السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: حمالة العبيد. باب: غلاموں کے تاوان (ضمانت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 21634
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " كَاتَبْتُ عَبْدَيْنِ لِي، وَكَتَبْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمَا "، قَالَ: لَا يَجُوزُ فِي عَبْدَيْكَ. وَقَالَهَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: لِمَ لَا يَجُوزُ؟ قَالَ: مِنْ أَجْلِ أَنَّ أَحَدَهُمَا إِنْ أَفْلَسَ رَجَعَ عَبْدًا لَمْ يَمْلِكْ مِنْكَ شَيْئًا..حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: میں نے اپنے دو غلاموں سے مکاتبت کی اور ان پر یہ لکھ دیا (کہ ہر ایک دوسرے کا ذمہ دار ہے)۔ انہوں نے فرمایا: تیرے دو غلاموں میں یہ جائز نہیں۔ سلیمان بن موسیٰ نے بھی یہی کہا ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: یہ کیوں جائز نہیں؟ فرمایا: اس وجہ سے کہ ان میں سے ایک اگر مفلس ہو جائے تو وہ دوبارہ غلام بن جائے گا جو تیری کسی چیز کا مالک نہیں۔