سے ایک سو دینار پر مکاتبت کی گئی، اس نے تمام ادا کر دیے لیکن دس دینار باقی تھے، وہ غلام ہی ہے۔“
(ب) عمرو بن عاصم اور ابو ولید کی روایت میں ہے کہ ”جس غلام سے سو دینار کے عوض مکاتبت کی گئی، اس نے تمام ادا کر دیے، صرف دس دینار اس کے ذمہ تھے تو وہ غلام ہی رہے گا اور جس غلام سے سو اوقیہ کے عوض مکاتبت کی گئی، صرف دس اوقیے باقی رہ گئے تو وہ غلام ہی رہے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21636
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
حدیث نمبر: 21637
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ⦗٥٤٥⦘ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: " مِائَةِ أُوقِيَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عباس جریری رحمہ اللہ نے ذکر کیا، فرماتے ہیں کہ 100 اوقیہ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21637
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 21638
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مکاتب غلام ہی رہے گا، جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21638
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 21639
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، فَقَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ كَاتَبَ غُلَامَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَعَجَزَ عَنْ عَشْرِ أَوَاقٍ فَهُوَ رَقِيقٌ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ: وَلَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا رَوَى هَذَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، وَعَلَى هَذَا فُتْيَا الْمُفْتِينَ..
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ ”جو آدمی سو اوقیہ کے عوض اپنے غلام سے مکاتبت کرتا ہے، اگر غلام دس اوقیے ادا کرنے سے عاجز آجائے تو وہ غلام ہی رہے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21639
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 21640
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَتَأْذَنُ لِي فَأَكْتُبُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، فَكَانَ أَوَّلَ مَا كَتَبَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ: " لَا يَجُوزُ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَاحِدٍ، وَلَا بَيْعٌ وَسَلَفٌ مَعًا، وَلَا بَيْعُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَمَنْ كَانَ مُكَاتَبًا عَلَى مِائَةِ دِرْهَمٍ فَقَضَاهَا كُلَّهَا إِلَّا عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَهُوَ عَبْدٌ "، أَوْ " عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَقَضَاهَا كُلَّهَا إِلَّا أُوقِيَّةً فَهُوَ عَبْدٌ ". كَذَا وَجَدْتُهُ، وَلَا أَرَاهُ مَحْفُوظًا..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ ﷺ سے (احادیث) سنتے ہیں، تو کیا آپ ﷺ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں لکھ لیا کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ وہ کہتے ہیں کہ پہلی چیز جو رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کی طرف لکھی، وہ یہ تھی: ”ایک بیع میں دو شرطیں جائز نہیں، بیع اور سلف اکٹھے جائز نہیں ہیں، اور نہ ایسی بیع جائز ہے جس کی ضمانت نہ دی گئی ہو، اور جس نے سو درہم پر غلام سے مکاتبت کی، اس نے تمام درہم ادا کر دیے سوائے دس درہموں کے، تو وہ غلام ہی ہے، یا سو اوقیہ پر مکاتبت کی، سارے ادا کیے لیکن ایک اوقیہ باقی تھا، تو وہ غلام ہی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21640
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 21641
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ فِي الْمُكَاتَبِ: " هُوَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مکاتب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ غلام ہی ہے، جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21641
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 21642
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ زَيْدٌ يَقُولُ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ "..
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ مکاتبت غلام کے بارے میں فرماتے تھے کہ جب تک اس کی مکاتبت سے کوئی چیز باقی ہے وہ غلام ہی ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان شرط جائز ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21642
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 21643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ "، فَقَالَ لَهُ - يَعْنِي: الشَّعْبِيَّ: إِنَّ شُرَيْحًا كَانَ يَقْضِي فِيهَا أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى مَوَالِيهِ - يَعْنِي: إِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ، مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ، وَمَا بَقِيَ فَلِوَرَثَتِهِ، فَقَالَ: شُرَيْحٌ يَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ عَبْدِ اللهِ..
حافظ ثناء اللہ
شعبی، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام ہی رہے گا جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو۔ شعبی نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ قاضی شریح فیصلہ فرماتے تھے کہ جب مکاتب فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ مکاتبت باقی ہو اور کچھ وراثت بھی باقی ہو تو قاضی شریح، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والا فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21643
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 21644
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں، وہ کہتے تھے کہ مکاتب غلام ہی رہے گا، جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21644
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 21645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ الضَّرِيرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: " مَنْ هَذَا؟ "، فَقُلْتُ: سُلَيْمَانُ، قَالَتْ: " كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ مُكَاتَبَتِكَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: عَشْرُ أَوَاقٍ، قَالَتْ: " ادْخُلْ، فَإِنَّكَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْكَ دِرْهَمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: سلیمان۔ پوچھا: تیری مکاتبت کی کتنی رقم باقی ہے؟ میں نے کہا: ١٠ اوقیے۔ فرمایا: آجاؤ۔ آپ غلام ہی ہیں، جب تک آپ کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21645
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 21646
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا سَبْلَانَ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ يَذْكُرُ أَنَّهُ كَانَ يَكْرِي عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، قَالَ: فَكَاتَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَوَقَفْتُ بِالْبَابِ، فَاسْتَأْذَنْتُ اسْتِئْذَانًا لَمْ أَكُنْ أَسْتَأْذِنُهُ، فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ وَقَالَتْ: " يَا بُنِيَّ، مَا لَكَ لَا تَدْخُلُ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كَاتَبْتُ، قَالَتْ: " فَادْخُلْ عَلَيَّ مَا كَانَ عَلَيْكَ دِرْهَمٌ، فَإِنَّكَ لَا تَزَالُ مَمْلُوكًا مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ كِتَابَتِكَ دِرْهَمٌ "..
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسلم مدنی فرماتے ہیں کہ میں نے سالم سبلان غلام سے سنا، فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ام المومنین کا حج اور عمرہ کے سفر میں توشہ کم پڑ گیا، کہتے ہیں کہ میں نے مکاتبت کر لی، پھر میں دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، میں نے اجازت طلب کی تو انہوں نے انکار کیا اور کہنے لگیں: اے بیٹے! تم داخل کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کہا: اے ام المومنین! میں نے مکاتبت کر لی ہے، فرمانے لگیں: آپ گھر میں آیا کریں، جب تک آپ کے ذمے ایک درہم بھی باقی ہے، آپ غلام ہی رہیں گے جب تک آپ کی مکاتبت سے ایک درہم بھی باقی رہے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21646
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 21647
قَالَ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " إِنْ كُنَّ أُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ لَيَكُونُ لِبَعْضِهِنَّ الْمُكَاتَبُ فَتَكْشِفُ لَهُ الْحِجَابَ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ، فَإِذَا قَضَى أَرْخَتْهُ دُونَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن اپنے مکاتب غلام سے پردہ نہیں کرتی تھیں، جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی ہو۔ جب وہ پیسے ادا کر لیتا تو پردہ شروع کر دیتیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21647
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 21648
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: " كَانَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْتَجِبْنَ مِنْ مُكَاتَبٍ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِينَارٌ ". وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرُوِيَ عَنْهُ كَمَا:.
حافظ ثناء اللہ
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں رضی اللہ عنہن اپنے مکاتب غلام سے پردہ نہیں کرتی تھیں، جب تک ایک درہم بھی ان کے ذمہ باقی رہتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21648
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 21649
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٥٤٧⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
معبد جہنی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام ہی ہے جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21649
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 21650
وَرُوِيَ عَنْهُ، كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ السُّوَائِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا أَدَّى الْمُكَاتَبُ النِّصْفَ لَمْ يُسْتَرَقَّ " الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَا يَثْبُتُ سَمَاعُهُ مِنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَهُوَ إِنْ صَحَّ فَكَأَنَّهُ أَرَادَ أَنَّهُ قَدْ قَرُبَ أَنْ يَعْتِقَ، فَالْأَوْلَى أَنْ يُمْهَلَ حَتَّى يَكْتَسِبَ مَا بَقِيَ، وَلَا يَرُدَّ إِلَى الرِّقِّ بِالْعَجْزِ عَنِ الْبَاقِي، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مکاتب نصف قیمت ادا کر دے تو وہ غلام نہیں رہتا۔
نوٹ: ان کا ارادہ یہ ہے کہ جب وہ آزادی کے قریب پہنچ جائے تو اس کو مہلت دینی چاہیے کہ وہ کما کر باقی ادا کر دے نہ کہ دوبارہ غلامی کی طرف لوٹا دیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21650
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 21651
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: طَلَّقَ مُكَاتَبٌ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَنْزَلَهُ مَنْزِلَةَ الْعَبْدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مکاتب غلام نے اپنی بیوی کو عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں طلاق دے دی تو انہوں نے اس کے ساتھ غلام والا معاملہ کیا۔
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب پر غلام والی حد لگائی جائے گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21651
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»